بارش برفباری،آزادکشمیر کے چار اضلاع کا زمینی رابطہ منقطع،سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں

اسلام آباد،مظفر آباد،نیلم ،چڑالہ ،چکار (مانیٹرنگ ڈیسک،نمائندگان کشمیر )ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ برف باری مالم جبہ میں ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے رپورٹ کے مطابق مالم جبہ میں سب سے زیادہ 3 فٹ برف باری ریکارڈ کی گئی جبکہ آزادکشمیر، نتھیا گلی اور گلیات میں شدید برف باری کی وجہ سے راستے بند ہوگئے جس کے نتیجے میں سیکڑوں گاڑیاں اورسیاح پھنس گئے۔آزادکشمیر کے چار اضلاع کا زمینی رابطہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے منقطع ہوگیا ہے، مظفرآباد، باغ، نیلم، اور جہلم ویلی سے اسلام آباد، پنڈی اور لاہور جانے والی سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں اب تک 1 فٹ سے زیادہ برف باری ہو چکی ہے، کالام میں 6 انچ، زیارت میں 3 انچ برف باری ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ کے مقام پر 52 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری گلیات اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہے گا جبکہ میدانی علاقوں میں بارش کا
سلسلہ آئندہ 12 گھنٹوں میں ختم ہو جائے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان میں بارش اور برف باری کا سلسلہ 2 روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ملک کے مختلف شہروں سمیت خیبرپختونخوا میں بارش اور برف باری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ۔محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں اور برف باری کی پیشگوئی کر دی ۔تفصیلات کے مطابق ملک کے میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برف باری سے سردی کی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے ۔پنجاب سمیت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بارش کا سلسلہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب شروع ہوا۔خیبرپختونخوا میں بنوں اور گردونواح میں موسم سرما کی پہلی بارش ہوئی ۔پشاورمیں بھی 2ماہ بعد بارش کا سلسلہ شروع ہو ا بارش سے شہر میں جل تھل ہو گیا اور سردی بڑھ گئی ۔ شمالی وزیرستان میں بھی بارش اور برف باری سے سردی بڑھ گئی ۔ایجنسی کے پہاڑی علاقے شوال،بیرمل اور رزمک میں پہاڑوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی ۔سوات کے علاقے مینگورہ،کالام،مہوڈھنڈ،مالم جبہ،دیر لوئر،دیر اپر اور کوہستان میں بھی بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ جاری ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش دیر میں 22،کالام میں 13،پارا چنار12،دیر لوئر5،مالم جبہ 4،چترال3اور دروش میں 1ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پشاور سمیت مردان،بالائی فاٹا،مالاکنڈ،اسلام آباد،کشمیر،راولپنڈی،ہزارہ اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ مزید بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ریاستی دارالحکومت مظفراباد سمیت گردونواح میں گزشتہ رات سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری،بارش اور برفباری سے خشک سالی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں اضافہ،باران رحمت کے نزول پر عوام نے شکرانے کے نوافل ادا کئے۔طویل خشک سالی،پہاڑوں پر برفباری نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔جبکہ بارش نہ ہونے کے باعث خشک موسم کی وجہ سے کھانسی،سانس،امراض قلب،دمہ کی بیماریاں عام ہو گئی تھیں،مظفراباد کی قریبی پہاڑیوں پر برفباری کا سلسہ دو روز تک جاری رہنے کا امکان ہے،جبکہ بارش اور برفباری کے باعث کئی جگہوں پر راستوں کی بندش کی اطلاعات ہیں۔وادی نیلم میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے سردی کی
شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے بالائی وادی نیلم کے علاقوں تائوبٹ ،سرداری ہلمت ،کیل شاردہ سمیت دیگر علاقوں میں شدید برف باری سے سے راستے بند ہوچکے ہیں عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ چکی ہے راستے بند ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے بالائی علاقوں میں غذائی قلت اور ادویات کی کمی کی وجہ سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ چڑالہ ناڑاکوٹ سیسر ریالہ مندری ساہلیاں میں 2018کی پہلی بارش شروع ہوتے ہی شہریوں میں خوشی کی لہر ہر طرف شکرانے کے نوافل ادا کیئے گئے بارش کی وجہ سے پانی کی قلت میں کمی آگئی جبکہ بیماریوں میں کمی ہوجائے گی اکثر علاقوں میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک سردی اور پانی کی کمی اور بیماریوں میں اضافہ ہورہا تھا لیکن بارش اور اسکے بعد برفباری نے عوام کی مشکلات کم ہوگئیں لیکن دوسری طرف چڑالہ بازار اور چڑالہ تا غازی آباد سڑک کی تباہ حالی کی باعث حادثات میں اضافہ اور بازار میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات اور بارش کے باعث سرکاری اور پرائیوٹ اداروں میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہیطویل خشک سالی کے بعدبارانِ رحمت ،دھیرکوٹ سمیت اردگرد کے پہاڑوںنے برف کی چادر اوڑھ لی، وقفے وقفے سنوفال سے عوام لطف اندوز ہوتے رہے، سردی کی شدت میں اضافہ، بارش کے باعث دھیرکوٹ بازارویران، عوام گھروں میں محصورہوکررہ گئے، بجلی کی انکھ مچولی بھی جاری،تاہم لوگوں میں باران رحمت پر خوشی کی لہردوڑگئی،خشک میوہ جات کی مانگ میں اضافہ، گھروں سے گرم پکوانوں کی بھی خوشبومہکنے لگی، بارش نہ ہونے کے
باعث عوام ،چرند پرند پریشان تھے اورپانی کی بوندبوندکو ترس رہے تھے، بارش کے باعث پانی کی کمی بھی پوری ہوئی اور گردوغباربھی بیٹھ گیا ہے۔اس وقت تک کسی نقصان یاسلائنڈنگ کی بھی اطلاعات موصول نہیںہوئی ہیں۔
