مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوجیوں کے ہاتھون مزید 2نوجوان شہید،حریت قیادت نے نیا آرڈیننس مسترد کر دیا

سرینگر ( مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میںبھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع بانڈی پورہ میں دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطاق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے جاجن میں میر محلہ کے مقام پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔ قبل ازیں اسی علاقے میں ایک حملے میں بھارتی پولیس کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے تھے۔دریں اثنا فوجی آپریشن اور نوجوانوں کی شہادت پر حاجن میں زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ لوگ سڑکو ں پر نکل کر بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگا رہے ہیں۔ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال اور آنسو گیس کی شدید شیلنگ کر رہے ہیں۔ فورسز اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے۔جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے قابض انتظامیہ کی طرف سے جاری کیا جانے والا نیا آررڈ ننس مسترد کر دیا ہے جسکے تحت احتجاج کی کال دینے والوں کو جیل اور جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے گورنر این این ووہرا نے ایک آرڈننس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کی کال دینے والو ں کو دو سے پانچ برس کی قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانہ کیا جائیگا۔ مزاحمتی قیادت نے سرینگر میںجاری ایک بیا ن میں کہا کہ پرامن احتجاج ریکارڑ کرانے کیلئے ہڑتال عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک جمہوری حق ہے اور حریت قیادت اس طرح کے جابرانہ آرڈیننسوںکے باوجود اس جمہوری حق کا استعمال کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کالے قوانین کے نفاذ سے کشمیریوں اور انکی قیادت کو جبری تسلط تسلیم کرنے پر ہرگز مجبور نہیں کیا جاسکتا۔مزاحمتی رہنمائوںنے کہا کہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیریوں پر ظلم و جبر کے تمام ریکارڑ توڑ دیے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ8جولائی 2016سے اب تک سینکڑوں افراد کو شہید، ہزاروں کو زخمی جبکہ سینکڑوں کشمیریو ں کو بصارت سے محروم کیا گیا جبکہ نوجوانوںکے ساتھ ساتھ معمر افرادحتیٰ کہ کم عمر لڑکوں کو بھی جیلوں، تھانوں اور تفتیشی مراکز میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قابض انتظامیہ نے قابض فورسز کو گھروں میں گھس کرعورتوں اور بچوں سمیت مکینوں کی مارپیٹ اور گھریلو اشیا کی توڑ پھوڑ کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور اس طرح سے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیاکہ اس ریاستی دہشت گردی کیخلاف پر امن احتجاج کا طریقہ اپنانے والوں کو ظالمانہ اقدامات کے ذریعے دھمکانے اور مرعوب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیںلیکن مزاحمتی قیادت کو اس طرح کے حربوں سے ہرگز مرعوب نہیں کیا جاسکتا اور نہ کشمیری عوام کی جائز آواز کا گلا گھونٹا جاسکتا ہے۔KMS-02/M
مقبوضہ کشمیر،
