الیکشن بل میں ختم نبوت کا حلف نامہ بحال،آج اسمبلی میں نیا بل پیش ہو گا

اسلام آباد(صباح نیوز)حکومت اور اپوزیشن میں انتخابی بل 2017ء میں شامل کاغذات نامزدگی میں عقیدہ ختم نبوتۖ کے حلف نامہ 7Bاور7C کی بحالی پر اتفاق ہو گیا ۔آج (جمعرات کو) حکومت کی طرف سے انتخابی بل میں ترمیمی بل پیش کر دیا جائے گا غلطی کااعتراف کرتے ہوئے تحقیقات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس امر پر اتفاق بدھ کو حکومت اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں کے ہنگامی اجلاس میںہوا ہے۔ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔وزیر قانون وانصاف زاہد حامد، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سید نوید قمر ،پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء شاہ محمود قریشی ، جماعت اسلامی کے رہنماء صاحبزادہ محمد یعقوب، جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنماء وزیر ہائوسنگ و تعمیرات اکرم خان درانی ،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء حاجی غلام احمد بلور، ایم کیو ایم کے رہنماء شیخ صلاح الدین اور دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت نے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کے حوالے سے اپنی غلطی کااعتراف کر لیا ہے ۔اس بات پر اتفاق ہو گیا جو کہ کاغذات نامزدگی کی اصل شکل میں بحالی کے لیے آج قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کر دیا جائے گا ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ غلطی کا احساس ہو گیا ہے یہ تکنیکی اور کلریکل غلطی ہو سکتی ہے۔احساس ہو چکا ہے کہ ا ب اس کو درست کیا جائے گا اور قومی اسمبلی میں ترامیم پیش ہونگی اتفاق رائے سے اس مسئلے کا حل نکالا گیا ہے ۔سپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ ایک پارٹی نے سیون سی کے حوالے سے وقت مانگا ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی سے متعلق یہ انتہائی حساس مسئلہ ہے ۔انتہائی جذباتی مسئلہ بھی ہے ۔ملک بھر میں ہلچل مچ گئی ہے ۔اپوزیشن جماعتوں نے بروقت اس کی نشاندہی کر دی تھی ۔کاغذات نامزدگی اصل شکل میں بحال ہو جائیں گے ۔حکومت فی الفور اپنی غلطی کی اصلاح کرے گی۔ اتفاق رائے ہو گیا ہے ،ترمیم آئے گی ۔حکومت نے غلطی کا احساس کر کے بہتری دکھائی ہے۔صاحبزادہ یعقوب نے کہا کہ ہم نے بروقت ترمیم پیش کر دی تھی۔ ہم اصل شکل میں کاغذات نامزدگی بشمول 7Bاور7C کی بحالی چاہتے ہیں اور ترامیم قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ ہیں حکومت ترامیم پر آمادہ ہو گئی ہے اور مسئلہ حل کیا جا رہا ہے ۔وفاقی وزیر اکرم خان درانی نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمداﷲ نے ترمیم پیش کر دی تھی حکومت نے ساتھ دیا تھا اور قائد ایوان راجہ ظفر الحق  نے سینیٹر حافظ حمد اﷲ کی ترمیم کی حمایت کر دی تھی مگر دو ووٹوں سے یہ ترمیم مسترد کر دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ بروقت غلطی کا احساس کر لیاگیا ہے اس معاملے کی تحقیقات ہونگی اور یہ بات پارلیمانی رہنمائوں کے اجلاس میں کی گئی ہے ۔وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے بتایا کہ ترمیمی بل تیار کرلیا جا رہا ہے آج (جمعرات کو )یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا کاغذات نامزدگی کو اصل شکل میں بحال کیا جا رہا ہے حلف اور اقرار نامہ موجود ہوگا حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اﷲ ترامیم لے آئے تھے مگر اس وقت قومی اسمبلی میں ہلڑ بازی جاری تھی اور جماعت اسلامی کی ترامیم ہلڑ بازی کی نذر ہوگئیں۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے حکومت سے انتخابی بل کی سیاسی جماعتوں سے متعلق شق 203 پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ بل سپریم کورٹ میں چیلنج ہو چکا ہے ملک میں احتجاج شروع ہو چکا ہے وکلاء بھی احتجاج میں شامل ہیں۔ حکومت بل پر نظر ثانی کرے۔ ایم کیو ایم کے رہنماء شیخ صلاح الدین نے کہا کہ مسئلہ کو حل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے کاغذات نامزدگی سے متعلق اس غلطی کی تحقیقاتی ہونی چاہیں۔