مقبوضہ کشمیر ,بھارتی مظالم کیخلاف شدید احتجاج،جھڑپوں میں 7زخمی

سرینگر(اے این این )  مقبوضہ کشمیر میں   حالات کشیدہ ،قابض فورسز کی سخت سکیورٹی کے باوجود  دوسرے روز بھی  بھارتی قبضے کیخلاف لوگوں کا احتجاج،بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 7افراد زخمی ،مختلف علاقوں میں مظاہرین کا بھارتی فورسز پر پتھراؤ،کشیدہ حالات کے باعث کاروباری اور تجارتی مراکز بند،ریل سروس معطل،انٹرنیٹ اور موبائل فو ن کی خدمات بحال نہ ہو سکیں ،کولگام میں نامعلوم افراد نیآٹھویں جماعت کی طالبہ کے بال کاٹ دئیے،لوگوں کا احتجاج سڑک بند کر کے احتجاج،نارستان میں بھارتی فورسز کا مجاہدین کی دو پناہ گاہیں تباہ کرنے کا دعویٰ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے 70سال مکمل ہونے کے دوسرے روز بھی  حالات کشیدہ رہے ،گزشتہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر ہمہ گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی تھی جس کے دوران بھارت فورسز کے ساتھ لوگوں کی شدید جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔ہفتہ کو  لوگوں کی جانب سے  امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پائین شہر کے5پولیس تھانوں اور سیول لائنز کے2تھانوں میں بندشیں عائد کی گئیں،جبکہ ریل سروس کو بھی معطل رکھا گیا۔جامع مسجد سرینگر کے ارد گرد سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں،ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کشمیر انتظامیہ نے شہر کے 7 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیوںنافذ کردیں۔ اس دوران  وادی کے سبھی دس اضلاع میں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہیں۔ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔پابندی والے علاقوں میں تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا۔ تاہم صفا کدل اور عیدگاہ کے راستے انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑکوں کو بیماروں اور تیمارداروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنی رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا۔ تاہم سیول لائنز میں اکادکا گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔اس دوران   اننت ناگ، شوپیان، پلوامہ اور کولگام قصبہ جات سمیت مختلف علاقوں میں نوجوانوں کی ٹولیاں برآمد ہوئیں  جنھوں نے بھارت مخالف نعرے بازی کی ۔کئی مقامات پر احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں  جن میں مظاہرین  شہری ہلاکتوں  اور چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کی بے لاگ تحقیقات کا مظاہرہ کر رہے تھے۔اس دروان مختلف مقامات پر  بھارتی فورسز نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا جس کے بعد پتھرائو کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ کی گئی۔بھارتی فورسز کی مداخلت کے باعث حالات کشیدہ ہو گئے اور لوگوں نے بھی قابض فورسز رپ پتھراؤ کیا۔اس دوران  انت ناگ اور کولگام میں  ایک ایک  جبکہ  شوپیاں میں ود اور پلوامہ میں تین افرادکے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ اننت ناگ کے مٹن چوک ،اچھ بل اڈہ اور کاڈی پورہ میں مشتعل نوجوانوں نے فورسز پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسزنے نوجوانوں کو منتشر کر نے کے لئے اشک آور گولے داغے  ۔ضلع کے ڈورو،ویری ناگ ،قاضی گنڈ اور دیادلگام میںبھی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر رہی ہے ۔کولگام،ریڈونی،کھڈونی ،کیموہ اور دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ ، سوپور،بانڈی پورہ اور کپوارہ کے سبھی قصبہ جات میں ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر رہی۔ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحمل معطل رہی جبکہ دکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے۔ بانڈی پورہ ضلع میں مکمل طور پر ہڑتال رہی ۔ دفتروں میں حاضری بہت کم رہی ہے اور ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا البتہ اکا دکا چھوٹی  پرائیویٹ گاڑیاں چلتی رہیں ۔ اجس اور حاجن میں بھی ہڑتال رہی ۔بڈگام، بیروہ، ماگام اور چاڑورہ کے علاوہ گاندربل ، لار اور کنگن میں بھی مکمل ہڑتال رہی ۔ہڑتال کال کے پیش نظر بانہال سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو بھی معطل کرنے کا فیصلہ لیا گیا،جس کے نتیجے میں کوئی بھی ریل پٹری پر نہیں دوڑی۔دریں اثناء چند روز کے وقفہ کے بعد کولگام میں ایک بار پھرچوٹی کاٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ ایک بجکر پنتالیس منٹ پر، جب گائوں کے مرد کولگام کے مضافاتی گائوں اوکے میں نماز جمعہ کیلئے گئے تھے، تو کوئی نامعلوم شخص مشتاق احمد کے گھر میں داخل ہوا اور وہاں آٹھویں جماعت کی طالبہ، جو اس وقت پڑھ رہی تھی، پر سپرے پھینکا جس سے وہ بیہوش ہوگئیں اور بیہوشی کی حالت میں اسکے بال تراشے گئے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالبہ نے شور بھی مچایا تھا جس کے باعث خواتین جمع ہوئیں اور کچھ لوگ بھی یہاں پہنچ گئے لیکن ملوث شخص فرار ہوا تھا۔واقعہ کے بعد گائوں کے مرد و زن گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے مظاہرے کئے۔اس موقع پر شوپیان کولگام روڑ کو بند کیا گیا اور دھرنا دیا گیا۔ بعد میں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوئے۔ادھر ترال کے نارستان علاقے میں بھارتی فوج اور پولیس نے مشترکہ کاروائی کے دوران جنگلات سے دو کمین گاہیں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال سے بیس کلومیٹر دور نارستان علاقے کے جنگکات میں فوج  سی آر پی ایف اور پولیس نے مشترکہ کاروائی کے دورانمجاپدین کی دو کمین گاہیں تباہ کرنے کر کے کچھ برتن اور معمولی غذائی اجناس ضبط کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ پولیس ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ کمین گاہ جیش محمد جنگجوں کے ہیں اور جن بالائی ورکروں نے کمین گاہوں کو بنانے یا ساز سامان وہاں تک پہنچانے میں جنگجوں کی مدد کی ہے اس بارے میں بھی تحقیقات شروع کی گئی ہے تاہم علاقے میں کسے گرفتاری کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭