مسٹ یونیورسی میں بے ضابطگیاں،سفارشی ان،ڈگری ہولڈر آئوٹ،گڈ گورننس کے دعوے ہوائی نکلے

چڑہوئی(تحصیل رپورٹر) مسٹ یونیورسٹی میں بے ضابطگیوں کی انتہا،ڈگریوں کی توہین،سفارشی چھا گئے،گڈ گورننس اور میرٹ لانے کا مسلم لیگی نعرہ کھوکھلا نکلا۔میرٹ کا بول بالا کرنے والوں نے میرٹ کی ایسی کی تیسی کر دی ،میرٹ لسٹ میں پہلے نمبروں پر آنے والوں کو نظر اندازجبکہ اخری نمبروالوں کو سلیکٹ کر لیا گیا وی سی میرپور کی من مانیاں کرپٹ مافیا جیت گیا میرٹ ہار گیا۔میرپور یونیورسٹی اف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں مسلم لیگ ن کی چھتری تلے میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری کی انتہا،اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کے حامل امیدواران نظر انداز۔حکومتی گڈ گورننس کھو کھاتے۔ وائس چانسلر مسٹ کا قریبی عزیز، رجسٹرار مسٹ وارث جرال کا بھانجا ، اور ڈاکٹر مقصود ڈین ارٹس کا حقیقی بھتیجا اعلی پوسٹوں پر تعینات،  ذرائع کے مطابق مسٹ یونیورسٹی میں کچھ دن پہلے 3عدد پرائیویٹ سیکرٹری بی۔16کی خالی اسامیوں کے لیے ٹیسٹ لیے گئے اس میں ٹاپ امیدواران کی بجائے اپنوں کو نوازنے کے لیے میرٹ کی پامالی کی گئی اور اپنی مرضی کا میرٹ تیا ر کیا گیا ۔تحریر ی ٹیسٹ میں ٹاپ تھری امیدوارن کے بجائے 15،16اور 17نمبر پر انے والے امیدواروں کو محض سیاسی اثر و رسوخ اور اقربا پروری کی بنیاد پر نوازا گیا ۔ سول سرونٹس رولز کے مطابق کوئی بھی افیسر اس کمیٹی کا ممبر نہیں بن سکتا جس میں اس کا خونی رشتہ دار بطور امیدوار شامل ہو۔ جبکہ مذکور ہ کمیٹی میں اپنے حقیقی رشتہ دار ہونے کے باوجود جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی سازش اور میرٹ کا قتل عام کرنے کے لیے یہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ محمد وارث جرال رجسٹر ار مسٹ کا بھانجا محمد شعیب بطور امیدوار پرائیویٹ سیکرٹری ٹیسٹ و انٹرویو میں شامل ہوا اور اسے کنٹرولر امتحانات کے ساتھ PSتعینات کیا گیا جو کہ اس اسامی کے لیے مطلوبہ تجربہ کا حامل نہ تھا ۔ اسی طرح ڈاکٹر مقصود احمد ڈین فیکلٹی اف آرٹس کے دو حقیقی رشتہ دار حماد سبحانی اور عبدالحفیظ مصطفی بطور امیدوار پیش ہوئے۔ اور عبدالحفیظ مصطفی جو کہ ڈاکٹر مقصود کا حقیقی بھتیجا ہے کو رجسٹر ار مسٹ کے ساتھ پرائیویٹ سیکرٹری تعینات کیا گیا جو کہ مذکورہ اسامی کے لیے مطلوبہ تجربہ کا حامل نہ ہے دو نمبر ی کی انتہا کی گئی ہے کہ عبدالحفیظ مصطفی  پرائیویٹ سیکرٹری کے لئے ٹیسٹ انٹرویو کے بعد لیب سپروائزر کی پوسٹ پر تقرری کر کے اس پوسٹ کو پرائیویٹ سیکرٹری بنایا گیا ہے یہ شخص پرائیویٹ تجربہ کا حامل ہے اور حساس ادارے سے میڈیکل بورڈ پر پنشن شدہ ہے ۔جبکہ مسٹر مرتضی محمود اور مظہر الحق کی تقرریاں بھی سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہیں اور مرتضی محمود اپنے تعلیمی کیرئیر میں تین تھرڈ ڈویژن (میٹرک تھرڈ ڈویژن، ایف اے ، تھرڈ ڈویژن ، بی اے تھرڈ ڈویژن ) کا حامل ہے۔اور اس کو کمپیوٹر کی الف ب بھی نہیں آتی۔ مظہر الحق بھی تھرڈ ڈویژن پاس ہے اور یونیورسٹی میں بطور اڈیٹر کام کر رہا تھا اور مذکورہ اسامی کے لیے مطلوبہ تجربہ کا حامل نہ ہے اور پرائیویٹ فرم کے تجربہ کے سرٹیفکیٹ پر بھرتی کیا گیا ۔ مسٹر محمد اقبال پرائیویٹ سیکرٹری جو کہ خود پروموٹی ہیں ان کو بد دیانتی اور میرٹ کے قتل عام کے لیے ممبر کمیٹی بنایا گیا تا کہ اپنوں کو نوازا جا سکے ۔مذکور ہ بالا کمیٹی نے میرٹ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنے رشتہ دار وں اور سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں عمل میں لائی ہیں ۔بمطابق میرٹ لسٹ اجراء شدہ مورخہ13-08-2017 درج ذیل امیدواران ٹاپ تھری میں ندیم جنجوعہ ولد محمد شریف رول نمبر 3275، اصف حسین شاہ ولد ارشد حسین شاہ رول نمبر 3279، ظہیر بشیر ولد محمد بشیر رول نمبر 3280ہیں ۔اشتہار صرف تین اسامیوں کا دیا گیا اور چار اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی قبل ازیں مسٹ یونیورسٹی میں اقربا پروری کی بدترین مثالیں قائم کی گئی ہیں ۔جبکہ شنید میں آیا ہے گریڈ 16کی اسامیوں پر تقرریاں گریڈ 17میں کی گئی ہیں ۔معتبر ذرائع سے ایک خبر یہ بھی ہے کہ وائس چانسلر راجہ حبیب الرحمن اور انکی اہلیہ کو مزید من پسند تقرریوں کے عوض ایک سال Extensionبطور تحفہ عنایت فرمائی گئی ہے ۔عوامی حلقوں نے صدر ریاست سردار مسعود خان چانسلر مسٹ یونیورسٹی، راجہ فاروق حید ر خان وزیراعظم ازاد کشمیر، چیف جسٹس ازاد جمو ں و کشمیر ،چیئرمین احتساب بیورو سے مسٹ یونیورسٹی میں  ہونے والی خلاف میرٹ تقرریوں و اقربا پروری کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔