چیف جسٹس آف پاکستان کو اپنی حدود میں رہنا چاہیئے:فاروق حیدر

اسلام آباد(صباح نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)ازاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، اس لیے چیف جسٹس آف پاکستان ہمارے معاملات بارے تفصیلات ہم سے نہیں پوچھ سکتے۔ سپریم کورٹ آف پاکستا ن نے شاید ہمیں لکھا ہے کہ بتائیں کہ کون سے لوگ دوہری شہریت کے حامل ہیں ۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو خیال رکھنا چاہیے ہم ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے کہ وہ ہمارے معاملات کی تفصیلات مانگیں ۔ یہ تفصیلات حکومت پاکستان ہم سے پوچھ سکتی ہے وہ نہیں پوچھ سکتے ۔ ان کو آئینی حدود کا خیال رکھنا چاہیے ، آزاد کشمیر سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس سے خواہ مخواہ مسائل پیدا ہوتے ہیں، زرا خیال کیا کریں ۔ چیف جسٹس آف پاکستان دیکھیں یہ کیا صورتحال ہے۔ راجا فاروق حیدر نے پی ٹی وی کے پروگرام چو تھا ستون میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 5 فروری کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو آزاد کشمیر حکومت کی کارکردگی پر بریفنگ دینا تھی مگر وقت کی کمی کی وجہ سے فیصلہ ہوا کہ ہم یہ بریفنگ اسلام آباد میں دیں گے ۔ اس طرح کی بریفنگ ہم سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی دے چکے ہیں ۔ ماضی کے معاملات کے حوالہ سے ہی شاہد خاقان عباسی سے گفتگو کی گئی ۔ ہمارے کچھ آئینی مسائل ہیں ۔ ترقیاتی کاموں کے حو لے سے بھی مسائل تھے ۔ ہمارے اپنے بجٹ اور پی ایس ڈی پی کے معاملات تھے ۔ پانی کے استعمال کے چارجز کا معاملہ تھا ہم جو بجلی پیدا کر رہے ہیںپاکستان نے یہ بجلی خریدنی ہے اس کے ریٹ طے کرنا تھے اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد اپنے معاملات چلانے کے لیے 25 ارب روپے خرچ کرنا پڑے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے کوئی بیل آ6ٹ پیکیج دیا جائے تاکہ ہم اس خسارے کو ختم کر سکیں اور آٹھویں این ایف سی ایوارڈ میں ہمارے حقوق کا تحفظ کیسے ہو گا ۔ راجا فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے 10 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ بنایا ہے ۔ اس میں چھ ارب روپے پاکستانی حکومت نے دینے ہیں ۔ سوا تین ارب ہم نے دینے ہیں اور باقی پیسہ ہم نجی شعبہ سے اکٹھا کریں گے تاکہ سیاحت کے شعبہ کو ترقی دی جا سکے ۔ ہم چاہتے ہیں سیاحت کے شعبہ کو دیگر پی ایس ڈی پی منصوبوں کے مقابلہ میں فوقیت دی جائے ۔ ان میں مانسہرہ سے میرپور اور دینہ تک سڑک کو سی پیک منصوبہ میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ اس کے لیے فنڈنگ کا انتظام ہو رہا ہے ۔ مظفر آباد سے اٹھمقام تک سڑک پر دو ٹنل تھے اس حوالہ سے بھی بات ہو گئی ہے ۔ نیلم ویلی میں سڑک بنا رہے ہیں اس میں بنیادی بات یہ بھی تھی کہ سیاحت کو فروغ دیا جائے ۔ راجا فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ہم لاہور ، فیصل آباد اور گوجرانوالہ ڈویژنز کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں قریب پڑتے ہیں ۔ ہم سیاحت کے شعبہ کو ترقی دینا چاہتے ہیں ۔ راجا فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور پاکستان اس مقصد کے لیے درخواست کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان ایل او سی پر فائرنگ ہوتی ہے ہم نے سویلین آبادی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ 1998 ء سے گزشتہ ماہ جنوری تک 900 کے قریب بے گناہ سویلین ایل او سی پر شہید ہو چکے ہیں ۔ 60 کروڑ روپے ہماری جائیدادوں کا نقصان ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے منظوری دے دی ہے جو ایل او سی پر شہید ہو گا اس کو 10 لاکھ روپے دئیے جائیں گے اور زخمیوں کو بھی امداد دی جائے گی ۔ ایل او سی پر بنکرز بنانے کے لیے ہمیں 2 ارب روپے کی ضرورت ہے اور وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہم فراہم کریں گے ۔ فوج اور ہم مل کر اس معاملہ کو طے کر لیں گے ۔ راجا فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ دو دن قبل ریڈیو اسٹیشن مظفر آباد کے لیے 15 کروڑ روپے اور میرپور کے لیے 17 کروڑ روپے منظور کیے گئے ۔
