آزادکشمیر میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے،مولانا سعید یوسف
دھیرکوٹ ،ارجہ(نمائندگان کشمیرٹوڈے)جمعیت علمائے اسلام آزادکشمیر کے امیر مولاناسعید یوسف نے جہالہ ۔مجاہد آباد کے مقام ختم نبوت کانفرنس بحثیت صدر تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں قادنیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے آزادکشمیر حکومت فی الفور اسمبلی کا اجلاس بلاکر متفقہ قرار داد ذریعے قادنیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں بصورت دیگر جمعیت علمائے اسلام آزادکشمیر بھر میں اپنی بھر پور تحریک چاہئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئینی طو رپر قادینوں کو غیرمسلم قراردیا گیاہے۔ جبکہ آزادکشمیر میں تاحال قادنیوںکو غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا۔قادیانی دین اور ملک کے دشمن ہیں۔ یہ کسی طرح سے بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام غربی باغ کے زیر اہتمام جہالہ مجاہد آباد کے مقام پر ختم نبوت کانفرنس کا انعقا،د سنیٹر حمداللہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے کانفرنس میں ہزاروں لوگوںنے شرکت کی جے یو آئی پاکستان کے رہنما سنیٹر حافظ حمد اللہ کو غازی آبادی سے جہالہ مجاہدہ آباد تک لایا گیا۔ مہمان خصوصی جب پنڈال میں پہنچے تو فضا نعروں سے گونج اٹھی سنیٹر حمد للہ کا پرت پاک استقبال کیاگیا۔ ختم نبوت کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے سنیٹر حمداللہ نے کہا کہ ختم نبوت ایک عالمی مسئلہ ہے۔ جس کے پیچھے امریکہ اور دیگر قوتیں برسرپیکار ہیں۔ اور قادنیوںکی پشت پنائی کررہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب تک جمعیت علماے اسلام موجود اور جب تک اسمبلی میں ہماری نمائندگی موجود ہے اس وقت تک ختم نبوت پر کسی طرح سے بھی آنچ نہیں آنے دیںگے۔ ا سکے لئے ہمیں سولی پر لٹکایا جائے۔ سمندر میں پھیکا جائے یا آگ میں پھینکا جائے ۔پیچھے نہیں ہٹیں گے۔پاکستان کے اکیس کروڑ عوام کو آزمائش میں ڈالنے والے پہلے بھی زلیل ہوئے اور اب بھی جس نے سازش کی ہوںگے ۔ اس مسئلے پر کوئی سیاست نہیں ہوگی۔انہوںنے کہا کہ دو قومی نظریے کے خلاف اقتدار کے بھوکے کام کررہے ہیں۔جو لوگ غیر مسلم بن کررہے ہیں ان کے ساتھ کسی نے چھیڑ چھاڑ نہیں کی ختم نبوت کی خاطر اکیس کروڑ لوگ جان تو دے سکتے ہیں لیکن سودے بازی نہیں کرسکتے۔ مسلم لیگ کو یا پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف سب لوگوں نے ملکر ہماری رائے کو دبانے کی کوشش کی ان خیالات کا اظہار سنیٹر حافظ حمد اللہ نے جہالہ مجاہد آباد میں ایک بڑی ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام جے یو آئی غربی باغ نے کیاتھا۔ اس موقع پر جنرل سیکٹری جے یو آئی مولانا امتیاز عباسی ،مولانا عبدالحئی مولانا محمود الحسن مسعودی ،مولانا سلیم اعجاز، کانفرنس کے منتظم اعلیٰ مولانا حافظ اسحاق خان راجہ جاوید احمد خان اور دیگر نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری وسیم الحق نے انجام دیئے۔ مہمان خصوصی نے کہا کہ طویل عرصے سے امریکی کوشش ہے۔کہ ملک سے نظام تعلیم ،جہاد میں تبدیلی چاہتے تھے۔ چونکہ نظام تعلیم تبدیل ہوگا۔ تو نئی نسل صحیح مسلمان نہیں ہوسکتی ڈان لیکس کے حوالے سے جو رد عمل ہوا وہ قومی اسمبلی میں مرزائیوں کے خلاف آئینی ترمیم پر بھی ہونا چاہیے تھا۔ دوغلا پن ہمیں چھوڑنا پڑے گا۔ حافظ حمد اللہ نے مزید کہا کہ ختم نبوت اور توہین رسالت کے قوانین میں تبدیلی نہیں ہونے دیںگے۔ اس کیلئے جتنی قربانی دینی پڑی دیں گے۔ یہ ملک دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنا جو نظریے اور اسلام کو کھلواڑ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کیلئے کوئی غازی علم دین شہید تو پیدا ہوگا۔ ختم نبوت کسی کے خلاف سازش نہیں جو لوگ اپنے آپ کو اقلیت سمجھ کر رہ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کون چھیڑ چھاڑ کررہاہے۔ وہ غیر مذہب ہیں۔ جن لوگوں کو 1974میں غیر مسلم قرار دیا گیا وہ اپنے آپ کو غیر مسلم سمجھتے ہی نہیں اور وہ قادیانی ہیں۔ مشرف کے دور میں تبدیلی کی کوشش کی گئی جے یو آئی رکاوٹ بنی اور اب بھی بنیں گے۔ انہوںنے کہا کہ آزادکشمیر میں بھی آئین سازی کی جائے۔ یہ بیان خوش کن ہے جوآئی ایس پی آر نے دیا مگر یہ سازشیں کرنے والے کون ہیں جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ ان کی بھی پیش کونی ہونی چاہیے۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام آزادکشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف نے کہا کہ مسلمان جان تو دے سکتاہے مگر ایمان پر سودے بازی نہیں کرسکتا۔ اور قادیانی بے ایمان اور غیر مسلم ہیں جنہوں نے کبھی نظریہ اسلام اور پاکستان کو برداشت نہیں کیا۔35سال سے آزادکشمیراسمبلی میں قرار داد پڑھی رہی مگر آئین سازی نہیں ہوسکی ۔ حکومت کو فوری طور پر آزادکشمیر میں آئین سازی کرنی چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ
