جہانگیر ترین نااہلی کیس: ’دستاویزات سے معلوم نہیں ہوتا رقم کس اکاؤنٹ میں گئی‘

اسلام آباد: جہانگیر ترین نااہلی کیس میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت نے صرف ایمانداری کو دیکھنا ہے جب کہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ دستاویزات سے معلوم نہیں ہوتاکہ رقم کس اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔
سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزارکا مقدمہ آف شورکمپنی کو ظاہرنہ کرنے کا ہے جب کہ رقم منتقلی کی ٹرانزیکشن بذریعہ بینکنگ چینل ہوئی، ٹرانزیکشن سے یہ تاثر نہیں لیا جاسکتا کہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔
چیف جسٹس کے ریمارکس پر جہانگر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ رقم منتقلی کوٹیکس گوشواروں میں ظاہرکیا گیا، حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ رقم منتقلی ٹرسٹ کو نہیں آف شور کمپنی کے اکاؤنٹ میں ہوئی جس پر جہانگیر ترین کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت حکم دے توآف شور کمپنی کے اکاؤنٹ کی تفصیل منگوا لوں گا، پاکستان سے رقم آف شور کمپنی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔؟
جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا تمام ادائیگیوں کو ٹیکس گوشواروں میں ظاہرکیا گیا جس پر سکندر بشیر نے بتایا کہ ٹیکس گوشواروں میں تمام ادائیگیاں ظاہر کی گئی ہیں، عدالت حکم دے تو ریکارڈ منگوایا جاسکتا ہے، شائنی ویو کے اکاؤنٹ کی تفصیلات فی الحال موجود نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شائنی ویو کو تمام رقم ملنے کی دستاویزات بھی دکھائیں، سکندر بشیر نے کہا کہ تمام ٹرانزیکشز کا ریکارڈ عدالت کو دے چکے ہیں، بیرون ملک جائیداد سے کوئی آمدن نہیں ہو رہی۔
دوران سماعت چیف جسٹس اور جہانگیر ترین کے وکیل کے درمیان مکالمہ بھی ہوا جس میں چیف جسٹس نے سکندر بشیرسے پوچھا آپ ہروقت کیوں پریشان رہتے ہیں؟ جس پر جہانگیر ترین کے وکیل کا کہنا تھا کہ خود کو رلیکس رکھنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں، آپ کی عدالت میں کسی چیز کو ہلکا نہیں لے سکتا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر 2016 سے میں بہت تبدیل ہوچکا ہوں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ قرض کی ادائیگی کس نے اور کیسے کی؟ جس پر سکندر بشیر نے بتایا کہ جہانگیر ترین نے ادائیگی کے لیے رقم پاکستان سے بھجوائی تھی، جہانگیر ترین رقم آف شور کمپنی کو منتقل کرتے تھے جب کہ قرض کی موجودہ رقم پندرہ لاکھ پاؤنڈز ہے، 2 ملین سے زائد کا قرض ای ایف جی بینک سے لیا گیا، پلاٹ کو رہن رکھوا کر قرض بھی لیا گیا تھا۔
سکندر بشیر نے بتایا کہ ٹرسٹ کو کی گئی تمام ادائیگیوں کا بینک ریکارڈ موجود ہے، 2014 میں 11 لاکھ ڈالر بیرون ملک منتقل کیے، 2012 میں 5 لاکھ پاؤنڈ بیرون ملک بھجوائے،2011 میں جہانگیر ترین نے 25 لاکھ پاؤنڈ بیرون ملک بھجوائے، جہانگیر ترین نے آف شور کمپنی کی ادائیگی بذریعہ بینک کی۔
