بدعنوانی کے خاتمے کیلئے شکل نہیں کیس دیکھیں گے، چیئرمین نیب

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ملک میں بدعنوانی تیزی سے سرائیت کر رہی ہے جس کے خاتمے کے لئے کسی کی شکل نہیں بلکہ کیس دیکھیں گے۔ 

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا چیئرمین نیب نے کہا کہ ملک اس وقت 84 ارب ڈالرز کا مقروض ہے اور یہ رقم کہاں اور کیسے خرچ ہوئی نظر نہیں آتی مگر جواب ملتا ہے کہ ہمارے خلاف سازش ہورہی ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مزید کہا کہ نیب کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں اور نہ ہی نیب کسی سے امتیازی سلوک پر یقین رکھتا ہے، احتساب سب کے لئے پالیسی پر زیرو ٹالرنس اور خود احتسابی ہماری اولین ترجیح ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا 'بیورو کریسی خاص کر پنجاب کے بعض اداروں سے عدم تعاون کی شکایت ہے، اب تک مسکرا کر برداشت کیا، لیکن آئندہ عدم تعاون ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا'۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ 'عدم تعاون کی روش مناسب نہیں، اسے ختم کریں، آئندہ شکایت ہوئی تو حکومت پنجاب کے تمام افسران کے لیے بڑی مشکل ہوجائے گی'۔

چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ 'جمہوریت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہو رہی، یہ ضروری ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کے بجائے ملک و قوم کا وفادار اور خدمت گزار بنا جائے'۔

اپنے خطاب کے دوران جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کے گواہوں کو ہرحال میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا، 'اگر یہ محسوس کیا گیا کہ بااثر ملزمان گواہوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں تو ان کی ضمانت مسترد کرنے سمیت تمام اقدامات کیے جائیں گے'۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال  کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ماہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں مبینہ کرپشن کے معاملے پر نیب کی جانب سے بلائے جانے کو 'بدنیتی' قرار دیا تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ 'جن لوگوں نے اربوں روپے کے قرض معاف کروائے، وہ سب ٹھیک ہے لیکن ہم نے آشیانہ، میٹرو اور دیگر منصوبوں میں قوم کے اربوں روپے بچائے اس کے باوجود ہمیں بلایا جا رہا ہے'۔

شہباز شریف نے کہا تھا کہ 'چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے کہوں گا کہ اپنے عملے سے کہیں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے کاسہ لیس نہ بنیں، مجھے کڑا احتساب منظور ہے لیکن احتساب کے نام پر سیاست اور انتقام منظور نہیں ہے'