پاکستان جاگ رہا ہے،ججوں کو کوئی نہیں نکال سکتا،چیف جسٹس

اسلام آباد (صباح نیوز)الیکشن ایکٹ 2017کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہاہے کہ پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے ،نہ ہم پریشان ہیں اور نہ ہی قوم پریشان ہے الحمد اللہ کوئی نکال باہر نہیں کرسکتا ، عدالت عدلیہ کی تضحیک اورتذلیل پرآرٹیکل 204 کے تحت سزا دے سکتی ہے،یہاں عدالت کو سیکنڈلائز کیا جارہا ہے ،جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا جوہواہے جوہورہاہے جو آگے ہوگا سب اللہ کی نشانی ہے پاکستان میں جمہوریت ابھی نوجوان (ینگ) ہے پاکستان جاگ رہاہے یہ بہت چھوٹی سی بات ہے پوری قوم پربھرم ہے ۔ہم ایسی باتوں کوجانے دے رہے ہیں کوئی بھی شخص اس ملک کوتباہ نہیں کرسکتا ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن ایکٹ 2017کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کا آغاز کیا تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتیں ختم ہوجائیں تو پھر جنگل کاقانون ہوگا مجھے جسٹس اعجازالاحسن نے برطانیہ کی عدالت کافیصلہ نکال کردکھایاہے اگر عدالتی فیصلے پر بلاجواز تنقید ہوتوفیصلے میں لکھاہے ججزجواب دے سکتے ہیں جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ عدالت کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے کاجواب دیناپڑتاہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم جلسہ کرسکتے ہیں نہ لوگوں کوہاتھ کھڑاکرنے کاکہہ سکتے ہیں یہ عدالت آئین کے تحت بنائی گئی ہے چیف جسٹس نے کہاکہ سردارلطیف کھوسہ فیصلے کوبراکہتے ہیں لیکن احترام کرتے ہیں ۔چیف جسٹس نے راجہ ظفرالحق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ راجہ ظفرالحق صاحب آپ عدالت میں آتے ہیں ہمیں خوشی ہوتی ہے آج کل آپ کے ڈرانے والے لوگ نہیں آتے ہمیں ڈرانے والے لوگ عدالت نہیں آتے انہیں تو لے کر آئیںذرا ان لوگوں کو کبھی پیار سے لے کر آئیں۔ان لوگوں کو لے کر آئیں ذرا ہم بھی دیکھیں ہم ڈرتے ہیں یا نہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا تقدس واضح نظر آنا چاہیے تھاجس کو جو ملتاہے یہاں سے تول کرلے جائے چیف جسٹس نے کہاکہ لطیف کھوسہ کے خلاف فیصلہ دیاان کے ماتھے پرشکن نہیں آتی ۔ دوران پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اپنایاکہ نواز شریف نے عدالت اورلوگوں کوبے وقوف بنانے کی کوشش کی 18ویں ترمیم میں آرٹیکل62ون ایف کوبرقرار رکھاگیا ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین ایک عمرانی معاہدہ ہے اور بہت مقدس ہے لطیف کھوسہ نے کہاکہ ججزکواختیار آئین اورعدلیہ نے دئیے ہیں عدلیہ اورفوج کوآئین نے تحفظ دیاہے آئین کاتحفظ اصل میں ملک کاتحفظ ہے ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ کسی آئینی ادارے کودھمکانہ تنقید کرنا آرٹیکل 5کی خلاف ورزی ہے چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے لوگوں پر عدلیہ کے وقار کوبحال کرناہے کون صحیح اورکون غلط ہے اس کافیصلہ لوگوں نے کرناہے ۔لطیف کھوسہ نے کہاکہ لوگوں کومعلوم ہے اس عدلیہ پر حملہ کس نے کیا چیف جسٹس نے کہاکہ توہین عدالت کیس میں مجرم کی سزا6ماہ ہے عدالت کے پاس اس سے زیادہ ملزم کوجیل بھیجنے کااختیار ہے ؟لطیف کھوسہ نے کہاکہ عدالت اتنی رحمدلی نہ دکھائے کہ ریاست کوجھیلناپڑے ۔لطیف کھوسہ نے کہاکہ یہ لوگ اپنے خلاف خبر نہیں چھپنے دیتے عدالت نے انھیں گارڈ فادر ایسے ہی نہیں کہا یہ گارڈ فادر ہیں لطیف کھوسہ نے دعوی کیاکہ پانامامعاملہ میں نظرثانی کافیصلہ اخبارمیں مکمل طور پر نہیں چھپا پورا فیصلہ چھپ جاتا تو یہ نہ کہتے مجھے کیوں نکالا ۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے جعلی دستاویزات پیش کی گئی ، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ عدالت نے واضح قرار دیانواز شریف نے مکمل سچ نہیں بتایا چیف جسٹس نے کہاکہ حضرت عمر کاہمارے ہاں کیامقام ہے کرتے پر حضرت عمر پرسوال اٹھ گیا لیکن حضرت عمر نے کرتے کے سوال پرآگے سے سوال نہیں اٹھایا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ فیصلے میں لکھاگیا نواز شریف نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ نئے قانون پر اثاثوں کی ڈیکلریشن کاخانہ ختم کردیا گیا ۔چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے بھی اس قانون پر ہاتھ کھڑاکیاہوگا ۔ اس دوران عدالت نے الیکشن ایکٹ 2017کے پاس ہونے کے حوالے سے مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پارٹی کاسربراہ امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیتاہے لطیف کھوسہ نے کہاکہ نوازشریف وزیراعظم بننے کے بعد سپراوزیراعظم بن گئے ہیںبطور صدر نواز شریف وزیراعظم کونکال سکتے ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ کیاموجودہ وزیراعظم کے بیانات کاریکارڈ موجود ہے ؟موجودہ وزیراعظم کہتے ہیں انھیں کسی نے وزیراعظم بنایاہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں نواز شریف ان کے وزیراعظم ہیں وزیراعظم کہتے ہیں انھیں نواز شریف نے وزیراعظم بنایاہے وزیراعظم کہتے ہیں انکاوزیراعظم نواز شریف ہے عدالتی فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا قانون سازپارلیمنٹ کے ذریعے عدالتی فیصلے کا اثرختم کرسکتے ہیں ، کیا ہم اس بنیاد پر قانون کو کالعدم قراردے سکتے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہاکہ قانون آئین کے متصادم ہے کالعدم ہوسکتا ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے مطابق آئین کی روح یہ ہے کہ ریاست پرایماندرا شخص حکمرانی کرے ، اگر ادارے کا سربراہ ایماندارنہ ہوتو پورے ادارے پر اثر پڑتا ہے ، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی عمارت شاہرہ دستور پرقائم عمارتوں سے اونچی ہے لیکن یہ عمارت کیوں اونچی ہے نہیں بتائوں گاکیونکہ ہماری ذمہ داری انصاف کرنا ہے جس سے معاشرہ قائم رہتا ہے ، بے انصافی سے معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا ، لطیف کھوسہ نے کہاکہ سیسیلین مافیا اور گاڈ فادر کی عدالتی آبزرویشن درست تھی آج کہا جارہا ہے چیف جسٹس سمیت تمام ججزکو باہر نکال دیں، چیف جسٹس نے کہاکہ پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے ،نہ ہم پریشان ہیں اور نہ ہی قوم پریشان ہے الحمد اللہ کوئی نکال باہر نہیں کرسکتا ، ریاست کی ستون کی بنیاد عدلیہ ہے ، عدلیہ کی تضحیک اورتذلیل پرآرٹیکل 204 کے تحت سزا دے سکتی ہے ،یہاں عدالت کو سیکنڈلائز کیا جارہا ہے ،
