پاکستان زندہ باد کے نعروں پر مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ

جموں(اے این این ) پاکستان کے حق میں نعرہ بازی کے معاملہ پرقانون سازیہ کے اندر اور باہر گرما گرمی جاری رہی ۔ بی جے پی اراکین نے ممبر اسمبلی سونہ واری محمد اکبر لون کے خلاف  غداری کے مقدمے کارروائی کا مطالبہ کیا، دوسری طرف نیشنل کانفرنس کا کہنا تھا کہ انہیں کسی کے سرٹفکیٹ کی ضرورت نہیں ۔ اس بیچ کونسل میں بی جے پی ممبران نے ایوان سے واک ائوٹ بھی کیا ۔قانون ساز اسمبلی کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی تو اس دوران بی جے پی ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ممبر اسمبلی سوانہ واری محمد اکبر لون کی طرف سے ایوان میں دئے پاکستان کے حق میں نعرے پر اعتراض جتلاتے ہوئے ان سے صفائی پیش کرنے کا مطالبہ کیا ۔اس پر این سی کے علی محمد ساگر، میاں الطاف ، محمد شفیع اوڑی اور الطاف کلو نے محمد اکبر لون کے دفاع میں اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ ایوان کے ہر ایک ممبر نے آئین اور ملک کی سالمیت اور وقار کی سربلندی کا حلف لیا ہے اور ان میں کوئی دورائے نہیں ہے ۔علی محمد ساگر نے کہا کہ اسپیکر نے بھی ایسے الفاظ کہے جبکہ مرکز میں آپ کے کچھ ایک لیڈران بھی ایسے بیان دیتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات مجرو ح ہوتے ہیں ان کو کیوں کسی نے کچھ نہیں کہا، اس پر دوبارہ بی جے پی ممبران احتجاج کرتے رہے، ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد گریزی نے بیچ بچائو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں ایوان میں کوئی بات ہوئی اور پھر اس بات کو ایوان سے حذف کیا گیا ۔اب کوئی مقصد نہیں ہے کہ اس بات کو دوبارہ سے ہوا دی جائے ،تاہم بی جے پی ممبران مسلسل احتجاج کرتے رہے ۔اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمن ویر ی نے اگرچہ ممبران کو چپ کرانے کی کوشش کی تاہم وہ دوبارہ محمد اکبر لون کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے رہے