مقبوضہ کشمیر :چٹیا کاٹنے کے بعد داڑھی کاٹنے کی وارداتیں شروع

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم افراد کی طرف سے خواتین کی چُٹیا کاٹنے کے پراسرار واقعات کے بعد داڑھی کاٹنے کے واقعات شروع ہوگئے ہیں  انتظامیہ نے مذموم عمل کے حوالے سے چپ سادھ رکھی ہے اوراس نے مجرمو ںکو اب تک بے نقاب نہیں کیا جس پرلوگ انتہائی سراپا احتجاج ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جمعہ کے روز صبح سویرے سرینگر کے علاقوں نٹی پورہ اور پانتھ چوک میں چٹیا کاٹنے کے دوواقعات پیش آئے جن کے خلاف ان علاقوں کے لوگو ں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کیے ۔ وہ مجرموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ بارہمولہ کے پرے محلہ میں دو افراد نے بارھویں جماعت کی ایک طالبہ کی چٹیا اس وقت کاٹ دی جب وہ گلی میں چل رہی تھی۔ مجرموں نے طالبہ کی آنکھوں پر کسی چیز کا سپرے کیا جس کے بعد وہ بیہوش ہو گئی اور اس دوران اسکی چٹیا کاٹ دی گئی۔یاد رہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران وادی کے مختلف علاقوں  میں چٹیا کاٹنے کے پچاس سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں، ادھر ضلع بڈگا م کے علاقے چرار شریف میں پٹلی پورہ کے مقام پر نامعلوم افراد ایک امام مسجد مولوی غلام نبی کی داڑھی اس وقت کاٹ دی جب وہ نماز فجر پڑھانے مسجد جا رہے تھے۔ امام مسجد کو بیہوشی کی حالت میںہسپتال داخل کیا گیا ۔ پولیس نے بھی امام مسجد کی داڑھی کاٹے جانے کی تصدیق کی ہے۔ خواتین کی چوٹی کاٹنے کے واقعات کے خلاف احتجاج کی کال دینے پر کٹھ پتلی حکومت نے حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند کردیا۔مقبوضہ وادی میں خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کی چوٹی کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر حریت رہنما سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت دیگر نے جمعہ کواحتجاج کی کال دی تھی۔احتجاج سے خوفزدہ قابض بھارتی انتظامیہ نے احتجاج کی کال دینے والی حریت قیادت کے خلاف کریک ڈاون شروع کردیا۔یاسین ملک کو جمعہ کی  صبح ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا گیا جبکہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو گھروں میں ہی نظر بند کردیا۔ قابض انتظامیہ نے سری نگر کے سات تھانوں کی حدود میں کرفیو جیسی پابندیاں بھی عائد کردیں۔