پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں کورونا کے مزید کیسز، ملک بھر میں تعداد 384 ہو گئی

پاکستان میں کورونا وائرس کے آج مزید 80 کیسز سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 384 ہو گئی ہے۔
کورونا وائرس پاکستان سمیت دنیا کے 170 سے زائد ملکوں تک چکا ہے اور اب تک 9 ہزار سے زائد لوگ اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔پاکستان میں بھی گزشتہ روز دو افراد کی کورونا وائرس سے 2 افراد ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ایک ہلاکت مردان اور دوسری پشاور میں ہوئیگزشتہ روز کورونا وائرس سے ہونے والی دو ہلاکتوں میں سے ایک مردان اور دوسری پشاور میں ہوئی۔
سندھ
سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 9 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 217 ہوگئی ہے۔ترجمان محکمہ صحت نے بتایا کہ آج9 کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ایک متاثرہ شخص کے رابطہ میں رہنے والے افراد کے بھی ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ سکھر میں 151، کراچی میں 65 اور حیدرآباد میں کورونا وائرس کا ایک کیس ہے۔سندھ میں آج سے سرکاری دفاتر بند رکھنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جب کہ گزشتہ روز سے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور تفریحی مقامات کو 15 روز کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
سکھر قرنطینہ میں زائرین کی تعداد 1050 ہوگئی
سکھر کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق تفتان سے مزید زائرین کو قرنطینہ سینٹر لایا گیا ہے جہاں زائرین کی تعداد 1050 ہوگئی ہے جب کہ کراچی سے ماہرڈاکٹروں کی ٹیم قرنطینہ سینٹرپہنچ گئی۔ضلع انتظامیہ کا کہنا ہےکہ تفتان بارڈر سے آئے مسافروں کی اسکریننگ کاعمل جاری ہے۔انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کے تحت سکھر کی تمام مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور چائے خانے بند کرادیے ہیں۔
بلوچستان میں مزید کیسز کی تصدیق
بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کورونا وائرس کے 22 نئے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں اب تک 45 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر کوئٹہ کے تمام بڑے شاپنگ مالز ،ریسٹورینٹس اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی حکومت نے ایک ارب روپے سے کورونا فنڈ قائم کردیا جب کہ وزرا، اراکین اسمبلی اور ملازمین اپنی تنخواہیں عطیہ کریں گے۔
پنجاب میں تعداد 78 ہوگئی
پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 78 ہو گئی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد نے بتایا کہ 384 نمونوں کےٹیسٹ کیے جن میں سے 320 نتائج منفی آئے جب کہ 78 افراد کے کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں میں پیپلز پارٹی کے مرحوم سینیٹر کی بیٹی بھی شامل ہیں جو چند روز قبل برطانیہ سے پاکستان پہنچی تھیں۔پنجاب میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی تعدادکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ صوبے میں دکانیں آج رات 10 بجے بند کردی جائیں گی، اس کے علاوہ شاپنگ مالز اور ریسٹورینٹس بھی رات 10 بجے بند کر دیے جائیں گے تاہم میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔ریسکیو 1122 نے کورونا وائرس کے حوالے سے ہیلپ لائن 1190 قائم کر دی جس کا باقاعدہ افتتاح آج کر دیا جائے گا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق کورونا وائرس جیسی علامات محسوس کرنے پر شہری ہیلپ لائن 1190 پر رابطہ کر سکیں گے، ہیلپ لائن کی ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے، آج اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے گا۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن کا مقصد کورونا سے بچاو کے لیے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔
خیبر پختونخوا میں متاثرہ افراد کی تعداد 23 ہوگئی
خیبرپختون خوا میں آج مزید 4 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔گزشتہ روز ضلع بونیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ڈی سی بونیر محمد خالد خان کا بتانا ہے کہ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ شخص کو ڈگر اسپتال آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتہ قبل متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔کورونا وائرس کے باعث خیبر پختونخوا میں ہونے والی دو ہلاکتوں کے بعد پشاور میں کینال روڈ کی ایک گلی کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا ہے جب کہ مردان میں بھی یونین کونسل منگاہ کو لاک ڈاؤن کر کے داخلی و خارجی راستے پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔
گلگت بلتستان میں تعداد 13 ہوگئی
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 13 ہے۔
اسلام آباد میں 7 کیسز
اسلام آباد میں 4 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔
آزاد کشمیر میں ایک کیس
ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر کے مطابق میر پور آئسولیشن وارڈ میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ڈی سی میر پور کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص 14 دن قبل ایران سے تفتان آیا تھا، متاثرہ شخص کو 4 دن سے میر پور آئسولیشن وارڈ میں رکھا ہواتھا۔
