ماتحت عدالتیں مقدمات میں بلاوجہ تاخیر سے گریز کریں،چیف جسٹس

میرپور(بیورو رپورٹ) آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے کہا ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں میڈیا کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے اور میڈیا معاشرے کی آنکھ اور کان کی بنیادی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اسی باعث معاشرتی برائیوں کے خاتمہ اور سدباب سمیت ناانصافیوں کو اجاگر کرکے قوم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے اور عوامی شعور کی بیداری میں کلیدی حیثیت کا حامل بن چکا ہے ، جس نے انتخابی عمل میں بھی جمہوری روایات کو تقویت دیتے ہوئے دیگر شعبوں میں بھی مثبت اور جمہوری عمل کے تسلسل کو پروان چڑھانے میں اچھا پیغام دیا ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کشمیر پریس کلب میرپور اور کشمیر الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن میرپور کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے موقع پر کشمیر پریس
کلب میرپور میں خطاب کرتے ہوئے کیا اس سے قبل جب چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس راجہ محمدسعید اکرم کے ہمراہ کشمیر پریس کلب میرپور پہنچے تو نومنتخب صدر کشمیر پریس کلب سید عابد حسین شاہ ، جنرل سیکرٹری چوہدری سجاد قیوم خانپوری ، صدر سنٹرل یونین آف جرنلسٹس محمد ظفیر بابا ، صدر کشمیر الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن میرپور سید سجاد حسین بخاری ، سابق سیکرٹری جنرلز کشمیر پریس کلب ظفر مغل ، کامران بخاری ، سابق صدر ارشد محمود بٹ، سینئر نائب صدر سجاد جرال ، نائب صدر ممتاز خاکسار ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل خرم عثمان ، سیکرٹری اطلاعات وقاص رشید اور دیگر صحافیوں نے ان کا استقبال کیا ۔ نومنتخب صدر کشمیر پریس کلب میرپور سید عابد حسین شاہ نے کے پی سی آمد پر چیف جسٹس آزادکشمیر اور سینئر جج سپریم کورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آزاد خطہ میں سپریم کورٹ نے قانون و انصاف کے تقاضوں کے مطابق فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے شاندار روایات قائم کی ہیں جس کیلئے سپریم کورٹ کے تمام ججز صاحبان مبارکبادکے مستحق ہیں ۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس راجہ محمد سعید اکرم نے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور کہا کہ جمہوری پراسیس کے ذریعے برداشت اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اکثریتی فیصلے کو قبول کرنے کی خوبصورت مثال قائم کی ہے جس کے تحت ہارنے اور جیتنے والے دونوں گروپ پھر سے ایک ہی کلب میں جمع کر ہو کر اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
چیف جسٹس آزادکشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ کشمیر پریس کلب میرپور اداروں کی بہتری اور معاشرے میں مثبت انداز فکر کے تحت شعور کی بیداری اور مظلوم طبقوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے اپنا بھرپور کردارادا
کرتے رہے گا چیف جسٹس آزادکشمیر کے کہا کہ آزاد خطہ میں سپریم کورٹ واحد عدالت ہے جس میں کوئی بھی مقدمہ طوالت اور تاخیر کا شکار نہیں ہے بلکہ بعض مقدمات میں ایک ایک دن میں سماعت کے بعد فیصلے سنا کر فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو آئین اور قانون کے تحت یقینی بنایا گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان اپنے فرائض منصبی اپنے حلف کی پاسداری میں قانون و ضابطے کے تحت انتہائی دیانتداری سے انجام دینے پر کمر بستہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آزادکشمیر میں سوموٹو(از خود نوٹس) کا اختیار نہیں ہے اور ہم نے اپنے حلف ، آئین اور قانون کے مطابق ہی چلنا ہوتا ہے قانون سازاسمبلی کا اختیار ہے اور وہی سپریم کورٹ کو سوموٹو کا اختیار دے سکتی ہے البتہ چھوٹی اور ماتحت عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ مقدمات کی بلاوجہ تاخیر سے گریز کرتے ہوئے قانون و انصاف کے مطابق سائلین کو کم مدت میں انصاف کی فراہمی کویقینی بنائیں اس سلسلے میں قواعد میں غیر ضروری پابندیاں بھی نرم کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات اور نظام عدل کی بہتری کیلئے مفاد عامہ میں جو بھی مثبت تجاویز میڈیا یا اہل فکر و دانش کی طرف سے آئیں گے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے قابل عمل تجاویز پر عملدرآمد کیلئے اقدامات اٹھانے میںکوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا مقصد معاشرے میں انصاف کی فراہمی ہے، بڑے اور بااثر تو کسی نہ کسی طرح فوری ریلیف لے لیتے ہیں لیکن غریب اور پسے ہوئے طبقات کے بہت مسائل ہیں اور ماتحت عدلیہ کو اس جانب خصوصی توجہ دیکر پرانے روایتی کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے ۔
