میرپور،باشندہ سرٹیفکیٹ کے نام پر لوٹ مار جاری،حکومت خاموش

میرپور(وقائع نگار)باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کا اجراء مفت، کشمیر لبریشن سیس کے صرف پانچ روپے، ڈپٹی کمشنر دفتر کمپیوٹر پرنٹ کے 200 فی درخواست، اسسٹنٹ کمشنر اور اے ڈی سی جی 500 سے 1000 فی سرٹیفکیٹ وصول کرنے میں مصروف، وصولیوں کے لئے کلرک بٹھا لئے۔عوام کے حقوق کے پاسبان عوام کو لوٹنے میں مگن، مداوا کون کرے؟ عوام لاعلمی میں لٹنے پر مجبور، تفصیلات کے مطابق سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے اجراء کی کوئی فیس مقرر نہیں بلکہ باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کا اجراء بالکل مفت کیا جاتا ہے اور اس ضمن میں سٹیشنری اور دیگر فائل ورک کے لئے متعلقہ دفاتر کو حکومت بجٹ مہیا کرتی ہے جبکہ باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لئے شہری باشندہ ریاست اور ڈومیسائل فارم فوٹو اسٹیٹ کی دوکانوں اور کچہری میں موجود عرائض نویسوں سے وصول کر کے ضروری کاغذی کاروائی اور تصدیق وغیرہ کے بعد ڈپٹی کمشنر دفتر میں جمع کرواتے ہیں جہاں ان فارموں کے مطابق کمپیوٹرائزڈ فارم پرنٹ کر کے انہیں دیا جاتا جو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اور اسسٹنٹ کمشنرز کے پاس جاتا ہے جہاں گواہان کے بیانات اور باشندہ ریاست ہونے کے شواہد کا جائزہ لیا جاکر درخواستوں پر فیصلہ ہوتا ہے اور باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے اجراء کی منظوری دیکر دوبارہ ڈپٹی کمشنر آفس فائل ارسال کر دی جاتی ہیں جہاں سے اگلے دو سے تین دن میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ اور ڈومیسائل جاری ہو جاتے ہیں۔ عوام کی سہولت اور حقوق کے تحفظ کے لئے بیٹھے عوام کے پاسبان ان افسران کے ناک کے نیچے باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کا یہ پراسیس اتنا آسان نہیں بلکہ اس سارے پراسیس کے دوران شہریوں کو دو سے تین بار لوٹا جاتا ہے، باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے اجراء میں کشمیر لبریشن سیس کے پانچ روپے درخواست گزار سے وصول کرنا ضروری ہے لیکن شہریوں کو سب سے پہلے ڈپٹی کمشنر آف میں کمپیوٹر پرنٹ کے مبلغ 200 روپے فی پرنٹ وصول کئے جاتے ہیں جبکہ کمپیوٹر ، پرنٹر اور سٹیشنری کا بجٹ ڈپٹی کمشنر آفس کو سرکار فراہم کرتی ہے جس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر یا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے کلرک فی درخواست پانچ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں اور موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ باشندہ ریاست کی فیس ہے، چھوٹے اعتراضات دور کرنے کی فیس علیحدہ سے لی جاتی ہے جبکہ برطانوی نژاد شہریوں سے فی درخواست ایک سے پانچ ہزار تک روپے وصول کئے جانے کی شکایات ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس تمام لوٹ مار میں اسسٹنٹ کمشنرز اور اے ڈی سی جیز کی مرضی و منشاء بھی شامل ہوتی ہے ۔ADCG میرپور راجہ فاروق اکرم کے دفتر میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کی فیس 1000 سے 2000 تک وصول کئے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ اگر کوئی شہری راجہ فاروق اکرم سے جا کر پوچھے کہ باشندہ ریاست کی فیس کتنی ہے تو وہ شہری کو اپنے کلرک کی طرف بھیج دیتے ہیں جبکہ براہ راست باشندہ ریاست کی فائل لیکر جانے والوں کو بھی کہا جاتا ہے کہ بائو سے مل لیں پھر فائل لے کر آنا جبکہ فیس ادا نہ کرنے یا کم فیس دینے والوں کی فائلوں پر اعتراجات لگا کر روکا جانے لگا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کی آڑ میں شہریوں کو لوٹنے والے ان افسران کے فوری تبادلے کئے جائیں اور ایماندار فرض شناس اور اچھی شہرت کے حامل افسران کا تارکین وطن کے شہر میں تقرر کیا جائے تاکہ شہری لٹنے سے بچ سکیں۔