آزادکشمیر رواں ہفتے 3بچیوں سے زیادتی اور ہراساں کرنے کی وارداتیں،انتظامیہ کیلئے لمحہ فکریہ

اسلام آباد(حسیب شبیر چوہدری) آزاد کشمیر انتظامیہ اور پولیس کی غفلت یا نا اہلی ،گزشتہ ہفتے میں آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز میں بچیوں کو حراساں کئے جانے اور زیادتی کے واقعات اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئے۔پولیس اس حوالہ سے پوری طرح سے معلومات دینے میں ٹال مٹول سے کام لے کر اپنی نا کامیاں چھپانے لگی۔مبینہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے آزاد کشمیر میں بچیوں کو حراساں اور زیادتی کرنے کے حوالہ سے واقعات میں تیزی سے اضا فہ ہوا ہے اور اس حوالہ سے پولیس اور انتظامیہ کا کردار صفر ہے۔پولیس با اثر شخصیات کے سامنے بے بس جبکہ شرفاء اور غرباء پر رعب جھاڑنے تک محدود ہو گئی ہے۔مبینہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز مظفر آباد،پونچھ اور میرپور میں بچیوں سے زیادتی اور حراساں کرنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں مگر تاحال انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اس طرح کے واقعات کے حوالہ سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔گزشتہ ہفتے میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں آزاد کشمیر کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ کشمیر میں مبینہ طور پر طالبات کو حراساں کئے جانے کی خبر ہے مگر تاحال پولیس با اثر ملزمان کے خلاف کاروائی نہیں کر پا رہی ہے جبکہ ملزمان بارے میں اطلاع ہے کہ یونیورسٹی کے ملازم ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالہ سے خبریں گردش کر رہی کہ کہ وہ ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔پونچھ ڈویژن میں عباسپور تھانہ کی حدود میں ایک کمسن بچی سے زیادتی کی کوشش کی گئی ہے مگر تا حال پولیس کی جانب سے ملزم کیخلاف کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے اور سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں کی جانب سے اس بچی کیلئے انصاف کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں مگر انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کاروائی سست روی کا شکار ہے جس سے اس طرح کے درندہ صفت ملزمان کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ میرپور ڈویژن میں خالق آباد میں 3اوباشوں نے کمسن طالبہ سے گینگ ریپ کیا مگر صرف ایک ملزم گرفتار ہوا ہے جبکہ 2 کے بارے میں ورثاء کا کہنا ہے کہ با اثر افراد انہیں مقدمے سے باہر رکھنے کیلئے متحرک ہیں اور پولیس ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔اسی طرح چڑالہ میں بھی ایک بچی کو اغواء کیا گیاہے جو بازیاب نہیں ہو سکی ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں پولیس کے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نطام نہیں ہے اور پولیس با اثر افراد کے سامنے بے بس ہے جبکہ تمام تر اختیارات کا رعب غرباء اور شرفاء پر چھاڑا جا ات ہے اور ملزمان کے خلاف کاروئی میں ٹال مٹول اور سست روی کے باعث جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ افزئی ہو تی ہے جس کے باعث آئے روز غیر اخلاقی حرکتوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں،پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی نہ کئے جانے پر حراساں کئے جانے اور زیادتی کے واقعات میں آئے روز اضا فہ ہو رہا ہے جس کے باعث ادروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔حکومت آزاد کشمیر محکمہ پولیس کے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو بہتر بنائے اور پولیس کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانے کیلئے معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے اور پولیس کی روزانہ کی کارکردگی اور کردار کو میڈیا کے ذریعے عوام اور اعلی حکام کے سامنے لا یا جا ئے۔بھاری تنخواہوں اور مراعات کے باوجود آزاد کشمیر پولیس کو عوام دوست نہیں بنا یا جا سکاہے۔
