نااہلی تاحیات نہ ہو تو الیکشن لڑنے کا حق رہتا ہے،چیف جسٹس

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں )سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی مدت کیس میں عدالت نے عدم پیشی پر انہیں آج طلب کرنے کیلئے دوبارہ نوٹس جاری کردیا ،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ نہیں چاہتے کسی کو موقف پیش کرنے کا موقع نہ ملے، اس لیے ان لوگوں کو بھی نوٹس جاری کیے جو فریق نہیں تھے۔منگل کو سپریم کورٹ میں نااہلی کی مدت کے تعین کے کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ پی ٹی ائی کے رہنما جہانگیر ترین پیش ہوگئے۔14 ارکان اسمبلی نے ائین کے ارٹیکل 62 ون ایف کی تشریح اور نااہلی کی مدت کے تعین کیلئے درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں اور عدالت نے تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ کسی کو موقف پیش کرنے کا موقع نہ ملے، دو نام ذہن میں آئے ایک نواز شریف دوسرا جہانگیر ترین، ہم نے ان کو بھی نوٹس جاری کئے جو فریق نہیں تھے، جہانگیر ترین عدالت میں موجود ہیں، جو لوگ اس آرٹیکل کے متاثر ہیں وہ عدالت سے رجوع کریں۔درخواست گزار سمیع بلوچ کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ یہ آپشن بھی ہو سکتا ہے کہ عدالت عوامی نوٹس جاری کرے، دوسرا آپشن ہے کہ اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا جائے۔ چیف جسٹس نے وکیل منیر ملک سے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالتی معاون بن سکتے ہیں، آپ ان مقدمات میں ملوث تو نہیں؟ وکیل منیر ملک نے جواب دیا کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔عدالت نے منیر ملک اور علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے آرٹیکل 62 کے دیگر متاثرین کو بھی نوٹس جاری کردیا۔ میاں نوازشریف کی طرف سے کوئی بھی پیش نہ ہوا جس پر چیف جسٹس نے میاں نواز شریف کو اج (بدھ کو) طلب کرنے کیلئے دوبارہ نوٹس جاری کر دیا۔قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر آئین کے آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت نااہلی تاحیات نہیں تو الیکشن لڑنا ہر کسی کا حق ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں5رکنی لارجر بینچ نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق آرٹیکل62ون ایف کی تشریح کے لیے13درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جس میں دوپہر2بجے تک وقفہ کیا گیا ہے۔ آج سماعت کے سلسلے میں نوازشریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کو کل پیش ہونے کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کر دیا، نوازشریف کو عدالت میں اپنے وکیل کے ذریعے بھی حاضری یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔ عدالت عظمی نے منیر اے ملک ایڈووکیٹ اور بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب کیس کی سماعت کا سوچا تو نواز شریف اور جہانگیر ترین کا نام ذہن میں آیا، اسی لیے دونوں کو نوٹس جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلے سے جہانگیر ترین متاثر ہوئے وہ آگئے ہیں، نوازشریف کو نوٹس جاری کیا وہ نہیں آئے، کوئی آتا ہے تو آئے نہیں اتا تو نہ آئے، اگر نواز شریف کی طرف سے کوئی نہیں آیا تو یکطرفہ فیصلہ دیں گے اور میرٹ پر دیں گے، ہم سب کو سننا اور سب کا موقف لینا چاہتے ہیں۔ سماعت کے موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا 62 ون ایف کے 5 اصول غیر مسلم پر بھی لاگو ہوتے ہیں؟ اس پر بابر اعوان نے کہا کہ نہیں یہ اسلامی اصول ہیں اسی لیے صرف مسلمانوں پر لاگو ہوں گے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ یہ کوالٹیز سب میں ہونی چاہئیں، یہ اسلامی اصول یونیورسل ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اقلیتی ممبران قومی اسمبلی میں بھی یہ خصوصیات ہونی چاہئیں۔ جہانگیر ترین کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس فیصلے سے آنے والے وقت میں سب نے متاثر ہونا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات نہیں تو الیکشن لڑنا ہر کسی کاحق ہے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو عدالت نے نااہل کیا ہے تو آئینی راستے سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں 28 جولائی کے فیصلے میں میاں نوازشریف کو نااہل قرار دیا جس کے بعد وزارت عظمی سے سبکدوش ہوگئے۔ جب کہ عدالت عظمی نے جہانگیر ترین نااہلی کیس میں تحریک انصاف کے رہنما کو نااہل قرار دیا ہے۔
اسلام آباد(صباح نیوز) عدالت عظمی نے مردان میںزیادتی کے بعد قتل ہونے والی 4سالہ بچی اسماء کے مقدمہ میں خیبر پختونخواپولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی پولیس لوگوں کوہراساں کررہی ہے اس کے پاس تحقیقات کاکوئی میکانزم نہیں ہے ۔ منگل کے روزچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میںتین رکنی بینچ نے مردان میںزیاتی کے بعد قتل ہونے والی 4سالہ بچی عاصمہ کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی جی خیبرپختونخوا پولیس سے استفسار کیاکہ ہمیں واقعہ کا پس منظر دیں ، جس پر ڈی آئی جی نے بتایاکہ 3 جنوری کو واقعہ پیش آیا، لڑکی 4 سال کی تھی، اگلے دن بچی کی لاش کھیتوں سے ملی توپوسٹ مارٹم کرانے کے بعدفرانزک کے نمونے پنجاب بھجوائے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیاخیبر پختونخو امیں فرانزک لیب نہیں ہے ، ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ کے پی کے کی فرانزک لیب اگلے ہفتے تک فعال ہو جائے گی اورمعاملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے جس آئی ایس آئی، آئی بی ،ایم آئی یولیس ،اسپیشل برانچ کے لوگ شامل ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ آپ ابھی تک ملزم پکڑنے میں ناکام ہیں لیکن بہت سنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس بہتر ہو گئی ہے ، اس دوران چیف جسٹس نے خیبر پختونخواپولیس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کوہاٹ میں قتل ہونیوالی لڑکی عاصمہ کا بھی ذکرکیا ۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکتنے عرصے میں ملزم پکڑا جائے گا بہت سناتھا کے پی کے پولیس بہت بہتر ہوگئی ہے آئی جی کے پی کے کدھر ہیں ؟ کوہاٹ میں بچی کو قتل کرکے بندابھاگ گیاصوبائی پولیس کیاکررہی ہے ؟ پولیس لوگوں کوہراساں کررہی ہے اس کے پاس تحقیقات کاکوئی میکانزم نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے عدالتی اسٹاف کوفوری معلوت لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ فرانزک لیب لاہور کے ڈی جی سے پوچھاجائے کب تک رپورٹ ملے گی جب تک فرانزک لیب کی رپورٹ نہ آئے تو تحقیقات رک گئی ہیں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کے پی کے پولیس میں صلاحیت نہیں اس لیے کے پی کے پولیس پنجاب پر انحصار کررہی ہے اس دوران ڈی آئی جی نے بتایا کہ اب تک 300 سے زائد افراد سے تحقیقات کی گئی ہیں 16جنوری کوفرانزک لیب کو نمونے موصول ہوئے تاہم ابھی تک فرانزک لیب سے رپورٹ نہیں ملی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ نوٹس اپنی بیٹی کے لیے لیاہے ۔ 4سالہ اسما کاوالد عدالت میں پیش ہوا تو چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیاپولیس آپ کو سمجھاکر آئی ہے عدالت میں نہیں بولنا چیف جسٹس کے استفسار پر والد نے بتایاکہ پولیس تعاون کررہی ہے کوئی شکایت نہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں تو شکایت ہے یہ کے پی پولیس کی مکمل ناکامی ہے ۔ قصور میں قتل ہونے والی بچی زینب کے والد سے پولیس نے نعش ریکوری پر دس ہزار مانگ لیے ۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ 280مشتبہ افرادکے نمونے لیے ہیں نمونے لے کرباچہ خان میڈیکل کالج میں محفوظ رکھے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ مشتبہ افراد کے نمونے لاہور لیب کیوں نہیں بھیجے ؟ ڈی آئی جی نے جواب دیا کہ فرانزک لیب کو آج نمونے بھیجنے کاکہاہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیاکہ کیاڈی این اے کے علاوہ پولیس کی اپنی تحقیقات نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پولیس کی اپنی مخبریاں کدھر گئیں ۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی گئی۔
