نیب ریفرنس اسٰحق ڈار کے وارنٹ جاری،ضامین کو بھی نوٹس

اسلام آباد(اے این این )اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اثاثہ جات ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے، ریفرنس کی مزید سماعت 2 نومبرتک ملتوی ،عدالت نے وزیر خزانہ کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔پیر کو نیب کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر وفاقی وزیر خزانہ کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔نیب کی ٹیم اور گواہ عبدالرحمان گوندل ثبوت لے کر احتساب عدالت پہنچے تاہم ملزم وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج پیش نہیں ہوئے۔سماعت کے آغاز پر اسحاق ڈار کے وکیل نے وزیر خزانہ کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائرکی اور عدالت میں ان کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار طبی معائنے کے لیے لندن میں موجود ہیں، ان کا آج لندن میں طبی معائنہ ہونا ہے، اسحاق ڈار کے بلڈ ٹیسٹ، ای سی جی اور دیگر ٹیسٹ کرانے کا کہا گیا ہے، اسحاق ڈار جمعرات کو عدالت میں پیش ہوجائیں گے، اگر آپ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔ نیب پراسیکیورٹر نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پر دیکھا وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے بعد اسحاق ڈار بھی لندن گئے ہیں، ملزم کے وارنٹ جاری کئے جائیں خود پیش ہو جائیں گے۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم کو عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جانا چاہیے تھا۔ جج محمد بشیرنے حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسحاق ڈارکے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے جبکہ ضامن کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا۔ عدالت نے 2 نومبر کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پیش نہ ہونے کی صورت میں 50 لاکھ زر ضمانت ضبط کر لی جائے گی۔استغاثہ کی جانب سے 4 گواہ عدالت میں پیش کئے گئے جن میں مسعود غنی، عبدالرحمان گوندل، فیصل شہزاد اور محمد عظیم شامل ہیں۔استغاثہ کے گواہ عبدالرحمان گوندل نے 2 تھیلوں میں مشتمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جس کے بعد اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے اس کا جائزہ بھی لیا۔ وکیل خواجہ حارث نے گواہ عبدالرحمان گوندل کے پیش کردہ ریکارڈ پر بھی اعتراض اٹھایا۔نیب مقدمے میں اسحاق ڈار پر کرپشن کی فرد جرم عائد ہوچکی ہے اور ان کی  احتساب عدالت میں آٹھویں پیشی تھی جب کہ چیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے حکم پر اسحاق ڈار کے اثاثے منجمد کیے جاچکے ہیں۔ یاد رہے کہ نیب ریفرنس کی گزشتہ سماعت میں پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے بھی قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے تھے۔واضح رہے اسحاق ڈار کے خلاف 3 گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں، گواہوں میں بینک افسراشتیاق علی، طارق جاوید اور شاہد پرویز شامل ہیں۔