جماعت اسلامی اٹک کے زیر اہتمام ’’تکریم خواتین کانفرنس ‘‘کا اہتمام

اٹک ( ڈیلی اٹک نیوز) مضبوط عورت مضبوط خاندان اور مضبوط قوم قوم کی ضامن ہے ’’ میرا جسم میری مرضی ‘‘ جیسے جاہلانہ اور گمراہ کن نعرے کو مسترد کرتی ہیں ۔
ہم ’’ میری زندگی میرے رب کی مرضی ‘‘ اور ’’ میرا وجود اسلام کا ترجمان ‘‘ کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتیں ہیں مٹھی بھر چند بے ننگ و نام اور بے حیا خواتین پاکستانی عورتوں کی ترجمان نہیں ہو سکتیں ایسی خواتین ملک کی معاشرتی اور تہذیبی فضا کو خراب کرنے سے باز رہیں ہم اسلام کی بیٹیاں ہر محاذ پر ان دین بیزار خواتین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں ملک میں افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گی ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی اٹک کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’ تکریم خواتین کانفرنس ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا جماعت اسلامی کی ناظمہ رخسانہ جبین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عورتوں کے اصل ایشوز پر بات کرنے کی بجائے مغربی فنڈز این جی او زدہ خواتین ملکی اور معاشرتی اساس پر حملہ آور ہیں اور چند پر فریب نعروں کی بنیاد پر قوم کی بچیوں سے شرم و حیاء اور عزت و تکریم کی چادر چھیننا چاہتی ہیں ایسی خواتین کو منہ کی کھانی پڑے گی اور جماعت اسلامی ہر محاذ پر ان کا پیچھا کرے گی اور ان کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔
اسلام نے عورتوں کو وہ عزت و شرف عطا کیا ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب ، ازم یا ملکی قانون نے نہیں دیا اسلام نے زندہ درگور ہونے والی خواتین کو تحفظ ہی نہیں بلکہ عزت و احترام عطا کیا ہے نام نہاد جدید اور ترقی پسند ملکوں اور تحریکوں نے عورت سے ہر قسم کی عزت، سیکیورٹی اور احترام چھین کر اسے جنس بازار بنا دیا ہے اسے ہوس پرست مردوں کے لیے بننا سنورنے اور ناچنے گانے پر مجبور کر دیا ہے بدقسمتی سے ہمارے ملک کی چند حیا باختہ مادر پدر آزاد ایک مٹھی بھر خواتین بھی یہی چاہتی ہیں اس لیے وہ 8 مارچ یوم خواتین کی آڑ میں ملکی فضا کو خراب کرنا چاہتیں ہیں پاکستانی خواتین نے ان کے مغربی تصور ترقی کو رد کر دیا ہے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کا نعرہ پاکستانی مرد و خواتین کے دل کی آواز ہے کانفرنس سے ریحانہ یاسمین، جویریہ بخاری اور دیگر خواتین راہنماؤں نے بھی خطاب کیا کانفرنس کے بعد خواتین نے مسجد الفرقان سے لیکر شیراں والے چوک تک مارچ بھی کیا جو جلسہ عام کی شکل اختیار کر گیا مارچ کی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں حافظ محمد بلال جنرل سیکرٹری ضلع اٹک، خالد محمود امیر زون، شہاب رفیق ملک سابقہ کونسلر ایم سی اٹک، مولانا محمد الیاس انگوی اور امیر شہر میاں محمد جنید نے بھی خطاب کیا عورتوں کو وراثت میں حق یقینی بنانے کے لیے فوری قانون سازی کی جائے تاکہ عورتوں کو وراثت سے محروم کرنے والے عوامی نمائندگی سے نا اہل قرار قرار پائیں نیز عورتوں کے لیے محفوظ اور با عزت ٹرانسپورٹ انتظام کیا جائے قرآن سے شادی، کاروکاری جیسی دیگر ظالمانہ رسومات کا خاتمہ کیا جائے ذراءع ابلاغ میں خواتین کو حقیقی عزت و وقار دلوایا جائے اور عورتوں کو اشتہارات میں سامان بیچنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو مردوں کے مساوی تنخواہ دی جائے ہر ضلع میں خواتین یونیورسٹی اور مکمل خواتین ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے مختلف شعبہ زندگی میں عورتوں کی اسلامی اصولوں کے مطابق نمائندگی کو یقینی بنایا جائے عورت اور خاندان کی حیثیت اور حقوق کو متاثر کرنے والے تمام غیر اسلامی قوانین ختم کیے جائیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا اہتمام کیا جائے عورتوں اور بچوں کی عزت کی پامالی کرنے والے سیاہ بختوں کو سرعام کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ کسی کو بھی عورتوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ ہوسکے ۔
