مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج نے مسعود اظہر کے بھتیجے سمیت 3 نوجوانوں شہید کردیئے

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا مولانا مسعود اظہر کے بھتیجے  سمیت 3مجاہدین شہید کرنے کا دعویٰ،فوجی ہلاک،دو زخمی ،محاصرے کے دوران لوگوں کا شدید احتجاج،بھارتی فوج کی فائرنگ سے دو نوجوان زخمی ،دو مکانات کو دھماکے سے اڑا دیا گیا،جیش محمد نے بھی طلحہ رشید،محمد بھائی اور وسیم کے شہید ہونے کی تصدیق کر دی، اوڑی میں  شہید ہونے والے دو عدم شناخت  جنگجو سپرد خاک،بانہال میں بی ایس ایف اہلکار کی فائرنگ سے تعمیراتی کمپنی کا گارڈ زخمی،ملزم اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا،شوپیاں میں لوگو ں کا بی جے پی کے قافلے پر پتھراؤ،کئی گاڑیوں کء شیشے توڑ دئیے،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،گاندر بل کے جنگلات سے لاوارث اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ  کیا گیا ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے  سرحدی ضلع پلوامہ کے گاؤں الگر کنڈی  میں  مجاہدین کے ساتھ مبینہ جھڑپ میں  جیش محمد کے سربراہ  مولانا مسعود اظہر  کے بھتیجے  سمیت 3مجاہدین کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ آپریشن کے دوران فائرنگ سے ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا ہے ۔حکام  کے مطابق  بھارتی فورسز اور مبینہ مجاہدین کے درمیان جھڑپ پیر اور منگل کی درمیانی شب شروع  ہوئی جو منگل کی صبح تک جاری  رہی۔اس دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں 3مبینہ مجاہدین شہید ہوئے جن میں سے ایک کی شناخت  طلحہ رشید کے نام سے ہوئی ہے جو جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا تھا۔بھارتی خبر ایجنسی کے مطابق جیش محمد کے ترجمان نے تصدیق کی  ہے کہ طلحہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا تھا جبکہ مارے دیگر دو مجاہدین میں  ایک کو محمد بھائی کے نام سے جانا جا تا تھا جو جیش محمد کو ڈویژنل کمانڈر تھا،محمد بھائی بھی غیر مقامی تھا جبکہ تیسرا نوجوان مقامی تھا جس کی شناخت  وسیم کے نام سے ہوئی اور وہ  پلوامہ کے علاقے دربگام کا رہائشی تھا۔ بھارتی فورسز کے مطابق مجاہدین کے اسی گروپ نے  ہفتہ کو راجپورہ میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق مجاہدین کے قبضے سے پہلی بار امریکی ساختہ اسلحہ برآمد ہوا ہے ۔وادی میں بھارتی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  فورسز کو انٹیلی جنس اطلاعات ملی تھیں کہ علاقے میں مجاہدین  موجود ہیں  جس پر بھارتی فوج 44راشٹریہ رائفلز،پولیس ،کمانڈوز اور سی آر پی ایف  نے علاقے کو محاصرے میں لے کر مشترکہ سرچ آپریشن کیا  اور رات کے اندھیرے میں تمام راستے بند کر کے مجاہدین کے فرار کو مسدود کیا گیا۔مجاہدین کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہو ا جبکہ اس موقع پر مقامی لوگوں نے آپریشن میں  خلل ڈالنے کی کوشش کی اور فورسز کی فائرنگ سے ایک  شوکت احمد نامی ایک شہری بھی زخمی ہوا۔مجاہدین کے قبضے سے  ایک اے کے 47رائفل،ایک ایم16امریکی رائفل اور ایک پستول برآمد ہوا ہے ۔مقامی پولیس ترجمان منوج پنڈتا نے 3مجاہدین اور ایک فوجی کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے  تاہم مارے جانے والے فوجی کے حوالے سے مزید تفصیل نہیں دی گئی۔ترجمان کے مطابق مارے جانے والے جنگجوؤں کا تعلق جیش محمد سے تھا۔جنھوں نے ایک گھر میں پناہ لے رکھی تھی ۔حکام کے مطابق کارروائی میں دو فوجی شدید زخمی بھی ہوئے  جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔  بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی آرمی چیف   بپن راوت نے سماجی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں  واقعہ کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مارا جانے والا مسعود اظہر کا بھتیجا تھا یا کوئی اور ہم نے تمام عسکریت پسندوں کے خاتمے  کا تہیہ کر رکھا ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق 44آر آر اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے شام کے قریب 5بجے گائوں کا محاصرہ کیا جس کے بعد قریب ساڑھے پانچ بجے جنگجوئوں اور فوج میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ محاصرہ شروع ہوتے ہی مقامی لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے مظاہرے شروع کئے جس کیساتھ ہی فائرنگ بھی شروع ہوئی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ گائوں کے پہلے ہی محلہ میں غلام حسن لون وغیرہ کے مکانوں کے نزدیک جھڑپ شروع ہوئی تھی اور ایسا معلوم ہوا کہ جنگجو مکانوں سے باہر آئے تھے، پھر وہ کہاں چلے گئے یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ جنگجوئوں نے فورسز کی تلاشی پارٹی پر حملہ کیا اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوئے البتہ پولیس سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی۔فائرنگ کے تبادلے میں شام سندر نامی فوجی اہلکار شدید زخمی ہوا جو زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔ جبکہ 2فوجی شدید زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ فائرنگ کے دوران طارق احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ نامی نوجوان چھاتی میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا جس کی حالت صورہ میں انتہائی نازک قرار دی جارہی ہے،ایک اور نوجوان زخمی ہوا جس کا نام شوکت احمد بتایا گیا ہے ۔  مقامی لوگوں نے بتایا کہ مکان کو 3بار بارودی مواد سے اڑا دیا گیا جس کے بعد فائرنگ تھم گئی۔ادھر اوڑی میں اتوار کو کمل کوٹ سیکٹر میں جاں بحق کئے گئے دو عدم شناخت جنگجوئوں کو قصبہ میں ٹی وی ٹاور کے نزدیک سپرد خاک کیا گیا۔اس موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔واضح رہے کہ فوج نے اتوار کو دعوی کیا تھا کہ انہوں نے دراندازی کی ایک کوشش کو نا کام بناتے ہوئے 2 جنگجو ئوں کو جاں بحق کیا تھا۔دریں اثناء بانہال میں ایک نجی کمپنی کا سیکورٹی گارڈ فورسز اہلکار کے فائر سے زخمی ہوا جس کے بعد پولیس نے اس واقعہ میں ملوث اہلکار کو گرفتار کرلیا ہے۔ زخمی نوجوان شوکت احمد نائیک ولد غلام نائیک ساکن چاپناڑی بانہال کے بائیں کندھے میں گولی لگی ہے اور ٹانگوں پر بھی زخموں کے نشان ہیں۔ پولیس نے فائر کھولنے والیبی ایس ایف  نوجوان امت چاتیا  14 بٹالین الفا کمپنی کو سروس رائفل سمیت  گرفتار کر کے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے ۔مجدلہ اور چاپناڑی کے مقامی لوگوں نے پیر کو بھی بلاجواز فائرنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ شوکت احمد نائیک نے  بتایا کہ وہ ریلوے کے ایک پل پر سیکورٹی گارڈ کی حیثیت سے تعینات تھا گزشتہ رات  رات کھانا کھانے کیلئے دوسرے ساتھیوں کے پاس جارہا تھا کہ زیر تعمیر ریلوے ٹنل نمبر 77 کی حفاظت پر معمور ایس ایس بی کے احاطے کے نزدیک ایک اہلکار نے گولی چلا دی ۔ شوکت کا کہنا ہے کہ اس نے گولی چلانے سے پہلے ایس ایس بی اہلکار کو بتایاکہ وہ عام شہری ہے اور ریلوے کی تعمیراتی کمپنی میں بطور سیکورٹی گارڈ تعینات ہے لیکن اس نے پھر بھی کئی گولیاں چلائیں۔ فائرنگ کا علم ہوتے ہی سینکڑوں لوگ ریلوے ٹنل نمبر 77 مجدلہ کے نزدیک جمع ہوئے اور احتجاجی مظاہرے کئے۔فائرنگ اور احتجاج کی  خبر ملتے ہی ایڈیشنل ایس پی رام بن مشتاق احمد چودھری، ایس ڈی پی او بانہال دھیرج کٹوچ،ایس ایچ او بانہال اعجاز وانی وہاں پہنچے اور لوگوں کو کارروائی کی یقین دہانی کرائی اور اتوار کی رات دیر گئے خاطی ایس ایس بی اہلکار کانسٹبل امت چاتیا کو سروس رائفل سمیت حراست میں لیکر  174CrPc کے تحت کیس درج کرکے واقع کی تحقیق شروع کی ہے ۔ ادھر بھاجپا یو تھ ا مورچہ کے لیڈروں کے قافلے پر ہال شوپیان میں پتھرائو کیا گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔یوا مورچہ کے راشٹریہ نائب صدر انجینئر اعجاز حسین اور جنرل سیکریٹری ابی جیت مشرا  سوموار کو بونہ گام شوپیان میں ضلع صدر گوہر احمد بٹ کی ہلاکت پر انکے گھر گئے تھے اور جب وہ واپس آرہے تھے تو انکی گاڑیوں پر ہال پلوامہ کے نزدیک نوجوانوں نے شدید پتھرائو کیا تاہم  دونوں کارکنوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔انکے ساتھ سیکورٹی عملہ بھی تھا اور انکی گاڑیاں بھی پتھرائو کی زد میں آگئیں۔ادھر گاندربل پولیس نے نجون کنگن کے جنگلات کو محاصرے میں لے کر تلاشی کاروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق 24آر آر اور ایس او جی گاندربل نے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر نجون کنگن کے جنگلات کو محاصرے میں لیکر تلاشی شروع کردی ۔پولیس ذرائع کے مطابق تلاشی کاروائی کے دوران فوج اور پولیس نے نجون جنگلات سے عسکریت پسندوں کی دو کمین گاہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ایس ایس پی گاندربل فیاض احمد لون نے اس ضمن میں کشمیر عظمی کو تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ 24آر آر اور ایس او جی گاندربل نے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر نجون کنگن کے جنگلات کو محا صرہ کرکے تلاشی کاروائی شروع کردی جس کے دوران جنگلات سے عسکریت پسندوں کی دو کمین گاہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کے علاوہ کھانے پینے کا سامان بھی برآمد کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کمین گاہ سے 19یوبی جی ایل شلس، 3چینی گرنیڈس ،ایک 15mmیوبی جی ایل ،ایک وائر لیس سیٹ ،ایک AK-47میگزین کے علاوہ کچھ کمبل بھی برآمد کئے گئے ہیں۔
دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین نوجوانوں کو شہید کردیا، جھڑپ میں ایک بھارتی فوجی  ہلاک ہوگیا، بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ شہید نوجوانوں میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا طلحہ راشد بھی شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں آپریشن کرتے ہوئے تین نوجوانوں کو شہید اور ایک کو زخمی کردیا جبکہ جھڑپ میں ایک بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوگیا۔ فوج نے پلوامہ کے علاقے اگلار کنڈی میں میں آپریشن کے دوران ان نوجوانوں کو شہید کیا۔بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کے خلاف کشمیری عوام کی بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئے اور بھارتی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ کشمیری حریت پسندوں کے حملے میں ایک بھارتی فوجی زخمی ہوا جسے سرینگر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔دوسری جانب بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ شہید نوجوانوں میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا طلحہ راشد بھی شامل ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جیش محمد کے ترجمان نے اپنے بیان میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں مسعود اظہر کے بھتیجے طلحہ راشد کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔