رمضان المبارک میں عبادات کی ادائیگی اور کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر مرتب

اٹک(بیورو رپورٹ ڈیلی اٹک نیوز ) ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک کے جیدعلماء اور مشائخ سے مشاورت کے بعد رمضان المبارک میں عبادات کی ادائیگی اور کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر مرتب کی ہیں۔
جن کے مطابق مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین اور دریاں نہیں بچھائی جائیں گی،صاف فرش پر نماز پڑھی جائیگی،اگر کچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جاسکتی ہے۔جو لوگ گھر سے اپنی جاہ نماز لاکر اس پر نماز پڑھنا چاہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں۔نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے،جن مساجد اور اما م بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہا ں ہال کے اندر نہیں بلکہ صحن میں نماز پڑھائی جائے۔50سال سے زائد عمر کے لوگ،نابالغ بچے،اور کھانسی،نزلہ،زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں۔مسجد کے ا حاطے کے اندر نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے۔مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کے لیے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے،اور اسی محلول کو استعمال کرکے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑ کا ؤبھی کرلیا جائے۔مسجد اور امام بارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیاجائے کے نمازیوں کے درمیان 6فٹ کافاصلہ رہے۔مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنا سکے۔مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین اگر فرش پر نمازیوں کے کھڑے ہونے کے لیے صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہوگی۔وضو گھر سے کرکے مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔صابن سے 20سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔
کسی سے ہاتھ نہ ملائیں اور نہ بغل گیر ہوں۔اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر یہ کرسکتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف کیا جائے۔مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اورسحر کا اجتماعی انتظام نہ کیا جائے۔مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ،آئمہ اور خطیب ضلعی انتظامیہ اور پریس کے ساتھ رابطہ اور تعاون رکھیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جارہی ہے۔اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہورہاہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے،تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرے گی۔اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ مخصوص علاقے کے لیے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے۔ڈی سی اٹک نے عوام سے اپیل کی کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ان احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔
