امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اختیار پارٹی سربراہ کے پاس ہے، الیکشن کمیشن

کراچی: الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ پارٹی سربراہ ہی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا مجاز ہے۔

الیکشن کمیشن حکام کے مطابق پارٹی سربراہ کا نمائندہ بھی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر سکتا ہے۔

فاروق ستار اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی میں سینیٹ انتخابات کے ٹکٹ کے معاملے پر شدید اختلافات برقرار ہیں اور  رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو پارٹی سربراہ کے اختیار کے حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے۔

رابطہ کمیٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اختیار پارٹی سربراہ کے پاس نہیں بلکہ پارٹی آئین کے تحت رابطہ کمیٹی کے پاس ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی نے اپنے آپ کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ جو نام رابطہ کمیٹی منتخب کرے گی وہی سینیٹ کے امیدوار ہوں گے۔

خط کے متن کے مطابق پارٹی آئین کی شق 19 اے کے تحت الیکشن کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ رابطہ کمیٹی دے گی اور ہر طرح کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ دینےکا اختیار صرف رابطہ کمیٹی کو ہے۔

رابطہ کمیٹی کے مطابق رابطہ کمیٹی نے امیدواروں کے لیے خط لکھنے کا اختیار خالد مقبول صدیقی کو دیا جو امیدواروں سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کے مجاز ہیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے بہادر آباد میں پارٹی کے عارضی مرکز پر شام 7 بجے اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اجلاس میں مذاکرات نہیں بلکہ سینیٹ امیدواروں کے ناموں پر مشاورت ہوگی اور امیدواروں کو ٹکٹ دیے جائیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان میں تنظیمی بحران کی وجہ

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی جانب سے کامران ٹیسوری کا نام سینیٹ امیدوار کے طور پر سامنے آنے پر پارٹی میں اختلافات نے سر اٹھایا جو بحران کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔

رابطہ کمیٹی نے 6 فروری کو اجلاس بلاکر کامران ٹیسوری کی نہ صرف 6 ماہ کے لیے رکنیت معطل کی بلکہ انہیں رابطہ کمیٹی سے بھی خارج کیا جس کے بعد فاروق ستار نے اجلاس کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس میں شریک رہنماؤں کی رکنیت کچھ دیر کے لیے معطل کی۔

رابطہ کمیٹی کے رکن خالد مقبول صدیقی کے مطابق روایات، اصولوں اور طریقہ کار کے تحت رابطہ کمیٹی نے ترتیب وار 6 امیدواروں کے نام سینیٹ کی نشستوں کے لیے تجویز کیے تھے۔

جن میں ڈپٹی کنوینئر نسرین جلیل، فروغ نسیم، امین الحق، شبیر قائم خامی، عامر خان اور کامران ٹیسوری شامل تھے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کی خواہش تھی کہ ہم دو ساتھیوں کی قربانیاں دے کر ہر حالت میں کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا امیدوار بنائیں۔