پاکستان اور کشمیر میں بیک وقت انتخابات کروائے جائیں،بیرسٹر سلطان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ اگلا سال سیئز فائر لائن کو توڑنے کا سال ہے اسی لئے 27 اکتوبر 2014 ء سے اسکی ریہرسل شروع ہے۔ لندن، نیویارک، برسلز ملین مارچ کے بعد اب میں نے برلن میں ہونے والے ملین مارچ میں دیوار برلن کی طرح سیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔پاکستان میں سیاسی ماحول کا درجہ حرارت کم ہونے کے بعد میں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرونگا تاکہ جو بھی کال اس سلسلے میں دی جائے وہ متفقہ ہو۔ 27 اکتوبر کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی تھیں اسی لئے میری تجویز ہے کہ 27 اکتوبر 2018 ء کو سیئز فائر لائن توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔اگر دیگر سیاسی جماعتیں چاہیں گی تو اسمیں کچھ روز یا ہفتوں کے لئے تاریخ آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔ نواز شریف کو کشمیریوںکے خون سے غداری کی سزا مل رہی ہے۔ نواز شریف اورمسلم لیگ ن کو بھارت سے دوستی کی وجہ سے ہم کشمیریوں کو ازخود ہی کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان میں جلد انتخابات کا مطالبہ کیا ہے جو کہ انتہائی دانشمندانہ ہے تاکہ ملک کو غیر یقینی صورتحال سے نکال کر آگے بڑھے۔ ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں بیک وقت الیکشن کرائے جائیں۔ کیونکہ پچھلے ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ جو پارٹی پاکستان میں اقتدار میں ہوتی ہے وہی آزاد کشمیر میں حکومت بنا لیتی ہے۔ اسطرح آزاد کشمیر کے عوام کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔ جبکہ پچھلے الیکشن میں تو بہت بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔ اسلئے ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک ہی روز الیکشن کرائے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی رہنماء اشرف جنجوعہ کی طرف سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر استقبالیہ کی صدارت کامران عباسی نے کی جبکہ استقبالیہ سے پی ٹی آئی کشمیر کے سینئر نائب صدر خواجہ فاروق احمد، پی ٹی آئی کشمیر کے بانی صدر راجہ مصدق خان،سابق ممبر اسمبلی چوہدری مقبول احمد، پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سردار امتیاز خان،پی ٹی آئی کشمیر شعبہ خواتین اسلام آباد کی صدرخولہ خان، ساجد جاوید عباسی، خواجہ بشیر، رشید شاہ کاظمی، راجہ بنارس، نصراللہ جرال،ساجد عباسی، راجہ خرم اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ جب سے برہان وانی کی شہادت ہوئی ہے میں نے اپنا فوکس مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر رکھا ہوا ہے۔ تاکہ بھارت کے مظالم کو پوری طرح بے نقاب کیا جا سکے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی تحریک و جمہوری تحریک کے بارے میں دنیا کو بتایا جا سکے۔ کشمیری اب بھی پر امن ہیں۔ نائن الیون کے بعد کشمیریوں نے بندوق اسلئے نیچے رکھ دی تھی کیونکہ نائن الیون کے بعد آزادی کی تحریکوں کو بھی دہشتگردی سے منسلک کر دیا جاتا تھا۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں اس وقت ایک ریاستی و جمہوری تحریک چل رہی ہے۔ لیکن بھارت کی سات لاکھ فوج وہاں پر کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ کشمیری سیئز فائر لائن کو توڑنے کے لئے تیار ہوجائیں ۔ انھوں نے کہا کہ اگلا سال سیئز فائر لائن کو توڑنے کا سال ہے اسی لئے 27 اکتوبر 2014 ء سے اسکی ریہرسل شروع ہے۔ لندن، نیویارک، برسلز ملین مارچ کے بعد اب میں نے برلن میں ہونے والے ملین مارچ میں دیوار برلن کی طرح سئیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔پاکستان میں سیاسی ماحول کا درجہ حرارت کم ہونے کے بعد میں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرونگا تاکہ جو بھی کال اس سلسلے میں دی جائے وہ متفقہ ہو۔ 27 اکتوبر کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئی تھیں اسی لئے میری تجویز ہے کہ 27 اکتوبر 2018 ء کو سیئز فائر لائن توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔اگر دیگر سیاسی جماعتیں چاہیں گی تو اسمیں کچھ روز یا ہفتوں کے لئے تاریخ آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔ نواز شریف کو کشمیریوںکے خون سے غداری کی سزا مل رہی ہے۔ نواز شریف اورمسلم لیگ ن کو بھارت سے دوستی کی وجہ سے ہم کشمیریوں کو ازخود ہی کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان میں جلد انتخابات کا مطالبہ کیا ہے جو کہ انتہائی دانشمندانہ ہے تاکہ ملک کو غیر یقینی صورتحال سے نکال کر آگے بڑھے۔ ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں بیک وقت الیکشن کرائے جائیں۔ کیونکہ پچھلے ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ جو پارٹی پاکستان میں اقتدار میں ہوتی ہے وہی آزاد کشمیر میں حکومت بنا لیتی ہے۔ اسطرح آزاد کشمیر کے عوام کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔ جبکہ پچھلے الیکشن میں تو بہت بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔ اسلئے ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک ہی روز الیکشن کرائے جائیں۔
