مظفرآباد میں پنجاب سے آنیوالے مضر صحت دودھ کی درآمد کا سلسلہ تھم نہ سکا

مظفراباد(صباح نیوز)دارلحکومت مظفراباد میں پنجاب سے انے والے مضر صحت دودھ کی درامد کا سلسلہ تھم نہ سکا شہری مضر صحت دودھ استعمال کرنے پر مجبور! مختلف علاقوں میں بڑی بڑی ملک شاپس میں مضر صحت دودھ منہ مانگی ریٹ پر فروخت ہورہا ہے جس سے معدے میں تکلیف ، انکھوں کی بینائی میں کمی ،یاداشت کا کمزور ہونے سمیت دیگر درجنوں بیماریاں عام ہوگئی ، کوئی پوچھنے والا نہیں ۔تفصیلات کے مطابق دارلحکومت مظفراباد میں پنجاب بلخصوص سرگودھا ،گوجرانوالہ سیالکوٹ سمیت دیگر علاقوں سے پانی کے ٹینکوں میں لائے جانے والا دودھ جو مظفراباد کے مختلف علاقوں میں قائم دودھ کی شاپس میں سپلائی کیا جارہا ہے جو اگے عوام کو منہ مانگی ریٹس پر یومیہ کی سطح پر فروخت کررہے ہیں وہاں متحدہ مرتبہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پابند ی کے باوجود بااثر شخصیتوں کی مداخلت سے دودھ کی سپلائی دوبارہ شروع کی جاتی ہے وہاں حیران کن بات سامنے ائی ہے کہ جس دودھ کو تازہ اور فریش دودھ کا نام دے کر فروخت کیا جارہا ہے وہ دودھ پنجاب کے مختلف علاقوں میں 4سے 5روز پرانا اور باسی دودھ اکھٹا کرکے اُس میں مخصوص کیمیکل ڈال کر پانی کے ٹینکروں میں دودھ مظفراباد لایا جاتا ہے وہ کس حساب سے تازہ اور فریش ثابت ہوگا؟ وہاں مخصوص ٹرک پنجاب کے مختلف علاقوں میں دودھ جمع کرتے ہیں جبکہ مظفراباد میں ہر 12گھنٹے بعد دودھ کا ٹرک پہنچ اتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں مختلف قسم کی بیماریوں نے جنم لے لیا ہے مگر مضر صحت کی سپلائی کا عمل نہ رک سکا عدالت عالیہ نے نوٹس لے کر دود ھ کی سپلائی بند تو کی تھی جس پر حکم دیا گیا تھا کہ دودھ کا سمپل لیبارٹری میںچیک کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائیگا مگر بااثر شخصیتوں نے دودھ کے سمپل تبدیل کرکے دودھ کو بھی صحیح قرار دے دیا جو کہ سوالیہ نشان ہے ؟ عوام نے ایک بار پھر چیف جسٹس ازادکشمیر سے اپیل کی ہے کہ وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے باہر سے انے والے دودھ پر فوری طور پر پابندی لگا کر ازادکشمیر سمیت مظفراباد میں کھولی جانے والی ملک شاپس کو سیل کرکے مالکان کے خلاف فوری طور پر کاروائی کی جائے تاکہ عوام مضر صحت دودھ سے نجات حاصل کرسکے ۔
