کشمیر کمیٹی کی پالیسی وہ ہو گی جو ریاست طے کریگی،فضل الرحمن

اسلام آباد(صباح نیوز) پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین  مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ہر سطح پر اجاگر کریںگے کشمیر کمیٹی کی وہی پالیسی ہوگی جو ریاست طے کرے گی، پاکستان کے اندر آمدہ انتخابات میں ہر پارٹی اپنے منشور میں مسئلہ کشمیر کو ترجیح اول کے طور پر شامل کرے ،5فروری بھرپور انداز سے منایا جائے گا، بیرون ملک مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لابنگ کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے اور ہمارے دور میں جو مجھ سے ہوسکا کیا ہے، اور آئندہ بھی کریں گے، کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل عبدالرشید ترابی، سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر، امیر جمعیت علماء اسلام مولانا سعید یوسف، مسلم کانفرنس سے ایم ایل اے صغیر چغتائی، حریت قائدین غلام محمد صفی، فیض نقشبندی، لبریشن فرنٹ کے رفیق ڈار، گلگت سے مشتا ق ایڈووکیٹ ،نورالباری سمیت دیگر قائدین نے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں کشمیر کے تین اکائیوں کے قائدین نے مسئلہ کشمیر کے حل اور اس کو اجاگر کرنے کے حوالے تجاویز دیں، ان تجاویز سے مولانا نے اتفاق کیا۔ اس موقع پر  مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ 5فروری کو دونوں ایوانوں میں قراردادیں لائیں گے، کوشش ہوگی کے تمام صوبائی اسمبلیاں بھی اس موقع پر قرار دادیں پاس کر کے اپنا پیغام دیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں، کشمیری جس سطح کی قربانی دے رہے ہیں ان کو گلہ بنتا ہے، اس سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، عالمی سطح پر امریکہ اور بھارت مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں،11ستمبر کے  بعد عالمی حالات میں تبدیلیاں آئیں ان کا سامنا کرنا پڑا، اس موقع پر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کے کنونیئر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ کشمیری اللہ کے بعد پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں، تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کی جنگ لڑ رہے ہیں، عالمی سطحُ کشمیریوں کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع دیا ہے حالیہ دنوں میں ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں کشمیر کو زیر بحث لایا گیا  اسی طرح دیگردنیا کی پارلمینٹس میں اس کو زیر بحث لایاجاسکتاہے ترکی کی پارلیمنٹ میں لایا جا سکتا ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو باہم مربوط  کرکے ان کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ بنانے کی ضرورت ہے،آئینی پراسیس مکمل ہوچکاہے اس پر غور کرکے کشمیریوںک وسائل  اورآزادی کے لیے رول دیا جائے،حکومت پاکستان ایک مستقل پالیسی تشکیل دے روزنئے فارمولوں سے نقصان ہوتاہے،اس موقع پر شاہ غلام قادر نے کہاکہ کشمیریوں کو آپ سے امیدیں وابستہ ہیں،سیز فائر لائن پر حالات جنگ کی صورت کے ہیں،مہاجرین کے اپنے مسائل ہیں،اس لیے پاکستان کے تمام جماعتیں اپنے منشور میں کشمیر کو ترجیحٰ اول بنائیں، اسی طرح مولانا سعید یوسف ،غلام محمد صفی ،صغیر چغتائی اور دیگر قائدین نے مثبت تجاویز دیں۔