اٹک، تبدیلی کے اثرات، نجی فیکٹری سے450 مزدور فارغ

مزدوروں نے گیٹ پر ڈیرے ڈال دئیے غریب کش پالیسیوں کے خلاف نعرہ بازی اور حکومت سے اصلاح احوال کا مطالبہ
حسن ابدال:تبدیلی سرکار کی ناکام پالیسیوں کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے دنیا بھر میں شہرت کی حامل کمپنی نے کام نہ ہونے کا کہہ کر 450 سے زائد مزدوروں کو نئے سال کا تحفہ دے دیا فیکٹری کو تالے لگا کر انتظامیہ غائب جبکہ مزدوروں نے گیٹ پر ڈیرے ڈال دئیے غریب کش پالیسیوں کے خلاف نعرہ بازی اور حکومت سے اصلاح احوال کا مطالبہ کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں شہرت رکھنے والی کمپنی بھی حکومتی ناکام پالیسیوں سے محفوظ نہ رہ سکی اور یکم جنوری کا سورج طلوع ہوتے ہی کمپنی انتظامیہ کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع کے کمپنی کو بند کر کے گیٹ کو تالے لگا دئیے گئے انتظامیہ کی جانب سے گیٹ پر لگائے گئے نوٹس کے مطابق کمپنی کے پاس کام نہ ہونے اور مشینری کی مرمت کی وجہ سے کمپنی کو بند کر دیا گیا ہے کمپنی اچانک بند ہونے کے باعث 450 سے زائد مزدور بے روزگار ہو گئے جنہوں نے کمپنی کے گیٹ پر اکھٹے ہو کر احتجاج شروع کر دیا ۔
ان کا مطالبہ تھا کہ کمپنی کی جانب سے غیر قانونی طور پر مزدوروں کو نکالا گیا ہے اور اگر مشینری کی مرمت ہونا تھی تو وہ انہیں ورکروں نے کرنا تھی جنہیں کمپنی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے اور انتظامیہ نے کسی ورکر کو اس بارے میں آگاہ بھی نہیں کیا احتجاج کی اطلاع ملنے پر لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے تاہم کمپنی سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے انہیں بھی اندر نہ جانے دیا گیا احتجاج کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کمپنی میں کئی کئی سال نوکری کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں خاص مقام دلوایا مگر انتظامیہ نے ہماری محنت کی قدر نہ کی اور ایک لمحے میں ہم سب کو نوکریوں سے نکال دیا جو سراسر ظلم ہے اس ظالمانہ اقدام کی وجہ سے سینکڑوں گھروں کے چولہے بند ہو جائیں گے اور عمران خان جس نے لاکھوں نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا ان کے دور حکومت میں غریب کے منہ سے نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے کے ایس بی انتظامیہ کو اپنا ظالمانہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرے ۔
