سرینگر میں بھارت مخالف بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی

شہید نوجوان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت
سرےنگر31جنوری(کے ایم ایس) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مذمت کیلئے سینئرمزاحمتی رہنماءمحمد یاسین ملک کی قیادت میں آج سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں جامع مسجد کے باہر ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرے کا اہتمام سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کیاتھا۔ سیدعلی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے گھر وں میں مسلسل نظربندی کی وجہ سے ریلی کے شرکاءسے ٹیلی فونک خطاب کیا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ مارچ میںحریت رہنماﺅں محمد یوسف نقاش ،یاسمین راجہ ،نور محمد کلوال ،ہلال احمد وار،عمرعادل ڈار ، بشیراحمد کشمیری ،دیویندر سنگھ اور فاروق احمد سوداگر نے بھی شرکت کی ۔
 محمد یاسین ملک نے مظاہرے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی فورسزجنوبی کشمیر میں بے گناہوں کے خون کی ہولی کھیلنے کے علاوہ تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران مرد ،خواتین اور بچوں کو گھروں سے باہر نکال کرکئی کئی گھنٹوںتک شناختی پریڈ کرائی جاتی ہے ۔ یاسین ملک نے مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے جمعہ کو شوپیاں چلو مارچ کی کال دی ۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نماز جمعہ کے بعد شوپیاں چوک میں ایک بڑی ریلی نکالی جائیگی ۔
شوپیاں میں ہزاروں لوگوں نے شہید نوجوان رئیس احمد گنائی کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔لوگوں کی کثیر تعداد کے باعث شہید کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی۔ رئیس احمد بھارتی فوجیوں کی طرف سے 27جنوری کو ضلع شوپےان کے علاقے گنو پورہ مےں پرامن مظاہرےن پر فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہو ا تھا اور وہ صورہ ہسپتال سرینگر میں چار روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد آج چل بسا ۔
دریں اثنارئیس احمد اور دیگر نوجوانوں کی شہادت پر آج پلوامہ اور شوپیاں کے اضلاع میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ پلوامہ میں مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔تحریک حریت جموںوکشمیر کا ایک وفد شہید نوجوانوںکے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ضلع شوپیاں کے علاقوں گنو پورہ ، آڑو او کلام پورہ گیا۔
گجر بکروال طبقے سے وابستہ لوگوں نے ضلع کٹھوعہ میں ایک کم عمر لڑکی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے بہیمانہ واقعے میں ملوث مجرموںکی گرفتاری میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی ناکامی کے خلاف جموں میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ادھر مختلف آزادی پسند رہنما 2010کی احتجاجی تحریک کے دوران شہید ہونے والے نوجوان وامق فاروق اور دیگر شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے آج مزار شہداءعید گاہ سرینگر گئے ۔ اس موقع پر ایک دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
مظفر آباد میں آج ایک بھارت مخالف ریلی نکالی گئی ۔ ریلی کا اہتمام آزاد جموںوکشمیر یونیورسٹی نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کےخلاف کیاتھا۔KMS