نوازشریف تنازع کشمیر حل کرانے کیلئے بھارت سے تعلقات بڑھا رہے تھے،برجیس طاہر

اسلام آباد(وقائع نگار، اے پی پی)وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر نے کہا ہے کہ آج گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔دنیا بھر میں پاکستانی مشن اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے اور بھارتی سفارتخانوں کے سامنے احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کریں گے۔بر ہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں نے جدوجہد آزادی کو مزید تیز کر دیا ہے۔بھارتی حکومت اور فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بال اور چوٹیاں کا ٹنے کے شرمناک واقعات کروا رہی ہے ۔1998میں جب واجپائی اور میاں نواز شریف کی ملاقات ہوئی تو اس وقت مسلہ کشمیر حل کے بہت قریب تھا مگر میاں نواز شریف کو جیل بھیج دیا گیا۔پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رہتا تو آج تک مسلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا ۔موجودہ دور میں بھی نواز شریف نے بھارت کے ساتھ تعلقات کشمیر کی ہی بنیاد پر بڑھانے کی کوشش کی تو ان کی شدید مخالفت کی گئی تھی۔ایک ملازم کو اگر نوکری سے نکالا جائے تو اس کو بھی ایک ماہ کا وقت دیا جاتا ہے مگر یہاں ایک منتخب وزیر اعظم کو ایک منٹ کا وقت بھی نہیں دیا گیا۔ان ہ پاکستان اور کشمیر کی تاریخ میں 27 اکتوبر کا دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے، بھارت ایک سوچ کے تحت کشمیر پر قابض ہے، کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے، ہم کشمیری بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ (آج) جمعہ کو یوم سیاہ کے موقع پر پوری پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی، ملک بھر میں تمام صوبائی دارالحکومتوں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں خصوصی تقاریب منعقد کی جائیں گی، پاکستان کشمیریوں کی اخلافی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ قومی جذبہ کے ساتھ کشمیر کاز کو اہمیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر پاکستان اور کشمیر کی تاریخ میں یوم سیاہ ہے، جب پاکستان اور بھارت معرض وجود میں آئے تو اس وقت ریڈ کلف معاہدہ کے تحت طے پایا تھا کہ جن علاقوں میں مسلم اکثریت ہے وہ پاکستان کے ساتھ اور جن علاقوں میں ہندو اکثریت ہے وہ بھارت کے ساتھ شامل ہوں گے لیکن بھارت نے سازش کے تحت 78 فیصد مسلمانوں کی اکثریت والی ریاست کشمیر پر قبضہ کیا اور جب کشمیریوں کی مزاحمت لڑائی میں تبدیل ہو گئی تو جواہر لعل نہرو لڑائی بند کرانے کا بہانہ بنا کر اقوام متحدہ میں خود گیا، اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی قرارداد منظور کی اور 11 مرتبہ اپنی اس قرارداد کی توثیق بھی کر چکا ہے لیکن 70 برس سے کشمیری آج بھی اس قرارداد پر عملدرآمد کے منتظر ہیں اور بھارتی افواج کے مظالم برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق تیمور اور جنوبی سوڈان میں رائے شماری ہو جاتی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کو تاحال حل نہیں کیا جا سکا اور کشمیری اس دن کو جب کشمیریوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن مذاکرات کے ذریعے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل چاہتا ہے، پاکستان، بھارت اور کشمیری مسئلہ کشمیر کے فریق ہیں۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد بھارت نے کشمیریوں پر مظالم کی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے اور پیلٹ گنوں کے ذریعے نوجوانوں کو بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے، بچیوں کی چوٹیاں کاٹی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو تیسری نسل سے اپنی جدوجہد، آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود رائے دہی کے حصول کیلئے برسر پیکار ہیں۔ حکومت پاکستان نے وزارت امور کشمیر کے زیر اہتمام (آج) جمعہ کو یوم سیاہ کے حوالہ سے صوبائی دارالحکومتوں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں مختلف تقاریب کا اہتمام کیا ہے جس کا مقصد کشمیری بھائیوں کو اپنی حمایت کا یقین دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ہمیشہ جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حقوق کی بات کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ او آئی سی، روس اور چین بھی پاکستان کے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017ء میں اب تک بھارت 1150 مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے جس کے نتیجہ میں 50 سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوم سیاہ منا کر بھارت کا وہ چہرہ جو اقوام عالم کے سامنے جمہوری بنا کر پیش کرتا ہے اسے بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی جمہوری حکومت آئی اس نے مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا، پاکستان کی کشمیر پالیسی بالکل واضح ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پاکستان کے 20 کروڑ عوام کسی بھی لمحہ کشمیریوں کو تنہا نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا اس وقت پاکستان چین سے نہیں بیٹھے گا۔ برجیس طاہر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کی بات کی ہے، دنیا میں کوئی بھی ملک اگر ثالثی کیلئے تیار ہوا جیسا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے بھی بیان دیا تھا تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے، جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں اور پاکستان مذاکرات پر یقین رکھتا ہے جبکہ بھارت نے مذاکرات سے ہمیشہ راہ فرار اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چار سال سے وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر میں ڈیڑھ سال سے قائم مسلم لیگ (ن) کی حکومت آزاد کشمیر کے عوام کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے، ترقی یافتہ فنڈ 12 ارب سے بڑھا کر 22 ارب روپے کر دیا گیا ہے، لائن آف کنٹرول کے متاثرین کیلئے 13 ارب روپے کا ایک پیکیج بنایا گیا ہے جس پر ہم چاہتے ہیں کہ مکمل عملدرآمد ہو تاکہ شہید ہونے والے کشمیریوں کے اہلخانہ کی خدمت میں حقیر نذرانہ پیش کیا جا سکے جو کسی بھی انسانی زندگی کا نعم البدل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کے علاقوں کو سی پیک کا حصہ بنایا اور اب کالج، یونیورسٹیاں بھی بنیں گی اور دیگر ترقیاتی کام بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کرائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1998ء میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے اٹل بہاری واجپائی کو پاکستان بلایا اور کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کو ہی تھا لیکن نواز شریف کی حکومت ختم کر دی گئی، اب ہماری حکومت نواز شریف کی قیادت میں چار سال کے دوران نہ صرف ملک سے توانائی بحران کو ختم کیا، خنجراب تا گوادر سڑکیں بنائیں بلکہ ترقیاتی کاموں کے ایجنڈے کو کشمیر تک پہنچایا، یہ الگ بات ہے کہ ہم نے نواز شریف کو نہ جانے کس جرم کی سزا دی ہے، جمہوری عمل کے تسلسل سے ہی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوم سیاہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں سمیت پورے پاکستان میں بھرپور طریقہ سے منایا جائے گا، بین الاقوامی سطح پر پاکستانی مشنز میں سیمینارز، تصاویری نمائش منعقد ہوں گی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔ صحافیوں اور دانشوروں کے انٹرویوز کے ذریعے 70 سال قبل ہونے والی بھارتی ناانصافی، جارحیت اور مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کو بے نقاب کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے دفاتر اور بھارتی سفارتخانوں کے سامنے احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال جس میں ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گن کے ذریعے نشانہ بنانا، خطہ کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کیلئے بھارت کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کے اقدامات اور حال ہی میں چٹیہ کاٹنے کے شرمناک اقدامات کو پبلسٹی مٹیریل کے ذریعے عکاسی کی جائے گی۔ وزارتوں اور محکموں کے فوکل پرسن وزارت امور کشمیر کو اس دن کے حوالہ سے ہونے والی تقاریب میں معاونت کریں گے۔ وفاقی سطح پر صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور وزیر امور کشمیر کے خصوصی پیغامات نشر کئے جائیں گے جس میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ کی مذمت کی جائے گی۔ اسلام آباد میں حریت کانفرنس کے زیر اہتمام ایک اجتماعی ریلی نکالی جائے گی جس میں تمام صوبائی حکومتوں کے نمائندے شرکت کریں گے اور یہ ریلی اقوام متحدہ کو اس دن کے حوالہ سے یادداشت پیش کرے گی۔ وزارت خارجہ پاکستان میں موجودہ دیگر ممالک کے سفیروں کی کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے۔ یوم سیاہ کے حوالہ سے جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں بینرز لگائے جائیں گے۔ تمام اہم سرکاری عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے تاکہ پوری دنیا کو پتہ چل سکے کہ ہم اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ صوبائی دارالحکومتوں کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سی ڈی اے اور کشمیر کونسل اسلام آباد نے بینرز کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا ہے۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی خصوصی تقاریب منعقد ہوں گی جبکہ گلگت بلتستان، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی اس دن کے حوالہ سے تیاریاں کی گئی ہیں۔ تمام صوبائی حکومتوں نے ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کی ہدایات جاری کی ہیں اور مختلف پروگرامز ترتیب دیئے ہیں، وزراء اعلیٰ ان تقاریب میں شرکت کریں گے۔ خصوصی آرٹیکلز، اداریوں کی اشاعت اور تصویری نمائشوں کا اہتمام ہو گا۔ تمام گورنز اور وزراء اعلیٰ کے پیغامات اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے ذریعے نشر کئے جائیں گے۔ پی ٹی اے نے موبائل کمپنیوں کے ذریعے اس دن کی مناسبت سے پیغام چلانے کا بھی بندوست کر رکھا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پیغامات کی ترسیل کی جائے گی۔ تمام صوبوں میں واکس، ریلیوں کا انعقاد ہو گا۔ تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ آزاد کشمیر میں بھی اس حوالہ سے بھرپور تیاریاں کی گئی ہیں، مظفرآباد سمیت تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر تقاریر، احتجاجی ریلیاں منعقد کی جائیں گی اور دنیا کو آگاہ کیا جائے گا کہ بین الاقوامی برادری کی بے حسی، دوہرے معیار، بھارتی ناانصافی اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ سے جنوبی ایشیاء کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی سب سے بڑی ریلی مظفرآباد سے نکالی جائے گی، کشمیر کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دن کی مناسبت سے تقاریب ہوں گی، صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر کے اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر خصوصی پیغامات نشر کئے جائیں گے۔ وزارت اطلاعات اور اس کے ذیلی ادارے پیمرا، پی ٹی وی، پی آئی ڈی، اے پی پی، ریڈیو پاکستان، لوک ورثہ اور پی این سی اے نے بھی اس دن کے حوالہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضہ اور انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کو بے نقاب کرنے کیلئے آرٹیکلز، اداریوں، ٹاک شوز، خصوصی تصاویری نمائشوں اوراس کے علاوہ اس دن کی مناسبت سے ہونے والی تمام تقاریب کا بندوبست کیا ہے تاکہ یہ پیغام مؤثر انداز میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جا سکے۔ علماء کرام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کشمیری بھائیوں کی آزادی کیلئے دعا کریں اور اپنی جمعہ کی تقاریر میں اس دن کے حوالہ سے خصوصی طور پر بات کریں۔
tmc/sak/zah/nmq 1744
