اکتوبرکا بھی اختتام قریب،بلدیاتی الیکشن کاوعدہ ہوائی نکلا عوام مایوس

اسلام آباد(دانش ارشاد)آزاد کشمیر میں عدالت عظمی کے بار ہا احکامات کے باوجود ابھی تک بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے۔ حکومت نے مالی سال 2017-18 میں بلدیاتی انتخابات کروانے کیلئے پچاس کروڑ روپے مختص کر رکھے ہیں تاہم بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی نے فوری بلدیاتی انتخابات کروانے سے انکار کر دیا تھا۔عدالتی احکامات اور حکومتی اعلانات کے باوجود بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ابھی تک حلقہ بندیاں اور انتخابی فہرستوں کی تیاری بھی نہ ہو سکی۔ عدالت عظمی نے سابقہ حکومت کو بھی بلدیاتی انتخابات کروانے کاحکم دیا تھا تاہم پیپلزپارٹی کی حکومت نے بھی ٹال مٹول سے کام لیا تھا اور بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے تھے۔آزاد کشمیر میں 1992 میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے ۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد نہ ہونے سے مسلم لیگ کے کارکنوں میں بھی مایوسی پھیلنے لگی حکومت نے سینکڑوں کارکنان کو بلدیاتی نظام میں ایڈجسٹ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں 1992 کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہو سکا۔ 2016 میں عام انتخابات کی مہم کے دوران موجودہ وزیر اعظم نے حکومت میں آنے کے چھ ماہ میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ کیا تھا اور حکومت میں آنے کے بعد وزیر اعظم نے پہلے اکتوبر2016 ،پھر اپریل 2017 اور اس کے بعد نومبر 2017 میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جو پورا نہ ہو سکا۔موجودہ مالی سال میں بلدیاتی انتخابات کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے تاہم بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اس مالی سال کے دوران ممکن نہیں ہے ۔ جس پر عوامی حلقوں میں شور ہوا اور حکومت نے انتخابات کروانے کا ایک مرتبہ پھر اعلان کیا۔ اس سے قبل موجودہ اور سابقہ حکومت کے دور میں عدالت عظمی بھی بارہا بلدیاتی انتخابات کروانے کے احکامات جاری کر چکی ہے اور آخری حکم کے مطابق تین ماہ میں انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا لیکن ابھی اس کیلئے بنیادی تیاری ہی مکمل نہ کی جا سکی۔ابھی تک بلدیاتی حلقہ بندیاں مکمل ہو سکیں نہ ہی انتخابی فہرستیں تیار ہوئیں اورنہ ہی بلدیاتی محکمے فعال ہو سکے۔اس سے قبل آزاد کشمیر کی عدالت عظمی سابقہ حکومت کے بعد موجودہ حکومت کو بھی بلدیاتی انتخابات کروانے کے احکامات جاری کئے جن پر ابھی تک عمل درآمد ممکن نہ ہو سکا۔ جبکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہونے کے باعث مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے کارکنان میں بھی مایوسی کی لہر پھیلنے لگی۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ ان کو بلدیاتی نظام میں ایڈجسٹ کرنے کا کہا گیا تھا تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ایسا ممکن نہ ہو سکا۔خیال رہے کہ پیپلزپارٹی نے حکومت میں ہوتے ہوئے عدالتی احکامات کے باوجود بلدیاتی انتخابات کروانے کی کوشش کی نہ ہی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے حکومت سے بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا ہے