مریم اور صفد عدالت پیش،حسن اور حسین نواز اشتہاری قرار،نوازشریف پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 13اکتوبر کو طلب

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے خاوند کیپٹن(ر)صفدر کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہو گئیں۔ عدالت نے 50،50 لاکھ کے مچلکوں کے عوض دونوں ملزمان کی نیب ریفرنسز میں ضمانت منظور کر لی ہے جبکہ نوازشریف کی حاضری سے ایک روز کے استثنیٰ کی درخواست بھی منظورکرلی گئی ہے تاہم 15روزکا وقت دینے کی استدعامسترد کرتے ہوے تینوںملزمان نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کوفرد جرم عائدکرنے کیلئے 13اکتوبرکوہونے والی سماعت پر ذاتی حیثیت میں ہر صورت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔مریم نواز، کیپٹن صفدر کی طرف سے ضمانتی مچلکے جمع کرا دیئے گئے، وزیر مملکت طارق فضل چودھری نے مریم نواز جبکہ ربنواز عباسی نے کیپٹن صفدرکے ضمانتی مچلکے جمع کرائے ۔پرویز رشید اور آصف کرمانی نے بطور گواہ دستخط کیے۔ عدالت نے نیب کی جانب سے کیپٹن (ر)صفدر کو جیل بھجوانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر تے ہوئے انہیں رہا کردیاہے ا ور ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بیرون ملک جانے سے پہلے عدالت سے اجازت حاصل کرینگے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو تینوں ریفرنسز کی نقول پر مشتمل 53،53 جلدیں فراہم کیں۔ عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے حسین نواز اور حسن نواز کو اشتہاری قرار دینے کا عمل شروع کردیا ہے ملزمان کے وارنٹ بارے اشتہار اخبار ات میں شائع کئے جائیں گے جس میں ان کو پیش ہونے کے بارے میں کہا جائے گا اشتہار کے بعددونوں بھائیوں کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پیش ہونے والے ملزمان کے مقدمات کو الگ کرکے ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی ۔ سماعت کا آغاز ہوا تو پراسیکیوٹر نیب نے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف عدالت کو بتائے بغیر غیرحاضر ہیں اس لئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں،نیب کے وکیل نے کہا کہ اس کیس میں ایک ہی ملزم ہے جو پیش ہو رہا ہے اگر حاضری سے استثنی دے دیا تو دیگر ملزمان بھی عدالت میں پیش نہیں ہو ں گے ،نیب نے حسین نواز اور حسن نواز کی عدم گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی۔ تاہم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے پراسیکیوٹر کے موقف کی مخالفت کی۔ اس دوران عدالت نے استفسار کیا کہ نوازشریف آج کیوں پیش نہیں ہوئے اور باقی ملزمان کہاں ہیں؟ جس پر خواجہ حارث نے کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کلثوم نواز علیل ہیں، خاندان کے دیگر افراد ان کے ہمراہ لندن میں ہیں۔ انہوں نے نوازشریف کی طرف سے ایک روز کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کرتے ہوئے بتایا کہ نوازشریف کی اہلیہ علیل ہیں اور ان کی لندن روانگی کے بعد کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی۔ بدقسمتی سے نوازشریف حاضر نہیں ہو سکے اس لئے انہیں 15 روز کی مہلت دی جائے۔فاضل جج نے استفسار کیاکہ کیایہ استثنی آج کا ہی ہے کیونکہ پہلے ہی ایک استثنی کی درخواست عدالت میں موجود ہے جس پرغور کیا جارہاہے تو خواجہ حارث نے کہاکہ درخواست آج کے استثنی کیلئے ہے تاہم کیس کی سماعت15روز کیلئے ملتوی کی جائے، اس دوران پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ استثنیٰ کی یہ دوسری درخواست ہے تاہم جب تک ٹرائل شروع نہیں ہوتا ملزم عدالت سے غائب ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 92 کے تحت نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں کیونکہ وہ عدالت کو بتائے بغیر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔جبکہ دیگر ملزمان بھی پیش نہیں ہوئے جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استثنیٰ کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا،اس دوران پراسیکیوٹرمحمد افضال قریشی نے کہا کہ جب عدالتی سمن گئے تو ملزم پیش نہیں ہوئے اب ان کو ضمانت دینا ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کا اختیار ہے ۔انہوں نے پاسپورٹ ضبط کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کیپٹن(ر)صفدر کا جوڈیشل ریمانڈ دینے کی استدعا کی تو عدالت نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ملزم کو عدالت کے حکم پر گرفتار کیا گیا اس لئے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا سیکشن لاگو نہیں ہوگا عدالت نے کیپٹن صفدر کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 50لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی عدالت نے بنی گالا کے رہائشی ضامن ربنواز عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے پچاس لاکھ کے مچلکے لیں گے اگرملزم غائب ہوگئے تو آپ ذمہ دار ہونگے۔جس پر ضامن نے کہاکہ انہوں نے 60لاکھ مالیت جائیداد کے فرد جمع کرادیئے ہیں ۔ فاضل جج کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیئے ۔عدالت میں پیشی کے بعد مریم اپنے خاوند کیپٹن (ر)صفدرکے ہمراہ سیکٹرF-6 میں واقع اپنے سمدھی میاں منیر کی رہائش گاہ پر پہنچیں۔ عدالت میں ان کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے ۔ پیر کو رینجرز تعینات نہیں تھے ، پولیس اور ایف سی کے ایک ہزار اہلکار سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔اس موقع پر ن لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھی، جو اپنے رہنماوں کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔لیگی کارکنان نے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ان کے حق میں شدید نعرے بازی کی، سیکیورٹی فورسز نے مسلم لیگ کے کارکنان کو کمپلیکس سے دور کر رکھا ۔گزشتہ سماعت پر عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف، حسن، حسین، مریم نواز اور محمد صفدر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔مریم نواز احتساب عدالت میں پیشی کے لئے چودھری منیر کی رہائش گاہ سے روانہ ہوئیں تو ان کے ہمراہ پرویز رشید، آصف کرمانی، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان اور وکلا کی ٹیم بھی تھی۔مریم نواز اور کیپٹن صفدر قطر ایئر لائن کی پرواز کیو آر 612 کے ذریعے لندن سے براستہ دوحہ اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو ایئرپورٹ پہنچے۔واضح کہ مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹن(ر)محمد صفدر گزشتہ روز لندن سے وطن واپس پہنچے تو نیب کی ٹیم نے ایئرپورٹ سے ہی محمد صفدر کو حراست میں لے لیا تھا۔
دریں اثنا سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ بھگوڑے آزاد پھر رہے ہیں، جلسے کررہے ہیں،احتساب سے بھاگ رہے ہیں ان کو کوئی گرفتار نہیں کررہا ہے،جو خود کو احتساب کے لیے پیش کررہے ہیں ان کو گرفتار کیا جارہا ہے،پاناما پر چلنے والا مقدمہ جب اقامہ پر ختم ہوگا تو سوال تو اٹھیں گے اور جج حضرات کو بھی اسی کا جواب دینا پڑے گا،جب تک نواشریف کے خلاف کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی جب تک دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں آجاتی کہ جس پر نوازشریف یا ان کے خاندان کی فرد کو پکڑا جاسکے یہ قیامت تک ٹرائل چلتے رہیں گے ۔پیر کواحتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں،احتساب نما انتقام میں تحفظات کے باوجود پیش ہورہے ہیں،ہم گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر بار پیش ہوکر انصاف اور عدل کی زنجیر ہلا رہے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ مجھ پر مقدمات نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے بنائے گئے،جو بھگوڑے ہیں وہ آزاد پھر رہے ہیں، جلسے کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون آور آئین کے جتنے بھی جج ہین وہ شا ید اپنے اآپ کو تو احتساب سے بچائیں لیکن آئین اور انصاف کے نام پر جو دھبے لگے ہیں وہ شاید دھونے میں بہت عرصہ لگے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں میڈیا پر کچھ چیزیں آئیں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو جوابدہ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے آئین اور قانون کا تماشہ بنا رکھ دیا ہے، پوری دنیا جانتی ہے یہ احتساب نہیں انتقام ہے، جنہوں نے 20 کروڑ عوام کے نمائندوں کو چلتا کیا ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھگوڑے آزاد اور جلسے کررہے ہیں اور جو لوگ احتساب سے بھاگ رہے ہیں انہیں کوئی گرفتار نہیں کررہا مگر جو خود کو احتساب کیلیے پیش کررہے ہیں انہیں گرفتار کیا جارہا ہے،ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ حسن اور حسین نواز خود اپنے فیصلے کریں گے، میرے بھائی باہر رہتے ہیں ان پر یہاں کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، وزیراعظم کو نااہل کرنے اور سزا ہونے کے بعد بھی ہمارا ٹرائل کیا جارہا ہے، جب تک ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آجاتی جس پر نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو پکڑا جاسکے تب تک یہ ٹرائلز قیامت تک چلتے رہیں گے، وزیراعظم نواز شریف کو پہلے سے طے شدہ فیصلے پر نااہل کیا گیا۔
