کوئی این آر او نہیں ہو رہا،نوازشریف

 اسلام آباد(صباح نیوز)شریف خاندان کے خلاف تین نیب ریفرنسز کی سماعت کے لیے نوازشریف عدالت میں پیش ہوئے تاہم  سماعت بغیر کارروائی کے  منگل تک ملتوی کردی۔ جمعہ کو احتساب عدالت میں  جج محمد بشیر نے شریف فیملی کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت  کی،سابق وزیر اعظم نواز شریف، انکی صاحبزادی مریم نواز  اور داماد کیپٹن (ر)صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔  سابق وزیراعظم کی جانب سے 50، 50 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرائے گئے۔ نواز شریف  کے  وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا  کہ ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کی کاپی موصول نہ ہونے پر سماعت  کے آغازمیں 15 منٹ کا وقفہ لیا گیا جس کے تھوڑی دیر بعد احتساب عدالت کے جج نے سماعت بغیر کارروائی کے منگل 7 نومبر تک ملتوی کردی۔   عدالت نے کہا آئندہ سماعت پر ریفرنسز یکجا کرنے سے متعلق کارروائی ہوگی اور بیشک گواہوں کو بھی نہ بلایا جائے۔سماعت ملتوی ہونے کے بعد نوازشریف، مریم نواز اور صفدر فوری طور پر عدالت سے واپس روانہ ہوگئے۔یاد رہے کہ عدالت نے  جمعہ کو  کیس میں ایس ای سی پی کے 2 گواہان کو طلب کیا تھا تاہم ان کی طلبی کا حکم نامہ بھی معطل کردیا گیا اور اب اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے معطل کی جانے والوں درخواستوں پر فیصلہ ہوگا۔نواز شریف کی جانب سے حاضری یقینی بنانے کے لیے مچلکے داخل کرا دیئے گئے جبکہ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی ہائیکورٹ میں درخواست ہے اور عدالت عالیہ کے فیصلے پر اہم قانونی نکات ہیں جن پر عدالت کی معاونت کرنی ہے لہذا وقت دیا جائے۔جمعہ کوعدالت میں پیشی کے لیے کیپٹن  صفدر پہلے ہی عدالت پہنچ چکے تھے، نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ایک ساتھ عدالت پہنچے جبکہ نیب کی ٹیم اور سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت پہنچے۔کیس میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد نوازشریف کی پہلی مرتبہ پیشی کے موقع پر ن لیگ کے کارکنان اور پارٹی رہنمائوں کی بڑی تعداد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھی۔سابق وزیراعظم کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچنے پر کارکنان نے نوازشریف کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب، راجہ ظفر الحق، پرویز رشید، طارق فاطمی، طلال چوہدری، محسن رانجھا اور آصف کرمانی سمیت دیگر بھی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود تھے۔نوازشریف کے ساتھ آنے والے بعض لوگوں کو عدالت کے اندر جانے سے روک لیا گیا۔نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے ا ور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف لندن پراپرٹیز، فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز کے ریفرنسز دائر کیے ہیں جن میں فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔

اسلام آباد (صباح نیوز) سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی سزا دی جا رہی ہے ۔ کیا سی پیک کی سرمایا کاری اور کراچی  میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے؟آصف علی زرداری کسی اور کو خوش کرنے کے لیے مجھے گالیاں دے رہے ہیں ۔ ہمارے ٹکرائو کی بات تو ہوتی ہے مگر دوسروں کی جو ہم سے ٹکر ہوتی ہے اس حوالہ سے بات نہیں ہوتی ۔ کوئی این آر او نہیں ہو رہا نہ پہلے ہوا اور نہ اب ہو رہا ہے ۔ وہ ملک میں آزاد اور خود مختار عدلیہ کے بڑے سپورٹر ہیں، ایسی عدلیہ کو سپورٹ نہیں کرتے جو آمروں کے گلے میں ہار پہنائے اور خوش آمدید کہے اور نظریہ ضرورت ایجاد کرے ۔ گزشتہ 17 سال سے سن رہے ہیں کہ ٹیکنو کریٹ کی حکومت آ رہی ہے یہ کسی کی خواہش ہو سکتی ہے جو پوری نہیں ہو گی ۔ احتساب عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ جو صورتحال اس وقت ہے ایسا لگتا ہے کہ مجھے کراچی میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے، ملک میں سی پیک کی سرمایاکاری لانے کی سزا دی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری میرے خلاف جو بات کر رہے ہیں وہ دراصل کسی کو خوش کرنے کے لیے بات کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور جو کچھ میں نے کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے جو کوشش میں نے کی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں ۔ میں نے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا ہے اور دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کی سزا مجھے دی جا رہی ہے ۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ تمام جمہوری پارٹیوں کو ایک اصول پر اکٹھا ہونا چاہیے ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کس چیز کے لیے پیشیاں بھگت رہے ہیں، کرپشن کیس ہے ،کسی سے کک بیک وصول کئے ہیں یا ٹھیکے میں کوئی پیسے لیے ہیں؟ ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کیا ۔ملک میں ریکارڈ ترقی ہوئی ، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور اسٹاک ایکس چینج ملک کی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹکرائو کی باتیں تو ہوتی ہیں تاہم دوسروں کی ہم سے جو ٹکر ہوتی ہے اس حوالہ سے بات نہیں ہوتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی این آر او نہیں ہو رہا نہ پہلے ہوا ہے اور نہ اب ہو رہا ہے ۔ ماضی میں جو این آر او ہوا تھا وہ پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کے درمیان ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں آزاد اور خود مختار عدلیہ کے بڑے سپورٹر ہیں ۔ ایسی عدلیہ کو سپورٹ نہیں کرتے جو آمروں کے گلے میں ہار پہنائے اور خوش آمدید کہے اور نظریہ ضرورت ایجاد کرے  ۔ ان کا کہنا تھا کہ 17 سال سے یہ باتیں سن رہے ہیں کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت آ رہی ہے یہ کسی کی خواہش ہو سکتی ہے جو پوری نہیں ہو گی ۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کی کارروائی اوپن ہونی چاہیے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہر چیز کھل کر سامنے آئے اور ہر چیز کا اوپن ٹرائل ہو تو ملک آگے جائے گا چھپ چھپا کر چیزیں رکھی گئیں تو لوگوں نے دیکھ لیا کہ کیا ہوا ۔ آہستہ آہستہ چیزیں اوپن ہو رہی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کنونشن میں 12 سوالات پوچھے تھے اور ایک سوال کا بھی جواب سامنے نہیں آیا ۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے اندر اختلافات کی خبریں میں بھی سنتا رہتا ہوں مگر کوئی اختلاف نہیں ہے لوگوں کی یہ خواہش ضرور ہے جو یہ خواہش رکھتے ہیں ان کو ناکامی ہو گی ۔ اداروں کے درمیان ٹکرا6 کے سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹکرا6 کی تو بات ہوتی ہے لیکن جو ہمیں ٹکر مارتا ہے اس کی کوئی بات نہیں کرتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی مارچ آتا ہے تو مارچ کی افواہیں گرم ہو جاتی ہیں اور یہ معاملہ آج سے نہیں 1997 ء سے میں یہ معاملہ سن رہا ہوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں مگر کسی کیس کی نگرانی نہیں ہو رہی کبھی نہیں دیکھا کہ سپرجج کسی کیس کی نگرانی کر رہے ہیں مگر ہمارے ریفرنس کی نگرانی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ توہین عدالت صرف باہر سے ہی نہیں ہوتی بلکہ اندر سے بھی توہین عدالت ہوتی ہے ۔