ن لیگ اور پی پی میں مک مکائو پالیسی،عوامی حلقے تشویش میں مبتلا

اسلام آباد(حسیب شبیر چوہدری) مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مک مکا پالیسی ،عوامی حلقوںمیں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ جماعت ،منشور اور نظریہ صرف عوام تک محدود ہے سیاستدان اپنے مفادات کیلئے ہر سطح پر مفاہمت کیلئے تیار رہتے ہیں ،قانون ساز اسمبلی کے بعد کشمیر کونسل میں بھی حکمرن جماعت کے ممبر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئر مین بنا دیا گیا،اپوزیشن کے ممبران کشمیر کونسل نے بھی حمایت کر دی۔مبینہ اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کونسل کے ممبران کو ملنے والے فنڈز کا ایک بڑا حصہ سیاسی معاملات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سکیموں کی مد میں فراہم کی جانے والی رقم کا بھی نصف سے زیادہ حصہ کام مکمل کروائے بغیر ہی اڑا لیا جاتا ہے۔مسلم لیگ(ن) حکومت پر عوام کی جانب سے بے شمار توقعات کا اظہار کیا جا رہا تھا تاہم حکومت کی پالیسی نے عوام کو مایوس کیا ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی تعیناتی نے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے مک مکا کی کہانی کو بے نقاب کر دیا ہے۔6ممبران کشمیر کونسل میں سے تین ممبران مسلم لیگ(ن) جبکہ دو ممبران کونسل پیپلزپارٹی سے ہیں اور ایک ممبر مسلم کانفرنس کا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر کونسل کے اجلاس میں جب سٹینڈنگ کمیٹی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیلئے چئیرمینوں کا انتخاب کیا گیا تو اپوزیشن کے ممبران نے بھی اتفاق کر لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کی جانب سے صرف عوام کیلئے مختلف قواعد طے کئے جاتے ہیں ،اپنے مفادات کیلئے ہر طرح کا کمپرو ما ئز کر لیا جا تا ہے۔جلسوں میں اور عوام کے سامنے کرپٹ سیاست دانوں کے احتساب کی باتیں کی جاتی ہیں ،مگر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل میں جہاں احتساب کیلئے موقع میسر ہوتا ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ذریعے معاملات کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے اس وقت مفاہمت کی پا لیسی اختیار کر کے مک مکا کر لیا جا تا ہے اور عوم کے سامنے بلند و بانگ دعوے کر کے ووٹ اور اقتدار حاصل کرنے کیلئے عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔تاہم اس ساری صورتحال اور خلاف روایت اقدام پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
