اٹک ،انسداد دہشتگردی ایکٹ اور قتل کے مقدمات کی رپورٹ طلب

اٹک(ڈیلی اٹک نیوز) ڈی پی او اٹک نے انسداد دہشت گردی ایکٹ اور قتل کی دفعات کے زیر تفتیش مقدمات کی رپورٹ طلب کر لی،سنگین دفعات کے مقدمات کی تفتیش میں تاخیری حربے ناقابل برداشت ہیں۔
آپریشنل اور تفتیشی افسران کے پاس قانون کے نفاذ اور میرٹ پر تفتیش کے لئے تما م وسائل موجود ہیں،کسی بھی مد میں مدعی یا ملزم فریق سے وسائل کا تقاضاپولیس افسران کی بد دیانتی ہو گی جس کے ثابت ہونے پر سخت محکمانہ کارروائی ہو گی،ڈی پی او کا پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب،تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک سید خالد ہمدانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ضلع بھرکے تمام پولیس سرکلز کے ایس ڈی پی اوزاور تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز نے شرکت کی،اجلاس میں ڈی پی او نے انسداد دہشت گردی ایکٹ اور قتل کی دفعات کے تحت درج زیر تفتیش مقدمات کی پراگرس رپورٹ طلب کی،ڈی پی او اٹک نے ہدائت کی کہ ہر پولیس سرکل کا ایس ڈی پی او تھانہ وائیز متعلقہ ایس ایچ او کے ہمراہ ان مقدمات کی پراگرس کے حوالے سے انہیں بریفنگ دے گا،ڈی پی او اٹک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہوتا ہے،سنگین مقدمات کی تفتیش کے حوالے سے اٹک پولیس کو جدید سائنسی ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی دے دی گئی ہے،آپریشنل اور تفتیشی افسران کو وہ تمام وسائل پہلے ہی قواعد و ضوابط کے مطابق افسران کو مہیا کر دئیے گئے ہیں جو ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش کے حوالے سے ناگزیر ہوتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مقدمہ کے اندراج کے بعد اگر کسی پولیس آفیسر نے ملزمان کی گرفتاری یا تفتیشی مراحل کے حوالے سے مدعی یا ملزم فریق سے کسی قسم کے وسائل مانگے اور یہ بات ثابت ہو گئی تو پولیس رولز کے مطابق سخت ترین محکمانہ احتساب ہو گا جس میں ملازمت سے برخاستگی اور رینک سے تنزلی بھی شامل ہیں جبکہ رشوت لینے کی صورت میں قانون کے مطابق فوجداری مقدمات بھی درج ہوں گے،ڈی پی او نے کہا کہ میرے نزدیک ہر وہ اقدام رشوت کے زمرے میں آتا ہے جو گناہ گار کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار بنا دے،وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن اور آئی جی پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں ایسے رویے ہرگز ہرگز برداشت نہیں کئے جائیں گے ایسے رویوں کے حامل افسران اور اہلکاروں کی اٹک پولیس میں کوئی جگہ نہیں۔
