شوپیاں ہلاکتیں؛ فوجی میجر کیخلاف بھارتی سپریم کورٹ نے کارروائی روک دی
نئی دہلی(اے این این ) شوپیان شہری ہلاکتوں کے سلسلے میں فوج کے خلاف درج ایف ائی ار پر کارروائی کرنے پر امتناع جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ارمی میجرکیخلاف قانونی کارروائی پرعبوری روک لگادی۔چیف جسٹس،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے تین رکنی بینچ نے میجرادتیہ کے والدکی دائرکردہ عرضی کومنظورکرتے ہوئے یہ حکم صادرکردیاکہ فوجی افسر کیخلاف پولیس کے درج کردہ ایف ائی ارکی بنیادپرقانونی کارروائی اگلی سماعت تک روک دی جائے۔اسکے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مرکزی اورریاستی سرکارکے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے میں 2ہفتوں میں جواب طلب کیا۔سپریم کورٹ میں جموں وکشمیر کے اسٹینڈنگ کونسل شعیب عالم نے بتایا کہ عدالت عظمی نے مذکورہ ایف ائی ار کے تحت فوجی افیسر کے خلاف کاروائی کرنے اور گرفتاری پر روک لگا دی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایف ائی ار کے تحت تحقیقات جاری رہے گی ۔ادھر عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے سپریم کورٹ کی طرف سے شوپیاں ہلاکتوں میں ملوث میجر ادتیہ کے خلاف درج ایف ائی ار پر روک لگانے کو انتہائی بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے اس سے ان لوگوں کیلئے چشم کشا قرار دیا ہے جو یہاں بیٹھ کر اہل کشمیر کو روز وعظ و نصیحت کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا شوپیاں ہلاکتوں کا واقعہ اگر چہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے لیکن 1989 سے اب تک کشمیر کے ہر حصہ میں اس سے بھی بد ترین واقعات پیش ائے ہیں جہاں بعد میں کسی کے کانوں تک جو بھی نہیں رینگی ۔تاہم اب کی بار ایف ائی ار درج ہونے کے بعد کچھ خوش فہم لوگوں کو یہ اندازہ ہوا تھا کہ شائد نئی دلی کشمیریوں کو انسان سمجھ بیٹھی ہے اور نریندر مودی کے کشمیریوں کو گلے لگانے کے اعلان کی طرف ایک مثبت قدم اٹھایا گیا ہے لیکن جس طرح سے سپریم کورٹ نے ایف ائی ار پر روک لگا دی اس سے یہ بات پھر ثابت ہو گئی کہ بھارت کو اہل کشمیر کے حقوق ، ان کے جان و مال اور ان کی عزت نفس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انجینئر رشید نے میجر ادتیہ کے والد پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ انہیں اپنے بیٹے کا دفاع کرنے کا بھر پور حق حاصل ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے سیاہ کرتوتوں پر انکی واہ واہ بھی کریں لیکن شوپیاں میں ان کے ہاتھوں صائمہ وانی نامی معصوم بچی سمیت پانچ بے گناہ نوجوانوں کے والدین کی بے بسی کا مذاق اڑائیں ۔انجینئر رشید نے ریاستی پولیس کو ایف ائی ار پر روک لگانے کے واقعہ سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں یہ بات سمجھنے کو کہا کہ اپنے ہی لوگوں کو ہندوستانی مفادات کی خاطر ہر روز ذلیل کرنے کے باوجود ان کی اتنی بھی اوقات نہیں کہ وہ فوج کے خلاف ایک ایف ائی ار درج کر سکیں ۔
