بھارتی اوچھے ہتھکنڈے جاری،افضل گورو کی برسی پر بھی قدغن لگائی گئی،حریت قیادت
اسلام آباد(فورم:حسیب شبیر چوہدری)افضل گورو شہید کی پانچویں برسی کے موقع پر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 8لاکھ بھارتی درندہ صفت فوج تعینات ہے اور کشمیر بھارتی فوج کی چھاؤنی کے مناظر پیش کر رہا ہے۔ہندوستان کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔آئے روز چھاپے مار ے جا رہے ہیں اور گرفتاریاں کی جا رہی ہیں ۔بھارت کی جانب سے ظلم کی انتہاء کر دی گئی ہے مگر تمام کوششوں کے باوجود بھارت ناکام ہے کشمیریوں کا جذبہ آزادی کم نہیں کر سکا ہے۔افضل گورو کو بے گناہ پھانسی دی گئی ہے جو کہ عدالتی قتل ہے۔افضل گورو کی برسی پر بھی قد غن لگا ئی گئی ہے اور حریت قیادت کو نظر بند کیا گیا ہے۔جامع مسجد سرینگر اکثر و بیشتر لاک ڈاؤن کر دی جاتی ہے اور جمعہ کی نماز بھی ادا نہیں کرنے دی جاتی۔ افضل گورو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا اوربھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ میں لکھا کہ ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا مگر ہندوستانی عوام کے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے پھانسی ضروری ہے۔سیکورٹی فورسز کو کالے قوانین کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور ہندوستان کی سیکورٹی فورسز کیخلاف کسی بھی نوعیت کا مقدمہ درج نہیں کروایا جا سکتا۔ان خیالات کا اظہار آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کنونئیر سید فیض نقشبندی،سیکرٹری اطلاعات عبدالحمید لون، سابق کنونئیرمحمد فاروق رحمانی،پرویز احمد ایڈووکیٹ،راجہ خادم حسین،اعجاز رحمانی،اشتیاق حمید،شیخ عبدالمتین، امتیاز وانی نے روزنامہ کشمیر ٹائمز فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔سید فیض نقشبندی نے کہا ہے کہ افضل گورو کا جوڈیشل قتل کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر کے عوام اور ورثاء کی ڈیمانڈ ہے کہ جسد خا کی حوالہ کیا جائے مگر آج تک افضل گورو کی باقیات نہیں دی گئی۔پھانسی کے وقت گھر والوں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔سزا کیلئے ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر بھارتی سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ افضل گورو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں عوام کے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے پھانسی کی سزا دی ہے۔کشمیری عوام سے آزادی اظہار رائے کا حق مکمل چھین لیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ہندوستان کی حکومت نے 26دسمبر کو ایک آرڈر پاس کیا کہ کوئی بھی سرکاری ملازم اگر سوشل میڈیا کا استعمال کرے گا تو اس کو نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔عبدالحمید لون نے کہا ہے کہ افضل گورو کو بے شہید کیا گیا سپریم کورٹ نے خود بے گناہ تسلیم کیا مگر اس کے باوجود ہندوستانی عوام کے ضمیر کو مطمء کرنے کیلئے عدالتی قتل کیا گیامقبو ضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ۔آئے روز قتل عام کیا جا رہا ہے ،آر ایس ایس اور بی جے پی کی پالیسی کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور بزور طاقت تحریک آزادی کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کے وزرائسلہ کشمیر بارے میں کوئی خاطر اقدام نہیں اٹھا رہے ہیں البتہ صدر ریاست سردار مسعود خان کا مسلہ کشمیر کے حوالہ کردار قابل تحسین ہے۔سابقہ دور حکومت میں گورو کے حوالہ سے تین روزہ سوگ منایا گیا تھا اور پرچم سرنگوں رکھا گا تھا اور مسلہ کشمیر پرکئی پروگرام اور سیمینار بھی کروائے گئے تھے ۔برھان وانی کی شہادت نے تحریک میں ایک نئی روح پھونکی مگر آزاد کشمیر حکومت کی کارکردگی صفر ہے ۔فاروق رحمانی نے کہا کہ افضل گورو کا عدالتی قتل کیا گیا ہے ۔افضل گورو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا اور نہ ہی گورو کو صفائی کا موقع دیا گیا تھا۔کشمیری مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔بھارت نے تمام حربے آزاما لئے مکمل ناکام ہو رہا ہے اور تحریک پہلے سے زیادہ تیز ہو رہی ہے۔پرویز احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ افضل گورو کو پھانسی دینے کیلئے انصاف کے تقا ضے پورے نہیں کئے گئے تھے۔عدلیہ کے پاس کوئی ایسی شہادت نہین تھی جس کی بنیاد پر تختہ دار پر لٹکا یا جا تا۔راجہ خادم حسین نے کہا کہ افضل گورو کی قربانی سے ہندوستان خوفزدہ ہے اسی لئے آج تک باقیات ورثاء کے حوالہ نہیں کی۔ہندوستان کی اس طرح کی حرکتوں سے ہر گز جذبہ آزادہ سرد نہیں ہو سکتا۔عوام کے جذبات مزید بڑھ رہے ہیں اور افضل گورو کے بیٹے نے بھی اپنے والد کے مشن کی تکمیل کیلئے جدوجہد کا عہد کیا ہے۔برھان وانی کی شہادت کے بعد دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک حق خود ارادیت کی تحریک ہے اس میں کوئی بیرونء ہاتھ نہیں ہے۔اعجاز رحمانی نے کہا کہبھارت میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔گورو کی پھانسی کے فیصلی میں واضح لکھا ہے کہ عوام کو مطمئن کرنے کیلئے دباؤ کے پیش نظر پھانسی دی گئی ۔عدالت کے پاس گورو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا۔آج بھی مختار وازہ،محمد یوسف نقاش اور دیگر حریت قائدین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارتی حکموت اور فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیان کی جا رہی ہیں۔اشتیاق حمید نے کہا کہ افضل گورو کشمیریوں کے ہیرو ان کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں۔گورو شہید کا عدالتی قتل کیا گیا ہے ۔بغیر ثبوت کے عدالت نے صرف عوام کے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے پھانسی دی گئی ہے۔شیخ عبدالمتین نے کہا کہ ہندوستان نے ظلم و جبر کی انتہاء کر دی اور کوئی ایسا حربہ نہیں چھوڑا جس سے کشمیریوں پر ظلم نہ کیا گیا ہو مگر جذبہ آزادی کم نہیں کر سکا۔کشمیریوں کے آزادی کے نعرے اور پاکساتن کی محبت نے بھارت کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ افضل گورو اورتمام کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔امتیاز وانی نے کہا ہے کہ افضل گورو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا ،گورو کا عدالتی قتل کیا گیا۔بھارت اپنے کالے قوانین کے ذریعے درندہ صفت فورسز کو تحفظ فراہم کر رہا ہے اور کشمیریوں کو بے دردی سے قتل کر رہا ہے مگر بھارت کا ہر حربہ ناکام ہے۔کشمیری حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
