مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کا کریک ڈائون، جھڑپوں میں11افراد زخمی
سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک بار مختلف علاقوں میں محاصرے میں لے کر کریک ڈاؤن کیا ہے اس دوران جھڑپوں میں 11افراد زخمی ہوئے جبکہ 6کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ گھر گھر تلاشی کے دوران قابض فورسز کے اہلکاروں کا طوفان بدتمیزی،خواتین اور بچوں سمیت شہریوں پر تشدد،گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ،بھارتی فوج کئی گھروں سے زیورات اور نقدی بھی لوٹ کر چلتے بنے،لوگوں کا احتجاج،وادی میں حالات کشیدہ،کاروباری مراکز بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس بدستور معطل ،بچے کو کچلے کے بعد ریل سروس بھی دوسرے روز بھی بند رہی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ میں بھارتی فورسز نے کنن ،پوشہ پورہ اور ترہگام سمیت متعدد علاقوں کو محاصرے میں لے کر کریک ڈاؤن کیا اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی لی۔بھارتی اہلکاروں نے نہ صرف لوگوں کے شناخت کارڈ چیک کیے بلکہ سامان کی تلاشی بھی لی ۔اس دوران فورسز کے اہلکاروں نے خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور لوگوں کو رات کے اندھیرے اور سخت سردی میں کئی گھنٹے گھروں سے باہر رہنے پر مجبور کیا۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی اور زیورات اور نقدی بھی ساتھ لے گئے ۔کریک ڈاؤن میں3افراد کو گرفتار کئے جانے کی اطلاعات ہیں ۔کریک ڈاؤن کے بعد لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور قابض فورسز پر پتھراؤ کیا اس دوران جوابی کارروائی میں دو افراد زخمی ہوئے ۔آپریشن میں بھارتی فوج کے ساتھ اسپیشل کمانڈوز بھی تھے۔بھارتی فورسز نے خانصاحب بڈگام کے راولپورہ نامی گاؤں کو محاصرے میں لیاجہاں پولیس اور فورسز کے مطابق انھیں مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے انتہائی سختی کے ساتھ سیل کردئے جس دوران نہ کسی کو وہاں کی طرف جانے اور نہ ہی کسی کو باہر آنے کی اجازت دی گئی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اسی اثنامیں رہائشی مکانوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کیا گیا اور مکانوں کے ساتھ ساتھ دیگر تعمیرات کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی،،تاہم فورسز کا جنگجوں کے ساتھ آمنا سامنا نہیں ہوا۔کریک ڈاآن کے تحت محاصرے میں لئے گئے علاقوں میں خوف و ہراس کا ماحول رہا لیکن فورسز کو کہیں پر بھی جنگجوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملا۔کچھ گھنٹوں کے بعد ان علاقوں سے فورسز کی واپسی کا عمل شروع ہوا تاہم اس موقع پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور قابض فورسز پر پتھراؤ کیا ۔باھرتی فوج نے بھی لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور لاٹھی چاج کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ود افراد زخمی ہو گئے ۔ادھر پلوامہ اور شوپیان کے تین دیہات میں وسیع پیمانے پر آپریشن کرنے کی کوشش کی گئی جس کے دوران مظاہرین اور فورسز میں جم کر جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں چار افراد زخمی اور تین گرفتار ہوئے ہیں ۔بیلو در گنڈ راجپورہ پلوامہ میں کل محاصرہ کیا گیا لیکن وہاں لوگ گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے فورسز کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پتھرائو کیا جس کے بعد یہاں جھڑپوں کا آغاز ہوا۔اس موقعہ پر فورسز نے لاٹھی چارج کے علاوہ شدید شلنگ کی جس کے باعث فورسز کو تلاشی کارروائی ختم کرنا پڑی ۔واضح رہے کہ دو ہفتے قبل بھی یہاں اسی طرح کی صورتحال پیش آئی تھی جس کے دوران ایک مکان میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی اور وہ خاکستر ہوا۔ادھر شوپیان کے نازنین پورہ اور پشہ پورہ کا بھی محاصرہ کیا گیا تاہم تلاشی کارروائی کے بعد محاصرہ اٹھایا گیا۔وادی میں میں کشیدہ صورتحال کے باعث کاروباری مراکز بند رہے جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس بدستور معطل ہے ۔وادی میں سری نگر اور جموںکے درمیان ریل خدمات مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہیں۔ ریل خدمات گزشتہ روز ضلع پلوامہ میں دو کمسن لڑکوں کی ٹرین کی زد میں آکر موت واقع ہوجانے کے بعد متعدد دیہات میں احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے بعد معطل کی گئی تھیں۔سری نگر اور بانہال کے درمیان براستہ اننت ناگ و قاضی گنڈ تمام ٹرینیں آج بھی منسوخ کی گئیں۔
