پراپرٹی ٹیکس کیخلاف رٹس دائر،آزادکشمیر ہائیکورٹ نے وزیراعظم پاکستان کو طلب کر لیا

مظفرآباد (سٹاف رپورٹر) آزاد کشمیر عدالت العالیہ میں جائیداد وں پر دوہرے ٹیکسوںکیخلاف رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے جسکے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کو (بحیثیت چیئرمین کشمیر کونسل) نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کیا گیاہے اور کشمیر کونسل کے علاوہ وزیراعظم آزاد کشمیر ،وزیرخزانہ کو انکم ٹیکس کلکٹر انکم ٹیکس ڈپٹی کمشنر وغیرہ کو بھی نوٹس جاری ہوئے ہیں گزشتہ زروز شیخ مقصودبنام آزاد کشمیر حکومت کے عنوان سے دائر کردہ رٹ میں سابق وزیر خواجہ فاروق احمد نے دائر کردہ رٹ میں موقف اختیار کیا آزاد کشمیر کے عوام پہلے ہی محکمہ انکم ٹیکس کو جائیداوں پر سالانہ ٹیکس ادا کررہے ہیں آزاد کشمیر حکومت نے بغیر جواز کے اپنے اخراجات کیلئے نیا قانون نافذ کر دیا ہے جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے ڈبل ٹیکس نافذ نہیں ہو سکتا رٹ میں ڈبل ٹیکس کو چیلنج کرتے ہوئے نئے نافذ العمل قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے جسٹس عدالت العالیہ جسٹس اظہر سلیم بابر نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈبل ٹیکس کیخلاف حکم امتناعی جاری کر دیا ہے اور فریق حقدار کو آئندہ تاریخ سماعت پر طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیئے ہیں اس موقع پر شیخ مقصود انجمن تاجران کے صدر شوکت نواز میر ، چیئرمین تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی رزاق خان کے علاوہ تاجران کی بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔

میرپور(بیورو رپورٹ)ڈسٹرکٹ بار میرپور نے ازاد جموں کشمیر ہائی کورٹ میں ازاد کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 2015 کے تحت پراپرٹی مالکان سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کر دی ،جس میںازاد جموںوکشمیر کونسل (وزیر اعظم پاکستان) سمیت ازاد حکومت بذریعہ سیکرٹری مالیات ،محکمہ انصاف و قانون و پارلیمانی افئیرز اور محکمہ انسانی حقوق ،ازاد جموں و کشمیر کونسل بذریعہ سیکرٹری کشمیر افئیرز سمیت محکمہ انکم ٹیکس انلینڈ ریونیو پراونیشل ٹیکسز کے متعلقہ افسران اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین احتساب بیورو ازاد جموںوکشمیرسمیت دیگر متعلقین کو فریقین بنایا گیا ہے،تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپور کے صدر چوہدری شبیر شریف ،سیکرٹری جنرل مدثر اقبال،سابق صدور چوہدری محمدصدیق، ذوالفقار احمد راجہ، چوہدری خالد رشید، کامران طارق، چوہدری ریاض عالم،ارشد محمود ملک،سردار اعجاز نذیراور ریاض نوید بٹ ایڈووکیٹس سمیت دیگر سینئر وکلاء کی طرف سے معروف قانون دان ذوالفقار احمد راجہ اور قاضی عدنان قیوم نے پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 2015ء کے تحت پراپرٹی مالکان سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے خلاف ازاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میرپور سرکٹ کی رجسٹری میں ایک رٹ پٹیشن دائر کرتے ہوئے موقف احتیار کیا کہ ازاد جموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی کے پاس عبوری ائین ایکٹ 1974ء کی دفعہ31کی ذیلی دفعہ 2کلاز A کے تابع پراپرٹی ٹیکس ایکٹ2015 ء اور پراپرٹی ٹیکس رولز 2015 ء پاس کرنے کاائینی و قانونی اختیار حاصل نہ ہے بلکہ یہ ائینی اور قانونی اختیار ازادجموںوکشمیر کونسل کے پاس ہے۔ رٹ میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس ارڈیننس 2001ء کی دفعہ 15کے تحت شہری امدن کرایہ پر پہلے سے ہی انکم ٹیکس ادا کررہے ہیں اور ازاد جموں کشمیر اسمبلی نے پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 2015ء کی دفعہ 3زیلی دفعہ 2کے تحت اسی کرایہ امدن کو دوبارہ تشخیص کر کے ٹیکس لگا دیا ہے جو دوہرے ٹیکس کے زمرہ میںاتا ہے جو کہ قانون اور ائین سے متصادم ہے اور ائین قانون میں دوہرے ٹیکس کی گنجائش نہیں ہے جبکہ عبوری ائین ایکٹ 1974کی دفعہ 4میں دئیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے ۔میرپور کے سینئر قانون دان و سابق صدر بار ذوالفقار احمد راجہ اور قاضی عدنان قیوم نے میڈیا کو بتایا کہ اس اہم رٹ پٹیشن میں احتساب بیورو ازادکشمیر کو اس لئے فریق بنایا گیا ہے کہ احتساب بیورو چھوٹے درجے کے ملازمین کو تو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے میں مصروف نظراتا ہے مگر بڑے مگر مچھوں کو کھلی چھٹی ہے جس سے عوام کا اعتماد اس ادارہ سے اٹھ چکا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ملی بھگت سے اربوں روپے کی چوری کی گئی ہے ۔جس کا سپیشل اڈٹ اور فرانزک اڈٹ انتہائی ضروری ہے ۔انہوںنے کہا کہ زیر دفعہ 177انکم ٹیکس ارڈینینس 2001اور زیر دفعہ 32سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کے تحت سپیشل اڈٹ پینل کی گنجائش موجود ہے ۔جس کی وصولی سے بے ضابطگی اور چوری کو ختم کر کے اربوں روپے قومی خزانہ میں جمع کروا کر عوامی و شہری مفاد میں خرچ کیا جا سکتا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ اس سلسلہ میں ائندہ چند روز میں تفصیلی پریس کانفرنس بھی کی جائے گی۔