برلن میں کشمیریوں کا عظیم الشان ملین مارچ،اگلے سال کنٹرول لائن روند ڈالیں گے،بیرسٹر سلطان کا اعلان

برلن(نمائندہ خصوصی) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی اپنی قیادت میں ہزاروں کشمیریوں کا جرمنی کے دارالحکومت برلن میں دیوار برلن پرملین مارچ کا زبردست احتجاجی مظاہرہ۔اس موقع پر مظاہرین نے کشمیریوں کا قاتل مودی، بھارتی غاصبو کشمیر ہمارا چھوڑ دو، کشمیر کشمیریوں کا ہے،مودی دہشتگرد، کشمیرکی آن کشمیر کی شان بیرسٹر سلطان بیرسٹر سلطان ،ہے حق ہمارا آزادی، چھین کے لیں گے آزادی،کشمیریوں کو حق خود ارادیت دو، جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے اور انھوں نے اسی طرح کے بینرز، پینا فلیکس اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر خواتین کی بھی بڑی تعداد مظاہرے میں شریک تھی۔اس ملین کی خصوصیت یہ تھی کے اس موقع پر مظاہرین نے صرف آزاد کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔اس برلن ملین مارچ میں امریکہ، برطانیہ سمیت پورے یورپ کے ہر شہر سے لوگ اس مظاہرے میں شرکت کے لئے آئے تھے۔سخت بارش کے با وجود بڑی تعداد میں لوگ اس مظاہرے میں شریک ہوئے۔جبکہ وہ خود بھی گذشتہ دو روز سے برلن میں ملین مارچ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے موجودتھے۔اس سلسلے میں انھوں نے گذشتہ روزدیوار برلن کی جگہ پر جا کر انتظامات کا جائزہ بھی لیا۔ یہ ملین مارچ لندن میں ٹرائفلگر اسکوائر سے برطانوی وزیر اعظم کی رہائشگا ٹین ڈائوننگ اسٹریٹ،نیویارک میں اقوام متحدہ کے سامنے ہونے والے ملین مارچ اور گذشتہ سال برسلز میں یورپی پارلیمنٹ اور یورپی یونین کے سامنے ہونے والے ملین مارچ کے تسلسل کا چوتھا ملین مارچ تھا۔ اس موقع پرملین مارچ کے شرکاء سے پر جوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اعلان کیاکہ اگلے سال دونوں اطراف کے کشمیری ملکر لائن آف کنٹرول کو دیوار برلن کی طرح توڑ دیں گے۔ اگرچہ یہ ملین مارچ لندن، نیویار ک میںقوام متحدہ کے سامنے اور گذشتہ سال برسلز میں ہونے والے ملین مارچ کا تسلسل تھا۔ اگرچہ ہم نے اسے علامتی طور پر ملین مارچ کا نام دیا جبکہ اصل ملین مارچ اگلے سال لائن آف کنٹرول پر ہی ہو گا اور دونوں اطراف کے کشمیری ملکر لائن آف کنٹرول کو دیوار برلن کی طرح روندڈالیں گے۔یہ چار ملین مارچز اصل میں اگلے سال لائن آف کنٹرول پر ہونے والے ملین مارچز کی ریہرسل تھی۔ اب ملین مارچ کی کوئی ریہرسل نہیں ہو گی۔ اب لائن آف کنٹرول پر ہی ملین مارچ ہو گا۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دونوں اطراف کے کشمیری اٹھ کھڑے ہوں مجھے یقین ہے کہ جسطرح جرمن عوام نے دیوار برلن کوروند ڈالا تھا اسی طرح اگلے سال کشمیری بھی لائن آف کنٹرول پر اکھٹے ہو کر اسے روند ڈالیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں دیوار برلن پر ڈاکٹر غلام نبی فائی،سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی، لبریشن فرنٹ کے نجیب افسر اور دیگرتمام جماعتوں کی موجودگی میں ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر ملین مارچ بھی اسی طرح پر امن انداز میں ہوگا اور ہم اسی طرح لائن آف کنٹرول توڑیں گے جسطرح جرمن عوام نے دیوار برلن کو توڑا تھا۔ انھوں نے کہا کہ 27 اکتوبر وہ سیاہ دن ہے جب ستر سال قبل بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی تھیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ ہم نے اس لئے اس دن ملین مارچز کا سلسلہ شروع کیا تاکہ دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر مرکوز کرائی جا سکے۔ اس موقع پر دیوار برلن سے ہم انٹرنیشنل کمیونٹی سے کہتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرائے اور بھارت کو بتادینا چاہتے ہیں کہ جس طرح سویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تھا اور آج سویت یونین صرف روس تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اسی طرح بھارت میں جو آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اسکے نتیجے میں بھارت کا بھی شیرازہ بہت جلد بکھر جائے گا۔ بھارت اب کشمیری عوام پر زیادہ دیراپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکتا اور بھارت کشمیریوں پر ظلم و بربریت بند کرے، اس موقع پر مارچ بھی کیا گیا اور جرمن چانسلر کی رہائشگاہ پر مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر ایک یاداشت بھی پیش کی گئی۔
