ناموس رسالت پر جان بھی قربان،جھوٹا الزام لگانے والوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے،فاروق حیدر

مظفرآباد(وقائع نگار) آزاد جموں وکشمیر کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مشائخ عظام، مذہبی جماعتوں کے قائدین نے آزادکشمیر میں ختم نبوت کے قوانین کو مکمل طور پر نافذ العمل قرار دینے کے حوالے سے آزادکشمیر کے عبوری ایکٹ1974ء میں ترمیم کیلئے عملی اقدامات اٹھانے پر وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے آزاد کشمیر کی پارلیمانی و سیاسی تاریخ میں ایک تاریخ ساز کارنامے کے طور پر گردانتے ہوئے اس کار خیر میں شریک میجر (ر) محمد ایوب مرحوم اور اس وقت کی اسمبلی جنہوںنے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا موجودہ ممبران اسمبلی راجہ محمد صدیق خان،پیر علی رضابخاری سمیت تمام اراکین ،ممبران قانون ساز اسمبلی و پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ ان کیلئے باعث سعادت ہے کہ ختم نبوت کی قرارداد پاس کروانے میں ان کا بھی کردار شامل ہے۔ ایوان وزیر اعظم مظفرآباد میں منعقدہ خصوصی نشست جس کی صدارت وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کی جبکہ اجلاس میں وزیر قانون راجہ نثار احمد خان، ممبر اسمبلی پیر علی رضا بخاری، راجہ محمد صدیق خان، چیئرمین ذکوٰة کونسل آزادکشمیر صاحبزادہ سلیم چشتی، چیئرمین علماء و مشائخ کونسل عبیداللہ فاروقی،سیکرٹری قانون ارشاد قریشی،ایڈووکیٹ جنرل رضا علی خان، قاضی شکور مہروی،سینرء قانون دان راجہ حنیف ایڈووکیٹ، مشتاق جنجوعہ ایڈووکیٹ، ڈپٹی سیکرٹری قانون زاہد راجپوت جبکہ علماء کرام میں سے مولانا سعید یوسف، مفتی کفایت حسین نقوی،مولانا حمیدا لدین برکتی، مولاناقاضی محمودالحسن اشرف، قاضی شاہد حمید ،سید شبیر حسین بخاری، مولانا امتیاز احمد صدیقی ،دانیال شہاب مدنی، قاضی منظور الحسن،مفتی محمد حسین چشتی،میجر (ر) شبیر احمد،مولانا عبدالوحید قاسمی،قاضی شبیر احمد،محمودالحسن چوہدری ودیگر نے شرکت کی۔ سیکرٹری قانون ارشاد قریشی نے شرکاء کو ختم نبوت کے بل کی جزیات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیااور علماء کرام سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں مزید رہنمائی فرمائیں۔مشاورتی نشست میں شامل تمام شرکاء نے فرداً فرداً تفصیلی اظہار خیال کیا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اس موقع پر کہاکہ یہ امر میرے ہمارے لیے باعث سعادت ہے کہ آزاد کشمیر کے اندر اس حوالے سے عبوری ایکٹ1974میں ترمیم کی جارہی ہے ، اس حوالے سے 6فروری کو آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی و کونسل کا مشترکہ اجلاس ہو گا جس میں مسودے کو باضابطہ طور پر منظوری کے لئے پیش کیا جائیگا۔ ہماری خواہش تھی کہ اس سے قبل علماء کرام سے بھی رہنمائی حاصل کر لیں تاکہ بعد میں جو قانون بنے وہ ایک مکمل اور ختم نبوت کے حوالے سے تمام امور کا احاطہ کرتا ہو۔انہوںنے کہا کہ یہ ایک مبارک موقع ہے ہم اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں یہ سعادت بخشی کہ ہم بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ بل کی تیاری ، قرارداد کی منظوری کے عمل میں شامل تمام اراکین اسمبلی کو مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ میجر (ر) محمد ایوب خان اور اس وقت کی قانون ساز اسمبلی کو بھی ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بل کی تیاری اور اس سارے عمل میں وزیر قانون راجہ نثار احمدخان ،ممبران اسمبلی پیر علی رضا بخاری اور راجہ محمد صدیق خان سمیت قانونی ٹیم اور آفیسران بھی مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ آزادکشمیر میں ختم نبوت سے متعلق مضامین کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائیگا۔ آزادکشمیر پر امن خطہ ہے ،یہاں بین المسالک ہم آہنگی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا کردار لائق تحسین ہے ۔اسلام دین عالم ہے جو ہمیں آپس میں مل بیٹھنے کا حکم دیتا ہے ،ہم اتحاد و یگانگت سے ہی تمام مسائل سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ،نبی کریم ۖ کی ذات پر ہمارا سب کچھ قربان ان کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے ۔اس موقع پر علماء کرام نے اظہار خیال کرتے ہوئے متفقہ طور پر وزیر اعظم آزادکشمیر کا اس کار خیر میں شامل کرنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ اد ا کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر میں اس سے پہلے بہت ساری اسمبلیاں اور بہت سارے وزیر اعظم آئے مگر رب تعالیٰ نے یہ اعزاز راجہ محمد فاروق حیدرخان کے مقدر میں لکھا جنہوںنے اس اہم اور تاریخ ساز عمل کو پائیہ تکمیل تک پہچایا ۔ اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ کسی پر جھوٹا الزام لگانے والے کے خلاف بھی قانون کے تحت کارروائی یقینی بنائی جائیگی ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے علماء کرام کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا ۔ کئی گھنٹو ں پر مشتمل اس تفصیلی نشست میں تمام شرکاء نے ختم نبوت اور ناموس رسالت ۖ کے تحفظ کا عزم کیا۔

مظفرآباد(بیورورپورٹ)وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مہاجرین جموں وکشمیر ہمارے جسم و جان کا حصہ ،انکے دکھ درد اور تکالیف سے پوری طرح آگاہ ہوں ۔فروری کے آخر میں سارے آزادکشمیر کے مہاجر کیمپوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کرونگا،چھوٹے بڑے جتنے بھی مسائل ہیں سب کو حل کرنامیری ذمہ داری ہے ، 6فیصد کوٹے پر ہر صورت عملدرآمد ہوگا،مہاجرین نے تحریک آزادکشمیر کیلئے جو خدمات سرانجام دیں  اپنا گھر بار چھوڑا،جو تکالیف اور مصائب و الام برداشت کیے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا، گزارہ الائونس میں اضافے نوٹیفکیشن ایک ابتداء ہے ابھی انشاء اللہ مرحلہ وار تمام مسائل کے حل کیلئے منصوبہ بندی کررکھی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مہاجرین جموں وکشمیر کے دو الگ الگ وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ممبر قانون ساز اسمبلی نسیمہ وانی بھی موجود تھیں ۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر وفد کو گزارہ الائونس میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی دیا۔ اس موقع پر نوجوانوں نے وزیر اعظم ہائوس کے احاطے میں وزیر اعظم آزاد کشمیر کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر بھر میں قائم مہاجر کیمپوں کے اندر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا پہلی بار مسلم لیگ ن کی حکومت نے منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت مرحلہ وار آزاد کشمیر کے تمام کیمپوں کے اندر پختہ گلیوں، واٹر سپلائی سکیم ،پختہ راستوں ،انسان دوست ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے اس حوالے سے منصوبہ جات مرتب کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بحالیات و دیگر محکمہ جات کو کیمپوں کے اندر کیمپوں کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے بھی عملی اقدامات کی ہدایت کی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے دعوے نہیں عملی اقدامات اٹھائے ہیں اور انشاء اللہ ہماری پوری کوشش ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑنے والوں کو کسی بھی موقع پر یہ احساس نہ ہو کہ انہوںنے کوئی غلط فیصلہ کیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی اولین ترجیح تحریک آزادی کشمیر ہے جس کیلئے تمام تر ذرائع بروئے کار لارہے ہیں، مہاجرین کے گزارہ الائونس میں اضافے سمیت ان کے دیگر مسائل کا حل بھی اس کا حصہ ہے ۔