بھارتی حربے ہمیں کشمیریوں کی سیاسی و سفارتی حمایت سے دستبردار نہیں کر سکتے،برجیس طاہر

اسلام آباد(وقائع نگار)وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان چودہری محمد برجیس طاہر نے کہا ہے کہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری عوام یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یوم یکجہتی کشمیر کے دن پوری پاکستانی قوم یک زبان ہو کر ہندوستان کو پیغام دیں گے کہ چاہے بھارت ہمارے خلاف کیسی ہی سازشیں کیوں نہ کر لے، حق خود ارادیت کے لیے کی جانے والی کشمیریوں کی جدوجہد کی تمام ترسیاسی ،سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک منظم منصوبے کے تحت ماورائے عدالت قتل کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے جس کے باعث پچھلے ستر سالوں میں ظلم و تشدد کے باعث مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا گیاہے جس کا بین الاقوامی برادری کو فوراً نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے تمام تر حربے پاکستان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت سے دستبر دار نہیں کر ا سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہر سال کہ طرح اس سال بھی یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بھرپور انتظامات کیے گئے ہیں اور اپنے مقبوضہ کشمیر کے بہنوں اور بھائیوں سے یکجہتی سے بھرپور پیغام ایل او سی کے اُس پار پہنچایا جا رہا ہے ۔ 5فروری کے حوالے سے کیے گئے انتظامات سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوے وفاقی وزیر نے کہا 5 فروری کو وزیراعظم پاکستان 5فروری کو آزادکشمیر کونسل اور آزادکشمیر قانونسازاسمبلی کے جوائنٹ سیشن سے خطاب کریں گے۔بیرون ملک قائم میں فارن مشنز یوم یکجہتی کے حوالے سے خصوصی ریلیاں جلسوں ،سیمینارز،تصویری نمائشوں کا انعقاد کریں گیے جن میں کشمیر ی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا اور بھارتی مظالم کو دُنیا کے سامنے اُجاگر کیا جائے۔یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی ڈاکیومنیٹری اور نغمہ بھی تیار کیا گیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان کی تمام صوبائی حکومتوں نے ہمیشہ کشمیریوں سے یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا ہے اورصوبوں میں وزرائے اعلیٰ خصوصی تقاریب سے خطاب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزارت اُمور کشمیر یوم یکجہتی کے حوالے سے تمام تر سرگرمیوں کی معاونت کرے گی تاکہ اس دن کی اہمیت احسن طریقے سے اُجاگر کی جاسکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور مسلہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے،انہوںنے کہا کہ تقسیم ہند کے موقع پر کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 78 % تھا جو اب بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں اور غیر ریاستی عناصر کو مختلف اوقات میں کشمیر میں بسانے کی وجہ سے % 69 فیصد رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1948 سے لے کر 1957 تک اقوام متحدہ کی دس سے زاہد قرار دادیں موجودہیں جس کے تحت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا اور اس کا حل استصواب رائے کے ذریعے کرانے کا وعدہ کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی Arm Race میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سر پر جنگی جنون سوار ہے اورتازہ دفاعی معاہدے بھارت کی جنگی جنونیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماڈرن ہسٹری میں کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم جیسی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے کہا کہ وادی میں شدید موسم کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ،کشمیر کی گلیوں اور سڑکوں پر سبز ہلالی پرچم لہراے جاتے ہیں اور شہید ہونے والوں کو اسی پرچم میں تدفین کی جاتی ہے جو ان کی پاکستان سے وابستگی کا کھلا اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرانے کی کوشش کررہا ہے لیکن کشمیروں کے عزم کے سامنے بھارت کے بدترین تشدد ،اجتماعی قبریں اور کالے قوانین جیسے ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پیلٹ گن کے سفاکانہ استعمال حیوانیت کی بدترین مثال ہے،برہان وانی اور 12 سالہ جنید جیسے نوجوان بچوں کی قربانیوں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
