بھارتی مظالم اجاگر کرنے پر مقبوضہ کشمیر کی 2شخصیات عالمی ایوارڈ کیلئے نامزد
اسلام آباد(وقائع نگار)مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے علمبردار امروز پرویز اور پروینا آہنگرکو پانچ نومبر کو ناروے کے شہر برگن میں ٹورولف رافٹو میموریل پرائز سے نوازا جارہاہے۔ یہ ایوارڈ دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے غیر معمولی خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کو دیا جاتاہے۔ گزشتہ ماہ ٹورولف رفٹو ایوارڈ کمیٹی نے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پروینا آہنگر اور امروز پرویز برسوں سے تشدد، عسکریت پسندی اور کشیدگی کے خلاف سرگرم ہیں۔ محترمہ پروینا آہنگر کشمیر کی آئرن لیڈی کے طور پر شناخت کی جاتی ہیں۔ وہ کئی سالوں سے گمشدہ نوجوانوں کو تلاش کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ جن کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ بھارتی قید میں ہیں یاپھر انہیں حراست کے دوران گم کردیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق نوے کی دہائی سے آٹھ سے دس ہزار نوجوان لاپتہ ہیں۔ ان کے ساتھ یہ ایوارڈ وکالت کے پیشے سے وابستہ اور انسانی حقوق کے علمبردار پرویز امروز کودیا گیا۔ پرویزامروز جے کے سی سی ایس کے بانی ہیں ،جو انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ ایوارڈ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وکیل پرویز امروز نے قانونی طور پر حقوق انسانی اور مساوی حقوق کے لیے قابل قدر جد و جہد کی ہے۔ یہ ایوارڈ انسانی حقوق کے ممتاز ناریجن علمبردار پروفیسر ٹورولف رفٹو کی یاد میں دیا جاتاہے۔ اس ایوارڈ کو حاصل کرنے والی کئی ایک شخصیات کو بعد میں نوبل پرائز بھی عطا کیا گیا۔ ناروے مسئلہ کشمیر کے انسانی پہلو کو اجاگر کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ خاص کر اس ایوارڈ نے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں ایک بار پھر ایک حل طلب مسئلہ کے طور پر متعارف کرایاہے۔ اس ایوارڈ کے بعد ایک ہزار لوگ برجن شہر میں شمع اٹھا کر جلوس نکالیں گے اور ان کشمیریوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ ناروے میں نوے کی دہائی سے مغربی ممالک میں کشمیر کے حوالے سے پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں میں سرگرم کشمیریوں کے عالمی سفیر سردار علی شاہنواز خان نے بتایا کہ نارویجن پارلیمنٹ میں ابھی تک سترہ مرتبہ کشمیر پر بحث ہوچکی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی ناروے میں سرداراسکے علاوہ ناروے وہ واحد ملک بھی ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذرئعے اس مسلے کیا حل چاھتا ھے، علی شاہ نواز کی سربراہی میں قائم کشمیری سکینڈے نیوین کونسل نے کئی ایک مظاہرے کیے جن میں مقامی مغربی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
