حضرت فاطمہ کی سیرت دُنیا بھر کی خواتین کیلئے مشعل راہ ہے، حامد موسوی
باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان کی طرح آزادکشمیر میں بھی عشرہ فاطمیہ کا آغاز ہو گیا۔ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے اعلان کے مطابق عالمی عشرہ عزائے فاطمیہ (24جمادی الاول تا 03جمادی الثانی) کے حوالہ سے مرکزی امام بارگاہ باغ میں بشارت علی جعفری کے زیر اہتمام مجلس عزاء کا انعقاد ہوا۔ مجلس عزاء سے پاکستان سے تشریف لائے ہوئے مہمان علامہ مقصود رضا عابد (فاضل دمشق) نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ الزہرا کی سیرت دُنیا بھر کی خواتین کے لیے مشعل راہ ہے ۔ آپ اپنے شرف و کمال اور فضل و جلال کی وجہ سے دُنیا کی تمام عورتوں پر فوقیت رکھتی ہیں۔ آپ نے پوری زندگی انتہائی سادگی میں بسر کی۔ خوف ِ خدا، اطاعت و عبادت اور عفت و عصمت میں تاریخ عالم حضرت فاطمہ الزہرا کی سی مثال پیش نہیں کر سکتی ۔ علامہ محمد اقبال ساجدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ وہ مقدس ترین خاتون ہیں جنہیں رسالت مآب ۖ نے سید ہ النساء العالمین یعنی عالمین کی عورتوں کی سردار کے لقب سے شرفیاب فرمایا۔اُن کا کہنا تھا کہ طاغوت کی گمراہ کردہ خواتین جنہیں طاغوت نے مادر پدر آزاد ی کی غلط راہ دکھائی ہے اگر اپنے آپ کو سر بلند کرنا چاہتی ہیں تو انہیں خاندان رسالت کی خواتین بالخصوص حضر ت فاطمہ کی خاک پا کو سرمہ بنانا چاہیے۔ خطیب ولایت سید عمران سبزواری نے خطاب کرتے ہوئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر زور دیا کہ وہ بنت رسول ۖ کی سیرت و کردار کو اُجاگر کرنے کے لیے خصوصی پروگرام پیش کریں اور اخبارات میں خصوصی ایڈیشن شائع کیے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام کی محسن ہستیوں کی یاد منانااور سیرت و کردارکو اُجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ حضرت سید ہ فاطمہ الزہرا وہ عظیم ہستی ہیں جن کے والد گرامی رحمت اللعالمین ، شوہر امام مبین ، بیٹے حسن و حسین جوانان ِ جنت کے سردار اور بیٹیاں زینب و کلثوم ہیں جنہوں نے اپنے خطبات سے طاغوت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں ۔ دُنیا نسوانیت اُن کی دلیری پر آج بھی فخر کرتی ہے ۔ مقررین کے خطاب کے بعد ماتمداری کی گئی ۔ دُعا اور لنگر کی تقسیم کے بعد مجلس عزاء کا اختتام ہوا ۔دیگر مقررین میں سید واجد کاظمی ، صادق حسین وانی ، اعجاز حسین شہاب، صغیر حسن انصاری، نجم الحسنین و دیگر نے بھی جناب سیدہ کی بارگاہ میں اپنی حاضری پیش کی۔
