امریکہ پرانحصار ختم،بھارت سے پہلے کشمیر پر بات ہو گی،شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد(صباح نیوز) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کرنا ہوگا، وہ وقت گزر گیا ہے جب پاکستان اپنی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکا پر انحصار کرتا تھا، افغانستان کے معاملات میں بھارت کو شامل کرنے کی امریکی خواہش کے سنگین نتائج برآمد ہونگے،ہم یہاں پر بھارت کا کردار نہیں دیکھتے،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پرسب پر واضح کر دیا کہ افغانستان میں پاکستان سے زیادہ کوئی امن کا خواہاں نہیں، پاکستان افغانستان کے مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے،پاکستان امریکہ اور کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات یا شراکت چاہتا ہے، ہماری خواہش ہے کہ امریکہ کے ساتھ مل کر علاقائی اور عالمی مسائل کو حل کیا جائے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ہم نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے دو لاکھ افواج کو تعینات کر رکھا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سے کسی نے زیادہ قربانی نہیں دی ہے جبکہ ہم یہ جنگ اپنے وسائل سے لڑ رہے ہیں، اس جنگ میں پاکستان نے 120 ارب ڈالر سے زیادہ مالی نقصان اٹھایا،یہ ایک بہت مشکل جنگ ہے لیکن ہماری افواج بہتر انداز سے لڑ رہی ہے۔ عرب نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا وہ وقت گزر گیا ہے جب پاکستان اپنی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکا پر انحصار کرتا تھا،دنیا کو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر کسی قسم کی پابندی لگانے سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کرے گی بلکہ اس سے خطے میں بھی عدم استحکام پیدا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک زریعہ بند ہوجائے تو پھر ہمارے پاس دوسرے ذرائع سے رجوع کرنے کے علاوہ کو ئی آپشن نہیں،ممکن ہے کہ اس کی لاگت زیادہ ہو، ہوسکتا ہے کہ اس کے لئے ہمیں مزید وسائل خرچ کرنا پڑے لیکن ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور یہ کہ ہم نے ان تمام لوگوں پر زور دیا ہے جن سے ہم ملے ہیں، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پابندی یا رکاوٹ نہ صر ف دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی ہماری کوششوں پر زثر انداز ہوگی بلکہ اس خطے میں تمام توازن کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج میں امریکی ہتھیاروں کا بڑا نظام ہے لیکن ہم دیگر زرائع بھی استعمال کر رہے ہیں ،ہمارے پاس چینی اور یورپین سسٹمز بھی ہیں اور پہلی بار ہم نے روسی جنگی ہیلی کاپٹر شامل کئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ ہونے والی ملاقات بہت تعمیری تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے استقبالیہ میں مختصر ملاقات بھی ہوئی تھی۔ 21 اگست کو افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لئے اپنے پالیسی بیان میں ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر سخت تنقید کے بعد دونوں اتحادیوں کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ سطح کا رابطہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ شیڈول ملاقات طے نہیں تھی۔ درحقیقت نائب صدر پینس کے ساتھ بھی ملاقات کا کوئی شیڈول نہیں تھا بلکہ یہ ملاقات ان کی درخواست پر ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کا دورہ بنیادی طور پر جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف پیش کرنا تھا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پینس کے ساتھ ملاقات میں جنوبی ایشیا کے بارے میں ٹرمپ کے پالیسی بیان پر اپنے خدشات کا اظہار کیا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ اس بیان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا کیا مطلب ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹیلرسن کے ساتھ ملاقات میں ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خواجہ آصف نے ٹیلرسن کو بتا دیا کہ تمام دہشت گردوں اور عسکری گروپوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان زیرو ٹالرنس رکھتاہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد گروپ کی کوئی پناہ گاہ نہیں اور افغانستان میں امن کے لئے دہشت گردوں کو تباہ کرنا ہمارے مشترکہ مفاد میں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم شراکت دار ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جس سے بھی ملے ہیں ان سب پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں پاکستان سے زیادہ کوئی امن کا خواہاں نہیں، پاکستان افغانستان کے مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان کے معاملات میں بھارت کو شامل کرنے کی امریکی خواہش کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ہم کسی بھی چیز بالخصوص افغانستان کے مسئلے کے حل میں مدد دینے کے لئے پاکستان امریکہ کے تعلقات میں بھارت کی شمولیت پر یقین نہیں رکھتے، ہم یہاں پر بھارت کا کردار نہیں دیکھتے۔ بھارت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ تعلق بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونا چاہئے۔ پاکستان امریکہ اور کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات یا شراکت چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ امریکہ کے ساتھ مل کر علاقائی اور عالمی مسائل کو حل کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ہم نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے دو لاکھ افواج کو تعینات کر رکھا ہے۔ اس جنگ میں ہماری فوج کے 65 ہزار جوان اور افسران شہید ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں سمیت 21 ہزار شہریوں نے بھی اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ تقریباً 35 ہزار افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سے کسی نے زیادہ قربانی نہیں دی ہے جبکہ ہم یہ جنگ اپنے وسائل سے لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں پاکستان نے 120 ارب ڈالر سے زیادہ مالی نقصان اٹھایا۔ یہ ایک بہت مشکل جنگ ہے لیکن ہماری افواج بہتر انداز سے لڑ رہی ہے۔
