مقبوضہ کشمیر: سرینگر میں پیلٹ سے متاثرہ سینکڑوں افراد کا احتجاجی مظاہرہ

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میںبھارتی فوسز کی پیلٹ فائرنگ سے زخمی ہونے والے سینکڑوں افراد نے سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا اہتمام پیلٹ وکٹمز ویلفیئرٹرسٹ نے کیا تھا۔تفصیلات کے مطابق وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پیلٹ متاثرین میںبینائی سے محروم ہونے والے نوجوان اور لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینرزاور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر پیلٹ متاثرین کی تصاویر کے ساتھ ساتھ ''مہلک ہتھیاروں کا استعمال بند کرو'' اور''آنکھیں بیش قیمتی ہیں'' کے نعرے درج تھے۔احتجاجی مظاہرین میں شامل محمد اشرف نامی ایک متاثر نے کہ انہیںسخت مشکلات سامناہے اور وہ لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پیلٹ متاثرین نے کٹھ پتلی حکومت سے کوئی نو کری یا مالی معاونت حاصل نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری نوکری اور مالی معاونت کی افواہوں کی وجہ سے سماج میںپیلٹ متاثرین کے بارے میںایک غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو حقیقت نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ پیلٹ متاثرین کی تعداد1200 سے زائد ہے جن میں سے صرف12متاثرین کو کٹھ پتلی حکومت نے نوکری دی ہے جبکہ باقی متاثرین کونظرانداز کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں اورکٹھ پتلی حکومت نے ہمیں مکمل طورپر نظرانداز کیا ہے۔ متاثرین نے بتایا کہ کٹھ پتلی حکومت نے انہیں جسمانی طور معذور افراد کے زمرے میں شامل کر نے سے انکارکیا ہے اور ان کے پاس عوامی امداد حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کٹھ پتلی حکومت کے مطابق اسپتال ریکارڈ میں پیلٹ متاثرین کے ناموں کا صحیح اندارج نہیں ہوا ہے جبکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کن لوگوں کی بینائی چلی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں محبوبہ مفتی کی زیر قیادت کٹھ پتلی حکومت سے کوئی امید نہیں ہے۔