مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کا ایک اور فوجی کیمپ پر حملہ،2 اہلکار ہلاک،متعدد یرغمال قیمت پاکستان کو چکاناپڑیگی:بھارت کی دھمکی

سرینگر/جموں (نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف مجاہدین ڈٹ گئے،سنجوان کے بعد کرن نگر کیمپ پر فدائی حملہ ،2 اہلکار ہلاک متعدد کو یرغمال بنا لیا،لڑائی دوسرے روز بھی جاری،بھارتی فوج کی اضافی نفری طلب کر لی گئی،سنجوان کیمپ سے بھی ایک اور اہلکار کی لاش برآمد،مارے جانے والے اہلکاروں کی تعداد7ہو گئی،چار مسلمان اہلکاروں کی وادی میں تدفین ،محبوبہ مفتی اور گورنر کی بھی شرکت،بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھا رامن بھی وادی وارد۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مبینہ مجاہدین بھارتی مظالم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ہیں اور اپنے ساتھیوں کی شہادت کا بدلہ لینا شروع کر دیا ہے ۔سنجوان فوجی کیمپ پر فدائی حملے کے بعد مجاہدین نے کرن نگر فوجی کیمپ پر دھاوا بولا ہے جہاں اب تک 2 فوجی اہلکار مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ حملہ اوروں نے فوجی کیمپ پر قبضہ کر لیا ہے اور اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ہے ۔حکام کے مطابق اب تک ایک اہلکار کی لاش کیمپ سے نکالی گئی ہے جب حملہ اوروں نے کیمپ میں موجود اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔حکام کے مطابق لڑائی دوسرے روز بھی جاری رہی۔اس دوران حملہ اوروں کو کیمپ کے اند محصور کر لیا گیا ہے جبکہ اضافی اور تازہ دم نفری طلب کر لی گئی جو کیمپ کے باہر موجود ہے۔میڈیا کے مطابق کیمپ کے اندر کی صورتحال کا کسی کو کوئی اندازہ نہیں ہے تاہم حملہ اوروں کی طرف سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی جا رہی ہے ۔مجاہدین نے بھارتی فورسز کو کیمپ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے ۔ سی ار پی ایف کا کہنا ہے کہ جس عمارت میں عسکریت پسندوں نے پناہ لی ہے،وہ کنکریٹ ہیں،اس لئے اپریشن میں وقت لگ سکتا ہے۔اس دوران جھڑپ کے مقام کے نزدیک کرن نگر،کاکہ سرائے اور کنہ کدل میں سنگبازی اور ٹیر گیس شلنگ کے واقعات رونما ہوئے۔ مواصلاتی کمپنیوں نے سرینگر میں انٹرنیٹ کی تیز رفتار کو معطل کردی ہے۔صدر اسپتال میں لشکر کمانڈر نوید جٹ کے فرار ہونے کے بعد اسپتال کے نواحی علاقے میں پیر علی الصبح عسکریت پسندوں نے کرن نگر علاقے میں سی ار پی ایف کی23ویں بٹالین پر فدائین حملہ کیا ۔ فورسز ذرائع کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے چار بجے کرن نگر کے سی ار پی ایف کیمپ کے باہر پٹھو بیگ لئے چند افراد کی مشکوک نقل و حرکت نظر ائی،اور ان کے ہاتھوں میں اسلحہ بھی تھا،تاہم جیسے ہی گیٹ پر موجود سیکورٹی اہلکاروں نے دونوںجنگجوئوں کو دیکھا تو اس نے الرٹ کا اعلان کردیا اور پھر فورا ہی فائرنگ شروع ہوگئی۔اس دوران پورے علاقے کے ارد گرد خار دار تار بچھائی گئی اور تمام راستے سیل کردیئے گئے۔ پولیس اورفورسزہلکاروں کی اضافی کمک نے عمارت کو چہار جانب سے سخت ناکہ بندی جاری رکھی تاکہ جنگجوئوں کو فرار ہونے کا موقعہ نہ مل سکے۔ فورسز اور محصور جنگجوئوں کے درمیان ابتدائی فائرنگ کے نتیجہ میں بہار سے تعلق رکھنے والا ایک اہلکار مجاہد خان زخمی ہوا،جو بعد میں زخموں کا تاب نہ لاکر چل بسا۔دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادل جاری رہا،جس میں ایک پولیس کانسٹبل جاوید احمد زخمی ہوا،جس کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق عمارت میں محصور جنگجوئوں اور فورسز و ٹاسک فورس اہلکاروں کی طرف سے جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں دور دور تک گولیوں کی گن گرج اور دھماکوں کی اوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اگر چہ شام کے وقت کچھ دیر کیلئے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا تاہم8بجے کے قریب جائے وقوع پر گولیوں کے کئی رائونڈ چلنے کی اواز پھر سنائی دی۔شام ہونے کے ساتھ ہی اس علاقے میں روشنی کے بڑے قمقمے نصب کئے گئے،تاکہ عسکریت پسند اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوں۔سی ار پی ایف کے ترجمان راجیش یادو نے ایک فورسز اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا جھڑپ جاری ہے،اور ابھی تک کسی بھی جنگجو کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی دریں اثنا بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھارامان نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی کیمپ پر حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کو ان حملوں کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی،تمام شواہد کو جمع کرلیا گیا ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم حملوں کے ثبوت پاکستان کو فراہم کریں گے،ممبئی حملوں کے ذمہ دار اج بھی پاکستان میں ازاد گھوم رہے ہیں۔نئی دہلی میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھارامان نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر حملوں میں کالعدم جیش محمد شامل ہے جبکہ حملہ اوروں کو مقامی طور پر بھی مدد فراہم کی گئی۔بھارتی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس بات کے تمام ثبوت فراہم کریں گے کہ حملہ اوروں کو پاکستان سے مدد فراہم کی گئی، تمام شواہد کو جمع کرلیا گیا ہے اور ہمیشہ کی طرح ہم حملوں کے ثبوت پاکستان کو فراہم کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملوں کے ذمہ دار اج بھی پاکستان میں ازاد گھوم رہے ہیں تاہم پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں فوجی چھانی پر حملوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔علاوہ ازیں لشکر طیبہ چیف محمود شاہ نے سنجواں فوجی کیمپ جموں میں جاں بحق ہونے والے جنگجوئوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ لشکر طیبہ نے سنجواں حملے کی ذمہ داری قطعی قبول نہیں کی۔ترجمان ڈاکٹرعبداللہ غزنوی کی طرف سے موصولہ بیان میں کہا گیا ہے ہم نے صرف جیش محمد کے جاں بحق ہوئے جنگجوئوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔انہوں نے کہاکچھ ویب گاہ اور ادارے اس طرح کی غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں ،اس کو ٹھیک کیا جائے۔کرن نگر سی ار پی ایف کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ترجمان نے کہاہمارے جنگجوئوں نے ہی کرن نگر کارروائی انجام دی ۔انہوں نے گذارش کی ہے کہ لشکر کے افیشل لوگو ان کی خبروں کے ساتھ شائع کیا جائے۔انہوں نے مزیدکہابھارتی فورسز دنیا کی غیر پیشہ وارانہ فورسز ہیں، جو طاقت کے بل بوتے پر فقط نہتے اور معصوم انسانوں کا قتل عام کرنا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ حقیقت ہے جسے بھارت اپنے لوگوں کو بتانا نہیں چاہتا ہے۔
