باغ،ناقص آٹا مہنگے داموں فروخت،شہری پیٹ کے امراض میں مبتلا

باغ (سٹی رپورٹر) باغ اور مضافات میں غیر معیاری ناقص آٹے کی سپلائی بدستور دھڑلے سے جاری ۔ بیماریوں نے غریب عوام کے گھر ڈیرے ڈال دئیے ۔ عوام معدہ ، السراور پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلاہونے لگی ۔ غریب عوام مہنگائی کے اس مشکل دور میں بھی اشیاء وخوردونوش کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریاں بھی خرید رہی ہے۔ باغ انتظامیہ خواب غفلت کے مزے لوٹ رہی ہے ۔ اٹا جب پانی میں گھولاگیا تووہ ایسے ہوگیا جیسے پلاسٹک ہوتی ہے ۔ جب اسے انگاروں پررکھاگیا وہ بجائے پکنے کے پلاسٹک کی طرح سمٹ گیا ۔ ناقص غیر معیاری اٹے کی سپلائی کرنے والے ڈیلروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ضلع باغ میں اس کی سپلائی دھڑلے سے جاری ہے ۔ اٹے سے مرغیوں کی تلیوں اور پروں جیسی بدبو آتی ہے ۔ ریاست کے باسیوں کو یہ اٹا اپاہیج بنایا جارہا ہے ۔ انتظامیہ فوری نوٹس لے ۔ ان خیالات کا اظہار ایک سروے کے دوران ساہلیاں ملدیالاں کے رہائشی سردار علی اصغر خان ، قاری راشد، محمد امیر ، محمداسلم ، ضمیر خان، منیر خان، محمد نسیم ، محمد اکرام اور دیگر نے کیا انھوں نے بتایا کہ اٹا چیک کیاگیا تو اس کے تھیلے کے اندر مرغی کی تلیاں ، پراور رسیاں برامد ہوئیں ۔ انتظامیہ عوام کی خادم بننے کی بجائے حاکم بن بیٹھی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ انھوں نے سپریم کورٹ اف ازاد کشمیر جی اوسی مری اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اس کا نوٹس لیں اور عوام کو صحت منداٹا فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں بصورت دیگر شرقی باغ کی عوام باغ کی شہریوں کے ساتھ مل کر ضلعی انتظامیہ باغ کے خلاف ایک احتجاجی تحریک چلائیں گے اور باغ میں داخل ہونے والے تمام زمینی راستے بند کردیں گے حالات کی خرابی کی تمام ترذمہ داری ضلعی انتظامیہ باغ پر عائد ہوگی انھوں نے کہا کہ اشیاء خوردونوش سمیت میڈیسن بھی باغ کے اندر غیر معیاری سپلائی کی جارہی ہیں کوئی بھی متعلقہ ذمہ داری اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہا ۔ عوام کو تمام شعبہ زندگی میں دن دیہاڑے لوٹا جارہا ہے باغ کے دونوں وزراء عوام خدمت کا دعوی خبروں کی حدتک کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کے لئے ضلعی انتظامیہ کو حرکت میں لائیں ۔ انھوں نے کہا کہ انجمن تاجران باغ، ریڑہ بھی اس کا سختی سے نوٹس لیں اور عوام کے ساتھ ہونے والی اس ظلم وزیادتی کے خلاف انتظامیہ کے خلاف احتجاج کی کال دے ۔ انھوں نے کہا کہ باغ میں مصنوی مہنگائی کا ایک بحران مختلف مافیا کی شکل میں غریب عوام پر ایک سازش کے ذریعے مسلط کیا جارہا ہے متعلقہ ادارے نوٹس لینے کی بجائے باغ میں مافیا کے سرپرست بن چکے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کہ باغ میں جنگل کا قانون رائج ہے ۔