نوازشریف کو پارٹٰ صدر بنانیکا بل منظور،فرد جرم عائد نہ سکی،بچوں کے ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اسلام آباد(صباح نیوز)احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف دائر 3 نیب ریفرنسز میں فرد جرم عائد نہ کی جا سکی ، عدالت نے سماعت مزید ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے انہیں 9اکتوبر کو دوبارہ طلب کرلیا ، جبکہ عدم حاضری پر ان کے بچوںاور داماد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ۔پیر کو سابق وزیراعظم نواز شریف نیب ریفرنسز میں احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز اور آف شور کمپنیوں سے متعلق 3 نیب ریفرنسز کی سماعت کی ، احتساب عدالت کے روبرو نوازشریف کے بچوں اور داماد کی عدم پیشی پر ان کے وکیل نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلثوم نواز کی بیماری کی وجہ سے ان کے بچے عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور آئندہ تاریخ پر ضرور پیش ہوں گے۔عدالت نے وکلا ء کی یقین دہانی پر بھی ان کے موقف سے اتفاق نہ کرتے ہوئے مریم، حسن، حسین اور کیپٹن(ر)صفدر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ پیشی پر تمام افراد کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔اس سے قبل احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کے خلاف تین ریفرنسز کی سماعت کرتے ہوئے ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے 9 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے ، جس کے بعد نواز شریف پنجاب ہائوس روانہ ہوگئے تھے ۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل محسن شاہ نواز رانجھا نے بتایا کہ فریقین کی جانب سے جرح کی گئی مگر نواز شریف پر فرد جرم نہیں کی گئی ہے،کیس کی مزید سماعت اب پیر کو ہوگی۔محسن شاہ نواز رانجھا کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر پاکستان آنے پر تیار ہیں اور آئندہ پیشی پر وہ احتساب عدالت میں پیش ہونگے، مریم بی بی کلثوم نواز کی علالت کے باعث لندن میں مقیم ہیں ۔ محسن شاہ نواز رانجھا نے کہاکہ نواز شریف کی جانب سے استشنی کی کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے، ہم اس نظام کے لیے عدالتی کارروائی سے بھاگنے کی کوشش نہیں کریں گے ، ہم نے پہلے بھی عدالتوں اور کیسز کا سامنا کیا اور اب بھی کریں گے،جس عدلیہ کیلئے قربانیاں دیں، اسی عدلیہ کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔محسن شاہنواز رانجھا نے سابق آمر جنرل پرویز مشرف کا نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو کمر کی بیماری کا بہانے کرنے والے بھگوڑوں کو دیکھنا چاہیئے، جمہوری لوگ آمر کی طرح عدالتوں سے فرار نہیں مانگتے،اور نہ ہی جھوٹے اور بے بنیاد کیسوں سے سیاست دانوں کی سیاست ختم نہیں ہوتی ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت کے روبرو دوسری مرتبہ پیش ہوئے تاہم کیس میں نامزد دیگر ملزمان حسن، حسین اور مریم نواز سمیت محمد صفدر عدالت میں اب تک پیش نہ ہوئے۔ سابق وزیراعظم کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے اور پولیس کے بجائے رینجرز نے سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔میڈیا نمائندوں کو احتساب عدالت سے باہر نکال دیا گیا جبکہ سینیٹ میں قائد ایوان راجا ظفرالحق اور وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت کابینہ کے متعدد ارکان کو احتساب عدالت کے دروازے پر ہی روک لیا گیا ۔
#/S
دریں اثنا سینیٹ سے ترامیم کے ساتھ منظور ہونے والا انتخابات بل 2017 قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا جس کے بعد سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔ پیر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سینیٹ سے ترامیم کے ساتھ منظور ہونے والا انتخابات بل منظور کیا گیا جسے وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ ایک شخص کے لیے پارلیمنٹ اور جمہوریت کو دا پر لگایا جارہا ہے، انہیں اپنا بھائی بھی پارٹی صدر کے طور پر قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح معاملہ چلتا رہا تو کل اجمل پہاڑی بھی پارٹی صدر بن جائے گا۔ بل کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار تھی۔ اس کے تحت نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی عہدیدار بن سکتا ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور اراکین کی جانب سے شور شرابا کیا گیا جبکہ بل کی کاپیاں بھی پھاڑی گئیں۔ صدر مملکت کے دستخط کے بعد انتخابات بل 2017 قانون بن جائے گا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کو آج شام پانچ بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ قبل ازیں
علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے نوازشریف پر اعتماد کی قرار داد منظور کرلی ہے۔پنجاب ہائوس اسلام آباد میں حکمران جماعت مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹرمشاہداللہ خان نے نوازشریف پر اعتماد اور ان کی 4 سالہ کارکردگی کی قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں توانائی منصوبوں، میٹروبس، موٹروے اور سی پیک منصوبے کی تفصیلات کو حصہ بنایا گیا ہے۔مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر نوازشریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد منظور کرلی ہے جب کہ نوازشریف کی بطور وزیراعظم کارکردگی اور 4 سالہ دور میں ترقیاتی کاموں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مجلس عاملہ نے جماعت کے آئین میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی ہے جس میں پارٹی عہدے کے لئے عدالتی نااہل شخص پر عائد پابندی کو ختم کردیا گیا ہے۔
