ختم نبوت بل کی منظوری،حرمین شریفین میں آزادکشمیر اسمبلی کیلئے خصوصی دعا

مکہ مکرمہ(اے بی سی نیوز)آزادکشمیر میں ختم نبوت بل کی منظوری پر حرمین شریفین میں آزادکشمیر اسمبلی کیلئے خصوصی دعائیہ تقاریب منعقد ہوئی ہیں جن میں ارکان اسمبلی کیلئے دعا کرتے ہوئے انہیں اس سعادت پر مبارکباد بھی پیش کی گئی ہے۔یاد رہے کہ آزادکشمیر اسمبلی نے گذشتہ روز قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تاریخی قرارد کی منظوری دیتے ہوئے ختم نبوت بل کو آزادکشمیر کے آئین کا حصہ بنالیا ہے۔دریں اثنا انٹر نیشنل ختم نبوت کے مرکزی امیر ڈاکٹر سعید عنایت اللہ،سیکرٹری جنرل ڈاکٹر احمد علی سراج اور نائب امیر مولانا عبدالروف مکی نے ختم نبوت بل کی منظوری اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر ازاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔حرمین شریفین سے جاری ایک بیان میں قائدین ختم نبوت نے کہا کہ کشمیر اسمبلی نے 45 سال بعداسمبلی نے متفقہ ائینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قرار دیکر قادیانیت کے تابوت میں اخری کیل ٹھونک دیا ہے۔اب پاکستان کے بعد کشمیر میں بھی ارتداد کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا ہے.۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اسمبلی نے پاکستان سے بھی پہلے 1973میں قادیانیوں کے کفر کی توثیق کردی تھی،مگر بدقسمتی سے یہ کارروائی کشمیر کے ائین کا حصہ نہ بن سکی۔ اب ازادکشمیرکے باغیرت مسلمانوں نے قادیانیت کے کفرپر ایک بارپھر مہرتصدیق ثبت کردی ہے،جس پر صدر،وزیر اعظم،وزیر قانون،سپیکر اوراراکین ازاد کشمیر  اسمبلی مبارکباد کے مستحق ہیں.انہوں نے کہا کہ 1974 میں پاکستانی پارلیمنٹ کے تاریخ ساز فیصلے اور پھر امتناع قادیانیت ارڈینینس کے بعد قادنیوں نے ازاد کشمیر کو ارتدادی سر گرمیوں کا مرکز بنا رکھا تھا،اور برطانوی ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے مرزائی گرو یہاں فوکس کئے ہوئے تھے،لیکن اب کشمیر اسمبلی کے فیصلے کے بعد قادیانیوں کا لندن پلان  خاک میں مل گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قادیانی قیام پاکستان سے پہلے ہی کشمیر پر نظریں جمائے ہوئے ہیں لیکن کشمیر جنت نظیر پر کبھی ان کے پلید قدم نہیں جم سکے،اب کشمیر اسمبلی نے انہیں ہمیشہ کیلئے راندہ درگاہ قرار دیکر دیس نکالا دے دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ فیصلے کے بعد حرمین شریفین میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مقیم علمائے حرمین،پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن اللہ کے حضور سر بسجود ہوگئے۔بیت اللہ اور مسجد نبوی میں شکرانے کے نوافل ادا کئے اور ازاد کشمیر اسمبلی کے لئے خصوصی دعا ئیں بھی کیں۔شیخ حرم کعبہ مولانا محمد مکی حجازی بیت اللہ شریف میں اپنے درس میں ختم نبوت کا تذکرہ کرتے ابدیدہ ہو گئے اور گڑ گڑاتے ہوئے دعا کرتے رہے۔مدرس مسجد نبوی قاری بشیر احمد صدیق بھی اپنی قران کلاس میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور کشمیر اسمبلی کیلئے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیے۔