برنالہ،خوبرودوشیزائیں بھیک کی آڑ میں دعوت گناہ دینے لگیں،نوجوان نسل تباہ
برنالہ ( تحصیل رپورٹر ) برنالہ غیر ریاستی باشندوں نوجوان لڑکیوں کا بھیک مانگنے کا کام بڑی تیزی سے بڑے پیمانے پر پہنچ گیا، پولیس وانتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی، برنالہ فقیروں ،سائلوں ، گداگر وں ،بھیک مانگنے والوں میں زیادہ تعداد کم سن بچیوں ،نوجوان لڑکیوں کی ہونے سے گناہ ، معاشرتی برائیوں میں اضافہ مارکیٹ بازاروں میں سرے عام کم سن بچیاں ،نوجوان لڑکیاں دعوت گناہ دیتی ہیں ،غیر ریاستی باشندوںکی بھرمار پاکستان کے دوردرآز مختلف علاقوں سے آنے والی ان کم سن اور نوجوان لڑکیوں کو گاڑیوں میں اتارا جاتا ہے جن میں نشے کے عادی ،بھیک مانگوانے والے مافیا بااثر افراد پس پردہ رہ کرہزاروں روپے بٹورتے ہیں اوران بے بس لڑکیوںسے گناہ کروا رہے ہیں ،پولیس و انتظامیہ خاموش تماشائی بن چکی ہے کوئی کاروائی تاحال عمل میں نہیں لائی گئی ۔تحصیل برنالہ چیک پوسٹوں کا نظام انتہائی ناقص نظام ہونے کے باعث غیر ریاستی باشندے مختلف انڑی پوائنٹس سے برنالہ داخل ہوتے ہیںجنکے شناختی کارڈ چیک نہیں کیے جاتے ۔ سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پورا دن نوجوان لڑکیاں کارکیٹوں ،بازاروں میں گھوم پھر کر دعوت گناہ دیتی ہیں اور دن کے اختتام پر دوبارہ انکو گاڑیاں لینے آتی ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ انکو گرہوں یا ٹولیوں کی شکل میں بھیجا جاتا ہے ان بھیک مانگنے والے مافیا کو فل فور پکڑ کر جیل کی سلاخوںکے پیچھے بند کرنا چاہیے تحصیل بدر کرنے سے دوبارہ کچھ عرصہ بعد رونما ہو جاتے ہیں ۔دوران سروے جب ان نوجوان لڑکیوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کہاں سے آئی ہیںیا شناختی کارڈ دیکھائیں تو انکے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا یا پھر قریبی علاقے کا نام لیکرٹال مٹول کر دیتی ہیں۔تحصیل برنالہ میں مستحق معذور افراد کی تعداد بہت کم ہے جو بازاروں میں بھیک مانگتے ہیں اسکے مقابلے میں کم سن و نوجوان لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے جو بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ گناہ کی ترغیب میں مشغول رہتی ہیں ۔نشے کے عادی نوجوان ،اڈوں پر موجود لوسر باز گروہ مختلف معاشرتی برائیوں گناہ کر رہے ہیں انتظامیہ و پولیس کو وقتی کاروائیوں کی بجائے منظم حکمت عملی سے غیر ریاستی باشندوں ،بھیک مانگنے والی نوجوان لڑکیوں کا داخلہ مکمل بند کر نا چاہیے ۔تحصیل برنالہ کے اندر بے شمار مجبور غریب یتیم بے سہارا مستحق افراد و بیوہ خواتین موجود ہیں جنکا حق یہ بھیک مافیا ، نوجوان لڑکیاں مار رہی ہیں ،کھرے کھوٹے کی پہچان ختم ہوتی جا رہی ہے مخیر حضرات تو غریبوں مساکین یتیموں کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن ان بھیک مافیا غیر ریاستی باشندوں نے انت مچا رکھی ہے۔
