ہزاروں نفوس کی آبادی پر مشتمل زچہ و بچہ سنٹر ناڑہ کئی سالوں سے غیر فعال

جنڈ:ہزاروں نفوس کی آبادی پر مشتمل واحد زچہ و بچہ سنٹر کئی سالوں سے غیر فعال ڈیلیوری کیسز میں خواتین کو پہاڑی راستے سے اٹک منتقل کرنا جان لیوا ثابت ہونے لگا گزشتہ 5 سالوں میں ایسے کیسز میں 30 سے 35 خواتین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔
اعلیٰ حکام کو متعدد بار درخواستوں اور توجہ دلانے کے کوئی پر سان حال نہیں کروڑوں روپے سے ہونے والی زچہ و بچہ سنٹر کی بلڈنگ کئی سالوں سے غیر فعال ہونے پر بھوت بنگلہ کا منظر پیش کر رہی ہے حکومت پنجاب اور محکمہ صحت کے حکام ہزاروں افراد کی آبادی کے گاؤں ناڑہ میں فوری طور پر اس سنٹر کی بحالی کے احکامات جاری کریں تاکہ مریض خواتین کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے ان خیالات کا اظہار عبدالرزاق چشتی ، سید تنویر حسین شاہ ، راجہ محمد رمضان ولد محمد اسلم، حسین الدین ولد زین دین اور اہلیان علاقہ نے ایک سروے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ہے ۔
ان لوگوں نے بتایا کہ 1988 میں زچہ و بچہ سنٹر ناڑہ گاؤں میں قائم کیا گیا جو کہ کافی عرصہ تک مریض خواتین کو صحت کی سہولیات فراہم کرتا رہا اور ناڑہ اور قرب و جوار کے دیہات کی خواتین کو گھر کے دروازے پر طبی سہولتیں میسر تھیں مگر پھر اس سنٹر سے عملہ واپس بلا کر اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے جس سے مریض خواتین شدید مشکلات کا شکار ہیں اور مریضوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال اٹک 60 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پہنچایا جا تا ہے پہاڑی راستہ ہونے کی وجہ سے ایسی مریض خواتین کی اکثریت کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے جبکہ کئی ایک خواتین راستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں مذکورہ سنٹر اس وقت نہ صرف غیر فعال ہے بلکہ بھوت بنگلہ کا منظر بھی پیش کر رہا ہے اور کروڑوں روپے کی عمارت بند ہونے کی وجہ سے خستہ حال اور بر باد ہوتی جا رہی ہے سروے میں معززین اور اہلیان علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ، صوبائی وزیر صحت اور دیگر حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان حکام کی خدمت میں کئی بار بنیادی ہیلتھ سنٹر کی تعمیر او ر زچہ و بچہ سنٹر کی بحالی اور فعالیت کےلیے درخواستیں دے چکے ہیں مگر ان پر ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہو ئی ہے سروے میں معلوم ہوا کہ گزشتہ سالوں میں بیسیوں خواتین ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں دم توڑ گئیں ناڑہ گاؤں اور قرب و جوار کی آبادیوں میں صحت کی سہولتیں ناپید ہیں اور اس علاقہ کے غریب عوام کو ایمر جنسی کی صورت میں اٹک کے لیے ساڑھے تین ہزار روپے میں ایمبو لینس بک کروانا پڑتی ہے جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد مریض پہنچانے کے لیے پانچ ہزار سے زائد کرایہ مانگا جا تا ہے جوکہ غریب عوام کی پہنچ سے با ہر ہے معززین علاقہ نے اعلیٰ حکام سے ناڑہ گاؤں میں بنیادی ہیلتھ سنٹر بنانے اور زچہ و بچہ سنٹر کو بحال اور فعال کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے ۔
سروے کے دوران سابق چیئرمین یونین کونسل ناڑہ سردار واجد علی خان نے بتایا کہ مذکورہ سنٹر ایک عرصہ تک فعال رہا اور علاقہ بھر کی مریض خواتین کو علاج معالجہ کی سہولیات میسر رہیں مگر بعد میں اس سنٹر کو سارے عملہ کا تبادلہ کر کے غیر فعال کر دیا گیا جس سے علاقہ کی مریض خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران صرف زچگی کیسز میں ناڑہ سے اٹک ہسپتالوں میں خواتین مریضوں کو شفٹ کرتے ہوئے 30 سے 35 خواتین جاں بحق ہو چکی ہیں لاکھوں روپے کی عمارت خستہ حالی کا نمونہ بن چکی ہے اور مزید خراب ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس سنٹر کو بحال اور فعال کر کے علاقہ کی خواتین کو جدید طبی سہولتیں اپنے گھر کی دیلیز پر فراہم کی جائیں تاکہ مریض خواتین جن صعوبتوں اور مشکلات سے گزرتی ہیں علاقہ میں زچہ و بچہ سنٹر کی بحالی پر وہ مشکلات کم ہو سکیں ۔
سروے کے دوران معروف قانون دان سید تنویر حسین گیلانی نے بتایا کہ اس ضمن میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سے لے کر محکمہ صحت کے حکام تک بار بار درخواستیں بھیجوائیں علاقہ میں بنیادی ہیلتھ سنٹر کے قیام کی درخواستوں اور زچہ و بچہ سنٹر کی فعالی کے مطالبے کے باوجود آج تک کہیں بھی کوئی شنوائی نہیں ہو ئی ہے ہمارے علاقہ کے عوام اس ترقی یافتہ دور میں بھی صحت کی جدید سہولتوں سے محروم چلے آرہے ہیں خواتین مریضوں کو بہت ہی مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں حکومت کو چاہیے کہ بنیادی ہیلتھ سنٹر کے قیام کی منظوری اور زچہ و بچہ سنٹر کو فعال کر کے علاقہ کے عوام کے دیرینہ مطالبہ کو فی الفور پورا کیا جائے ۔
